Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستانی اجالا۔۔۔۔۔بھارتی اندھیرا

جب قومیں خواب دیکھتی ہیں،توان کے خوابوں کی تعبیرکاسفرخون،قربانی،اور ایمان کی راہوں سے گزرتاہے۔پاکستان ایک ایساہی خواب تھاایک نظریہ، ایک کلمہ،ایک اذان، جو صدیوں کی محکومی کے بعدآسمانِ ہندپرچمکا۔یہ وہ سرزمین ہے جولالہ لااللہ کے نام پر معرضِ وجودمیں آئی؛جہاں نہ اقتدارکی ہوس کوغالب ہوناتھا،نہ قوم کے نظریے پرسودے بازی ہونی تھی۔ مگرصد افسوس! ہم نے اس خواب کی تعبیرکونہ صرف فراموش کیا،بلکہ اسے اپنے سیاسی وعسکری مفادات کی نذرکردیا ۔ ہماراقبلہ اگر خالص محمدی سیاست ہوتی،جہاں عدل، شورائیت اور احتساب کاغلبہ ہوتا،تونہ آج جمہوریت سسکتی،نہ آمریت سینہ تان کرچلتی۔تاریخ کی گواہی ہے کہ جب قومیں اپنے نظرئیے سے روگردانی کرتی ہیں تونہ صرف زوال ان کامقدربنتاہے،بلکہ ان کے دشمن بھی ان کے خوابوں کے مزارپرجشن مناتے ہیں۔
کبھی کبھی اقوامِ عالم کی تاریخ میں ایسے ابواب کھلتے ہیں جن کی روشنائی خونِ دل سے لکھی جاتی ہے اورجن کے الفاظ وقت کے صفحات پرقیامت تک ثبت رہتے ہیں۔پاکستان بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہیجغرافیہ میں شایدنئی،مگرتاریخ کے شعورمیں صدیوں کی گونج رکھتی ہوئی۔یہ مملکت خدادادبرصغیرکی تقسیم کے اس لمح نازک کی پیداوارہے جس نے نہ صرف تہذیبوں کو منقسم کیابلکہ ذہنوں،خوابوں،اورامیدوں کوبھی دوقومی نظریے کی شمع پرمجتمع کردیا۔
برصغیرکی تقسیم محض جغرافیائی لکیروں کی درستگی نہ تھی،بلکہ تہذیبوں کاایک بڑادھچکا تھی۔14اگست 1947ء کوجب پاکستان کا سورج طلوع ہوا،تواس کی کرنوں میں مسلمانوں کی صدیوں پرمحیط جدوجہدکی جھلک تھی۔یہ وہ وقت تھاجب برطانوی سامراج کی کمزورہوتی گرفت اورہندواکثریت کی غلبے کی خواہش کے مابین مسلمانوں کوایک علیحدہ سیاسی تشخص کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔قائداعظم محمد علی جناحؒ کے الفاظ میں پاکستان اسی دن وجودمیں آگیاتھاجب پہلاہندومسلمان ہوا۔
مگرسوال یہ ہے کہ جس نظریے کے تحت یہ ملک قائم ہوا،کیاریاست نے اس کی روح کواپنے نظام میں جذب کیا؟پاکستان میں تاریخ کی الٹی بہتی ندی کاسیاسی مطالعہ کیاجائے تو ارضِ پاکستان کواسلامی جمہوریہ کالقب تودیاگیا،مگرنہ اسلامی نظام مکمل نافذہوا،نہ جمہورکی آواز کو مکمل حقِ نمائندگی ملا۔یہاں جمہوریت کاحال نوخیز پودے کی مانندرہاجسے ہربار اقتدارکے طوفانوں نے جڑسے اکھاڑنے کی کوشش کی۔
مگرسوال یہ ہے کہ جس جمہوری خواب کو بانیانِ پاکستان نے تعبیرکی خلعت پہنانے کی آرزو کی،وہ خواب کیاوقت کی گردمیں دھندلانہ گیا؟ہماری سیاسی تاریخ تویوں ہے کہ جمہوریت کاسورج جب بھی طلوع ہونے کوہوتاہے،افق پرآمریت کی گھٹائیں چھا جاتی ہیں،اورجب آمریت کے سائے درازہوجاتے ہیں،توخلقِ خداجمہورکے دیے جلانے نکل پڑتی ہے۔ گویا پاکستان کی سیاسی فضا ایک ایسے شجرکی مانندہے جس کی ایک شاخ پرجمہوریت کے پرندے چہچہاتے ہیں اوردوسری پرآمریت کے الوبیٹھے رہتے ہیں۔
اکیسویں صدی کی دہلیزپرقدم رکھتے ہوئے جب اقوامِ عالم ترقی،تحقیق،اورتہذیب کی نئی منزلوں کی تلاش میں کوشاں تھیں،ہمارا پاکستان چارعسکری حکومتوں کے تجربے سے گزر چکا تھا۔یہ کیساعجب مقام ہے جہاں آمریت بار بار جمہوریت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور جمہوریت، آمریت کی آغوش میں پناہ لینے پرمجبوردکھائی دیتی ہے؟یہ ایسی سیاسی سرزمین ہے جہاں ’’بدترین منتخب حکمران بہترین آمرسے بہترہے‘‘ کافلسفہ دلوں میں بسایاگیا،حتی کہ جب کرپشن، اقرباپروری اورسول آمریت کے دھارے بہنے لگے، تب بھی جمہورکے ٹھیکیداراپنی بانہیں کھولے کھڑے رہے۔
حیرت یہ نہیں کہ یہاں سیاستدان کاروباری بنے اورآمریت نے جمہوری لبادہ اوڑھا،تعجب تواس پرہے کہ عوام نے ان دونوں کی ریا کاریوں کوبھی مصلحتِ وقت کہہ کرقبول کیا۔ سیاست کے بازارمیں جب بولی لگتی ہے توہرامیدوارعوامی خدمت کاجامہ پہنے دکھائی دیتاہے، مگر دل میں اقتدارکی حرص کازہرہوتاہے۔جمہوری اپوزیشن اگرحکومت کے چہرے سے نقاب ہٹانے کا دعویٰ کرتی ہے،تو یہی اپوزیشن کبھی فوجی آمریت کویادکرکے گویااس کی گودمیں پناہ لینے کے لئے بے تاب دکھائی دیتی ہے۔ پھر جب آمریت کے سائے طویل ہونے لگیں تو الیکشن کو مسائل کاواحدحل قراردے کر ’’فرشتے ــاور ’’لٹیرے‘‘ یکجا ہوکرجمہوریت کی اذانیں بلندکرتے ہیں۔ یہ پاکستان ہے جہاں سیاستدان تجارت کرتے ہیں اورفوج سیاست ۔جہاں ووٹ بینک بنانے کے لئے مذہب کو بازارکی جنس بنایاجاتاہے ،اورجہاں’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ حکومت کاسایہ بن کرباری کے انتظارمیں بیٹھی رہتی ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کاتصوراکثرخاندانی سیاست،اقرباپروری،اورانتخابی دھاندلی کے زیرِسایہ پروان چڑھاہے۔عوام کی رائے کے نام پروہی چہرے باربار مسندِاقتدار پرفائز ہوتے ہیں جوالیکشن جیتنے کی سائنس میں ماہرہیں،نہ کہ خدمتِ خلق کے جذبے میں۔ جمہوریت عوام کی حکومت،عوام کے ذریعے، عوام کیلئیہونی چاہیے لیکن ہمارے ہاں یہ اکثر اشرافیہ کی حکومت،دولت کے ذریعے،اوراپنے خاندان کے لئے بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن باری کی منتظررہتی ہے،حکومت طاقت کے نشے میں شوریدہ ہوجاتی ہے اور ریاست کی اصل روح جمہوری تجربے کی تلخیوں کی داستان بن کرہمیں پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ یہاں جمہوریت برائے اقتدارکانام ہے نہ کہ برائے عوام!
پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت اورآمریت کی کشمکش ایک نیم روشن نیم تاریک کہانی ہے۔ ہربار ’’نجات دہندہ‘‘کے روپ میں نمودارہونے والی یہ آمریتیں بالآخرقوم کومزید تقسیم ،ادارہ جاتی کمزوری اورعالمی تنہائی کی جانب لے گئیں۔المیہ یہ ہے کہ ہر فوجی اقتدارکوسیاسی اشرافیہ،عدلیہ،اوربعض اوقات صحافت کی مددبھی حاصل رہی۔
پاکستان کی تاریخ میں فوجی آمریتیں یوں سایہ فگن رہیں جیسے وقت کے فرعونوں نے اقتدارکی لاٹھی سے قوم کے شعورکودبانے کی کوشش کی ہو۔ایک کے بعدایک جنرل نے قومی مفاد استحکامِ ریاست اورجمہوری کمزوری جیسے نعروں کوجوازبناکر عوامی مینڈیٹ کوپامال کیا،اورپھرانہی نعروں کے سائے میں آئین کوتوڑا، سیاسی جماعتوں کوبانٹا،اورشخصی اقتدارکوادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا۔جنرل ایوب کی بنیادی جمہوریت ہویاضیاء الحق کی اسلامائزیشن،یاپھرپرویزمشرف کاروشن خیال اعتدال ،سب نے قوم کوایک قدم آگے اوردوقدم پیچھے دھکیلنے کی پالیسی اپنائی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیافوجی آمریت نے عوام کے اندراعتماد پیداکیایاصرف اداروں کوطاقتور بنایا ؟ تاریخ بتاتی ہے کہ آمریتیں اپنے ساتھ صرف وقتی نظم وضبط لاتی ہیں،دیرپاترقی نہیں۔
یہی تجربہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے اندر جاری علیحدگی پسندتحریکوں سے بھی واضح ہوتاہے۔ بھارت کی جمہوریت کابھرم درحقیقت ایک ایسی چادرہے جس کے نیچے خالصتان کی للکار،ناگالینڈ اورمنی پورکی آزادی کی چیخیں،نکسل باڑیوں کی بغاوت، اورمقبوضہ کشمیرکی اذانیں برسوں سے گونج رہی ہیں۔بھارت جنہیں ’’اندرونی معاملات ‘‘کہہ کردباناچاہتا ہے، درحقیقت وہی تحریکیں اس کی نام نہاداکثریتی جمہوریت کی کمزوری کااعلان ہیں۔یہ شوریدہ سرآوازیں آج دہلی کی دہلیزپرسوال بن کرکھڑی ہیں کہ:جس بھارت نے پاکستان کوعدم استحکام کاشکار کرنے کی پالیسی اپنائی،کیاوہ خودداخلی انتشارسے محفوظ رہے گا؟آج اگرپاکستان اپنے دشمن کے زخموں کوبے نقاب کرے،توبھارت کی ’’اتحادکی اکائی‘‘ریت کی دیواربن کربکھرسکتی ہے۔
تاہم اگرپاکستان میں آمریت کی چالاکیاں اورسیاست کی مکاری پاکستان کی سیاست کاایک رخ ہیں تو دوسری طرف اس قوم کی وہ تحریکات، صحافت،اورسول سوسائٹی کی وہ جمہوریت کااصل ہتھیارقوتیں بھی ہیں جنہوں نے آزادی صحافت،آئینی بالادستی،اور شہری آزادیوں کے لئے قربانیاں دیں۔مثلاً1977ء کی تحریکِ نظام مصطفی،1983ء کی ایم آرڈی(تحریک بحالی جمہوریت)2007ء کی وکلاتحریک اورحال ہی میں 2014ء کی سول ملٹری کشمکش کے خلاف تحریکیں،یہ سب دراصل اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستانی معاشرہ مردہ نہیں،بلکہ ہردورمیں کوئی نہ کوئی قافلہ حق کے لئے برسرِپیکارہوتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں