(گزشتہ سے پیوستہ)
خلیجی ممالک پردبامیں اضافہ کرکے سعودی عرب،عمان،قطرجیسے ممالک پرزوربڑھایاجائے گاکہ وہ اسرائیل سے تعلقات بحال کریں تاکہ یورپ اوردیگر ممالک کی طرف سے فلسطین کوتسلیم کرنے کا’’اثر‘‘زائل ہو۔
امریکافلسطین کے معاملے پرخلیجی ممالک سعودی عرب،عمان،قطرپردبابڑھائے گاکہ وہ فلسطین کے حق میں بیانات سے گریز کریں اسرائیل سے تعاون جاری رکھیں(بالخصوص انٹیلی جنس،سائبرٹیک، ہتھیار) اورفلسطینی مزاحمت پرکھل کرتنقیدکریں مگریہ ممکنہ رکاوٹیں، یورپ کی طرف سے فلسطینی ریاست کی حمایت کے بعد خلیجی حکومتوں پراپنے عوامی دباؤکا سامنابڑھ جائے گا۔ اگرسعودی عرب فلسطین کوچھوڑکراسرائیل سے تعلقات قائم کرتاہے تواس کی قائدانہ حیثیت کوزک پہنچ سکتی ہے اوریہ خلیجی ممالک کے لئے ایساامتحان ہوگاجوان کے مستقبل کافیصلہ بھی کرسکتاہے۔
ادھر امریکا میں متعدد بااثر یہودی تنظیمیں سرگرم ہیں، جیسے امریکن اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی، اینٹی ڈیفیمیشن لیگ،( جنسا) امریکاکے قومی سلامتی کے لئے یہودی ادارہ اور کرسچن یونائیٹڈ فار اسرائیل اوردیگرطاقتورگروہ یورپی فیصلے کوروکنے یاکم ازکم بے اثربنانے کے لئے متحرک ہوچکے ہیں۔وہ ایک طرف میڈیاپراثرڈال رہے ہیں اوردوسری طرف امریکی پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ فلسطینی ریاست کی مخالفت جاری رکھیں۔ان تنظیموں کی طرف سے شدید رد عمل کے طورپر:
اسرائیل نوازیہودی لابیوں کی طرف سے امریکی کانگریس اور سینیٹ میں قراردادیں لائی جا سکتی ہیں جن میں یورپی ممالک کے اقدام کی مذمت ہو۔
عالمی میڈیا پراثراندازہونے کے لئے ایک بھرپورمہم کے ذریعے سی این این،فاکس نیوز، نیویارک ٹائمزاوردیگربڑے میڈیااداروں میں فلسطین کی تسلیمیت کویکطرفہ فیصلہ یا دہشت گردوں کی جیت کے طورپرپیش کیاجاسکتاہے۔
امریکی سیاسی امیدواروں پردباکے لئے آئندہ انتخابات میں وہی امیدوارکامیاب ہوں گے جواسرائیل کی غیرمشروط حمایت کاعہد کریں گے۔
یہ گروہ،یورپی ممالک کے ساتھ دفاعی شراکتوں خاص طورپرنیٹوکے اندراثرڈالنے کی کوشش کرسکتے ہیں اوریورپی سرمایہ کاری اوردفاعی معاہدوں کوچیلنج کیاجاسکتاہے۔
تاہم زمینی حقائق اب تبدیل ہوچکے ہیں۔ فلسطینی عوام اب صرف راکٹ یاپتھرکے ذریعے نہیں، بلکہ قانون،سفارتکاری اورعالمی رائے عامہ کی قوت سے اپنی شناخت منوانے نکلے ہیں۔اسرائیل کو اب انتخاب کرناہوگایاتووہ دوریاستی حل قبول کرے، یا پھرجنوبی افریقاکے سابق نسل پرست نظام کی طرح ایک برابرکے حقوق پرمبنی ریاست کی طرف قدم بڑھائے ،جہاں یہودیوں اورفلسطینیوں کومساوی شہری حیثیت حاصل ہو۔فلسطینیوں کاخون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اگر اسرائیل ایک مساوی ریاست کی طرف قدم نہیں بڑھاتا توعالمی دباؤ کی شدت اسے اسی طرح جھکنے پرمجبورکرے گی،جیسے جنوبی افریقاکی نسل پرست حکومت نے آخرکار ہتھیارڈال دیئے تھے۔ایک دن ایساضرورآئے گاجب فلسطینی اوراسرائیلی ایک ہی ریاست میں برابری کی بنیادپرسانس لیں گےاورتب غزہ، سوویٹوکی طرح، آزادی کااستعارہ بن کرابھرے گا۔
فرانس،اسپین،آئرلینڈ،ناروے،بیلجیم اوردیگرممالک کی طرف سے فلسطین کوباضابطہ ریاست تسلیم کرنا،ابراہیمی معاہدوں کی روح کے برعکس ایک بڑا سفارتی جھٹکاہے۔یورپی اقدامات کامطلب اسرائیلی مظالم پربراہِ راست بین الاقوامی مذمت کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کو قانونی واخلاقی جوازفراہم کرنابھی ہے۔ یورپ کے اس عمل پرجہاں امریکاکی یکطرفہ پالیسیوں کےخلاف یورپی مزاحمت کا اظہار ہوتا ہےوہاں خلیجی اور دیگر مسلم ممالک کے اسرائیل سے تعلقات پراخلاقی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیایہ بھی دیکھ رہی ہے کہ اسرائیلی دائیں بازوکی اندرونی سیاست انتہاپسندی کی طرف تیزی سے مائل ہورہی ہے۔مغربی کنارے میں نئی بستیاں،غزہ کامسلسل محاصرہ،اوربیت المقدس کی مسلسل یہودکاری نہ صرف امن کے امکانات کوزہرآلودکررہےہیں بلکہ عالمی حمایت سے بھی ہاتھ دھلارہے ہیں۔
یورپ کاحالیہ اقدام ثابت کرتاہے کہ عالمی سفارتکاری میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیادرکھ دی گئی ہے۔سوال اب یہ نہیں کہ فلسطینیوں کوریاست کاحق دیاجائے گایانہیں،بلکہ یہ ہے کہ کب اورکس قیمت پر۔ امریکا،اسرائیل اوران کے اتحادی اگرواقعی امن کے خواہاں ہیں توانہیں اب مظلوم کی آوازسننی ہوگی۔فلسطین کی عالمی تسلیمیت محض ایک سفارتی اقدام نہیں ، یہ صدیوں سے جاری استبدادکے خلاف انصاف کی پہلی شعاع ہے۔اگر یورپ کایہ قدم مزیدممالک کی حوصلہ افزائی کرتاہے،تواسرائیل کواپنی نسل پرستانہ پالیسیوں پرنظرثانی کرنی ہوگی۔ورنہ عالمی بائیکاٹ،اخلاقی تنہائی اورسفارتی دباؤکی شدت میں اضافہ ناگزیر ہے۔
یہ وقت ہے کہ دنیا صرف تماشائی نہ بنے،بلکہ انسانیت کے حق میں،قانون کے تقاضوں کے مطابق اورمظلوموں کی حمایت میں ایک واضح اور مؤثرمؤقف اپنائے۔شایدفلسطینی ماں کی آنکھیں کسی روشن کل کا خواب پھرسے دیکھنے لگیں۔فلسطین اب صرف ایک مظلوم قوم کانام نہیں،بلکہ انصاف،مزاحمت اور اصولوں کی علامت بن چکاہےاورجس طرح جنوبی افریقا میں نسل پرستی دم توڑگئی تھی،اسی طرح اسرائیل کی نسل پرست پالیسیاں بھی تاریخ کے کوڑے دان کی نذرہونے والی ہیں۔ فلسطینیوں کاخون شایدسستاسمجھاگیاہو،مگراب وہ عالمی ضمیرکی دہلیزپرسوال بن کرکھڑاہے اورتب تک اس جرم سے رہائی نہیں ملے گی جب تک یہودوہنودکے مجرمانہ ضمیرکوان کے انجام تک نہ پہنچایاجائے۔
حق وانصاف کی شمع جوفلسطین کے آسمان پرروشن ہوئی ہے،اس کانوراب گہری تاریکیوں میں بھی گم نہیں ہوسکتا۔یہ روشنی صرف سیاسی بیان بازی یاجغرافیائی حدبندی کامسئلہ نہیں، بلکہ ایک عالمگیرجذبہ ہے جوانسانیت کے ضمیرکو جھنجھوڑ دیتاہے۔ وہی ضمیرجو تاریخ کے طوفانوں میں صدیوں سے خموشی اختیارکیے ہوئے تھا،اب نعرہ حق بلند کر رہا ہے:
اورجوشخص جان بوجھ کرکسی مؤمن کوقتل کرے تواس کی جزاجہنم ہے۔(النسا:93 )
یہ مقدس آیت ہرظلم وستم کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے۔
یہ وہی فلسطین ہےجہاں نہتے بچوں کی معصوم ہنسیوں کوگولیوں نے خاموش کردیا،جہاں ماں کی فریادیں گونجتی ہیں اورپتھروں کی زبان بولتی ہے مگرآج کے دورکے مجاہدنہ صرف فائرنگ کی لڑائی لڑرہے ہیں،بلکہ عالمی عدالتوں، سفارتی میدانوں اورصحافت کے محاذ پر بھی وہی جذبہ شہادت لئے لڑرہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وجبرکی دیواریں تباہی کے رستے پرگرتی ہیں،چاہے وہ جنوبی افریقہ کی نسل پرستی ہویافلسطین کی زمین پرپھیلایہ ظالمانہ قبضہ۔
یادرکھیں:عدل وانصاف کی صبحِ ظہور میں، فلسطین محض ایک مسندِ دکھ ورنج نہیں، بلکہ صبرواستقامت، حق وصداقت اورربانی صبرکی جاوداں علامت بن چکاہے۔اس کے شہدا کا لہو فراموش شدہ نہیں،بلکہ قربانی کی سیاہی سے تاریخ کے اوراق پرلکھاگیاایک مقدس عہد ہے۔جیساکہ قرآن مجید میں فرمانِ حق ہے:
نہ ان کے مال ہی اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام آئیں گے اورنہ ان کی اولاد،وہی دوزخ والے ہیں،اس میں ہمیشہ رہیں گے(مجادلہ:17)
پس یہ روح کی پاکیزگی،حق کی سربلندی اور عوام کی جرات وہ ثقل ہیں جوتاریخ کے ترازو پربھاری ہوں گے۔ممالک وملتوں کی نظروں میں فلسطینی جدوجہدکے حقائق کی پردہ داری ممکن نہیں رہی۔جس طرح ماضی میں جنوبی افریقہ کے نسلی تعصب کے خلاف تحریک نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑا،آج بھی عالمی شعورکوبیدارکررہی ہے۔سوال محض یہ نہیں کہ فلسطین کو ریاست کاحق دیاجائے یانہیں،بلکہ یہ ہے کہ کب اورکس قیمت پرانصاف قائم ہوگا۔فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونا،انسانیت،سیاست اوراخلاق کاامتحان ہے،جوریاستوں کے لئے نہیں،بلکہ پوری دنیاکے ضمیرکے لئے ہے۔
یہ وقت ہےکہ دنیاکے حکمران،جن کے ہاتھوں میں دنیاکے تقدیرکے فیصلے ہیں،حق کی صدا سنیں اوراپنے ضمیروں کوجگائیں۔اب راہ صرف انصاف کی ہے،دوریاستوں کی مساوات یاایک مشترکہ وطن کی امید،جہاں ہرانسان کواس کی انسانیت کے مطابق مقام ملے۔ورنہ وہی انجام ہوگاجوپہلے ہوا،جب ظلم کی دیواریں گرگئیں اورآزادی کی کرنیں پھوٹیں۔یہی وہ وقت ہے جب اسلام کی اعلی تعلیمات،جوبرابری،عدل اورامن کی بنیادہیں،دنیاکی سیاست میں روشنی بن کر چمکیں۔قرآن کی حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ:
اور انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔(النجم:39)
فلسطینی قوم کی یہ جدوجہد،چاہے جغرافیائی ہویاسیاسی،محض ایک قوم کی کوشش نہیں،بلکہ عالم انسانیت کی کوشش ہے،ظلم کے خلاف ایک آوازہے جو دیواروں اورسرحدوں سےبالاترہے۔آج جہاں طاقتوروں کےدرمیاں سازشیں اورتضادات عروج پر ہیں، وہاں دنیاکوچاہیے کہ وہ بےنیازی کالباس اتارکر حق و انصاف کےلئے کھڑے ہوں۔رستہ کٹھن ہے ،ماضی کی گونج ابھی کانوں میں ہے،مگرروشنی کی کرن ضرورآنی ہے۔ہر مظلوم ماں کی آنکھوں میں وہی خواب پل رہاہےجس کی تعبیرانصاف ہے۔فلسطین صرف ایک قوم کانام نہیں بلکہ وہ چراغ ہے جوظلمت کومٹانے،عدل قائم کرنےاورحق کی سربلندی کاپیغام لیےکھڑاہے۔جس طرح جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کاخاتمہ ہوا،ویسے ہی اسرائیل کی نسل پرست پالیسیاں بھی تاریخ کے کوڑےدان میں گرتی جائیں گی۔ فلسطینیوں کاخون سستے داموں نہیں بکے گا؛وہ آج دنیاکے ضمیرپرایک سوال بن کرکھڑا ہے اورجب تک ان مظالم کے مجرموں کوان کے انجام تک نہیں پہنچایاجاتا،یہ جرم معاف نہیں ہوگا۔
یقیناًتاریخ ظالموں کومعاف نہیں کرتی اورایک دن ظلم کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں جب عالمی ضمیرجاگ اٹھتاہے۔ فلسطین کی جدوجہد،جس کی جڑیں ایمان،حریت اورحق کے اصولوں میں پیوست ہیں،نہ صرف خطےبلکہ عالم انسانیت کے لئے ایک روشنی ہے،ایک صدائے احتجاج ہے،جوظلم کی ہردیوارکوگرانے کاعزم رکھتی ہے۔