(گزشتہ سے پیوستہ)
عالمی آزاد مالیاتی اداروں کی رپورٹ نے بھارتی معاشی خوش فہمی کابھانڈہ بیچ بازارمیں پھوڑتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے معاشی دعوے بھی کاغذی ہیں۔پانچ سوارب ڈالر سے زائد کے بیرونی قرضے بھارت کی گردن پرسوار ہیں۔377ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر دراصل 8 فیصد سود پر لئے گئے بینک قرضے ہیں۔یہ معاشی ترقی نہیں،مالیاتی خودکشی کی چالاکی سے پردہ پوشی ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں عسکری کھوکھلا پن اورجنگی شرمندگیاں بھی سامنے آگئی ہیں۔ یادرہے کہ کارگل جنگ میں بھارت کے این اے 32 طیارے گراؤنڈہوچکے ہیں۔بوفورز توپیں ناکارہ ہوچکی ہیں۔ یوکرین سےمہنگے معاہدے اورناقص ہتھیاروں کی خریداری نے بھارتی افواج کی پیشہ ورانہ حیثیت پر سوالات اٹھادئیے ہیں۔
جس بھارت کو’’عظیم جمہوریت‘‘ کہا جاتا ہے وہ اندرسے غربت،جہالت،بدحالی،اوربغاوت سے بھری ہوئی ایک ٹوٹتی ہوئی یونین ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعدفریب کاپردہ چاک ہوچکاہے یہ بات ناقابلِ تردیدہوچکی ہے کہ پاکستان کاانڈیا سے علیحدہ ہونانہ صرف درست تھابلکہ ضروری بھی۔
آج جولوگ ہم بھارت سے پیچھے کیوں ہیں؟ کہہ کرروتے ہیں،وہ صرف بھارتی فلموں کے رنگین پردے دیکھتے ہیں،وہ ان فٹ پاتھوں کونہیں دیکھتے جہاں انسان نہیں،بھارتی جمہوریت کاجنازہ بستاہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ایسے افراد تاریخی حوالے سے خودسے ایک سوال ضرورپوچھیں کہ اگرپاکستان نہ بنتاتوکیاآج ہم بھی چوہے کھارہے ہوتے؟ کیاہم بھی بیٹیوں کو پیدا ہونے سے پہلے قتل کررہے ہوتے؟کیاہمارے گائوں کے باہربھی لکھاہوتاکہ یہاں گردہ برائے فروخت ہے۔پاکستان میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے، الحمدللہ۔ ہم نے الگ ریاست صرف اس لیے نہیں بنائی تھی کہ ہماری زمین الگ ہو،بلکہ اس لیے بنائی تھی کہ ہماراضمیر،نظام، تہذیب،اورروح زندہ رہیں۔
تاریخ ہمیشہ بے رحم ہوتی ہے۔وہ ان اقوام کو معاف نہیں کرتی جواپنی اساس کوفراموش کر دیں۔ ہمیں یادرکھناہوگاکہ پاکستان کوئی جغرافیائی حادثہ نہ تھا،بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیرکی صداتھی، ایک ایسی پکارجس نے لاکھوں مسلمانوں کوہجرت پر مجبورکیا، ماں کی گودیں اجڑیں،قافلے لٹ گئے، مگر نظریہ سلامت رہا۔آج اگر ہم نے اس نظریے کوخود اپنے ہاتھوں سے دفن کردیا، تونہ دشمن کی سازشیں رکیں گی،نہ ہماری زبوں حالی کاسلسلہ تھمے گا۔ہمیں واپس اسی راستے پرآناہے جہاں عدل فاروقی، شجاعتِ حیدری،صدقِ صدیقی اور علمِ حسینی ہماری سیاست کاستون ہو۔
پاکستان کواب فیصلہ کرناہے کیاہم اداروں کی بالادستی،آئین کی حکمرانی،اورسیاسی شفافیت کو راستہ دیں گے؟یاپھرہم اس دائرے میں گھومتے رہیں گے۔ قوموں کی زندگی میں وہی لمحے قیمتی ہوتے ہیں جوانہیں اپنی تاریخ سے سبق لینے پر آمادہ کریں۔اب یہ لمحہ آچکاہے،اگرہم نے سیکھا نہ، توتاریخ ہمیں بارباروہی اسباق دہراتی رہے گی جوہم پڑھنانہیں چاہتے۔ہمیں یہ سمجھناہوگاکہ قومیں ٹینکوں سے نہیں، تعلیم، عدل اور اتحادسے بنتی ہیں اوراگرہم نے یہی سبق آج نہ سیکھا تو تاریخ کل ہمیں ان قوموں میں شمارکرے گی جنہوں نے چراغ لے کر اپناہی گھرجلادیا۔وقت کی دہلیزپر کھڑا پاکستان ہمیں آوازدے رہاہے لوگو!تم زمین پرعدل قائم کرو،ورنہ آسمان سے انصاف اترے گااورپھرنہ تاج بچے گا،نہ تخت ۔
یہ وقت تاریخ کے آئینے میں وہ لمحہ ہے جب تقدیرکی ساعتیں قوموں کے نصیب بدلنے کااعلان کرتی ہیں۔حالیہ پاک بھارت معرکہ کوئی معمولی سرحدی جھڑپ نہ تھی،بلکہ یہ ایک معرکہ حق وباطل کی مانند تھاجہاں ایک طرف تکبرمیں ڈوباہوا بھارت اپنی عسکری وسیاسی برتری کا خواب لیے حملہ آورہوا اور دوسری طرف پاکستان تھا،جس کی بنیاد’’کلمہ طیبہ ‘‘پر رکھی گئی،اورجس کی خاک میں شہدء اکے لہوکی مہک بستی ہے۔
یہ جنگ پاکستان کے لئے محض ایک دفاعی کوشش نہ تھی بلکہ ایک پیغام تھی ایک نئی،خوددار، عسکری وسیاسی حقیقت کاظہور،جب دنیانے دیکھا کہ پاکستان نے نہ صرف جارحیت کومؤثر دفاعی حکمت عملی سے پسپاکیا بلکہ عالمی سطح پرجنگی اخلاقیات، اسٹریٹجک تحمل،اورپیشہ ورانہ عسکری صلاحیت کاوہ مظاہرہ کیاجس نے بہت سے مغربی عسکری تجزیہ نگاروں کوسوچنے پر مجبورکردیا۔
تاہم یہ تسلیم کرناہوگاکہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے جس وقار،حکمت وصلاحیت، ذمہ داری اور صبروتحمل سے میدانِ عمل اورسفارت دونوں محاذوں پر قیادت کی،وہ نئی عسکری قیادت کے ایک معتدل،پیشہ ور اور ویژنری چہرے کی مظہرتھی۔یہ قیادت نہ صرف ملکی دفاع کے لئے پرعزم ہے بلکہ علاقائی توازنِ طاقت اور بین الاقوامی عسکری توازن میں پاکستان کوایک اہم فریق کے طورپرآگے لارہی ہے۔آج پاکستان کی فوج صرف جنگی قوت نہیں،بلکہ سفارتی فہم، ٹیکنالوجی، اورسی پیک جیسے کثیرالجہتی منصوبوں کی سکیورٹی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ایران،چین اورعالمی بیانیہ کی تبدیلی کایہ سفراسی وقت کامیاب ہوسکتاتھاجب عسکری حکمتِ عملی کوخارجہ پالیسی کی پشت پناہی حاصل ہو۔شائد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارایساہوا ہے کہ ایران جیسے عظیم ہمسایہ اورنظریاتی حلیف نے نہ صرف ایرانی پارلیمان میں”پاکستان زندہ باد”کے نعرے لگائے بلکہ خودایرانی صدرنے اپنی صدارت کاپہلاغیرملکی دورہ پاکستان کومنتخب کیا۔ یہ کوئی رسمی سفرنہ تھا،بلکہ اسلامی اخوت،جغرافیائی اشتراک، اورعسکری ہم آہنگی کی ایک نئی تاریخ کاآغازتھا۔ ایرانی صدرکا یہ بیان’’ہم پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،جیساکہ بھائی بھائی کے لئے کھڑاہوتا ہے‘‘اس بات کااعلان ہے کہ مسلم دنیامیں اتحادکی شروعات مشرق سے ہورہی ہے۔
دوسری جانب چین کے ساتھ پاکستان کا دفاعی، معاشی اوراسٹریٹیجک اتحادنئی بلندیوں کوچھو رہا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف،وزیرِ اعظم اوردیگرکلیدی رہنماؤں کے چین کے حالیہ دورے اس بات کا غمازہیں کہ پاک چین اشتراک صرف ایک سڑک یابندرگاہ کا منصوبہ نہیں رہابلکہ ایک علاقائی توازنِ طاقت کاضامن بن چکاہے۔چین نے نہ صرف پاکستانی مؤقف کی حمایت کی،بلکہ ہائبرڈ جنگ، سائبرسکیورٹی،اورجدیدعسکری ٹیکنالوجی میں پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجیکل شراکت کی بنیادبھی رکھ دی ہے۔ مستقبل میں یہ اتحادجنوبی ایشیاء میں امن وطاقت کا نیا مرکزبن سکتاہے۔
اسلامی تاریخ میں وہ لمحے ہمیشہ سنہری رہے ہیں جب عسکری قوت محض فتح کے لئے نہیں،بلکہ عدل، امن اور دین کی سربلندی کے لئے بروئے کارآئی ہو۔آج پاکستان کے لئے بھی وہی موقع ہے کہ وہ اپنی عسکری برتری کوامتِ مسلمہ کی وحدت،خطے کے امن، اور داخلی استحکام کے لئے استعمال کرے۔اب وقت آگیاہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہ رہے،بلکہ ایک نظریاتی رہنمابنے؛ایک ایسی قوت جومسلم دنیاکوتقسیم کی بجائے اتحادکی طرف لے جائے۔اک نئی اسلامی حکمتِ عملی سے عسکری طاقت سے نظریاتی قوت کاسفرشروع کرناہوگا۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ نہ تلوارسے امن آتاہے،نہ سازشوں سے استحکام۔اگرپاکستان کوواقعی ایک مضبوط،باوقار،اور جمہوری ریاست بناناہے تونہ فوجی بالادستی کارگر ہے ، نہ سیاسی مکاری۔عوامی شعور، آئینی بالادستی، شفاف انتخاب،صحافت کی آزادی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہی وہ راستے ہیں جواس مملکت کواس کے خوابوں کی تعبیردے سکتے ہیں۔ تاریخ کی آخری پکار ہمیں آوازدے رہی ہے،قوم کاشعوربیدار ہو رہا ہے۔ دشمنوں کی صفوں میں تشویش ہے اوردوستوں کی آنکھوں میں امید۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنی شناخت کوازسرِنو پہچانیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم کہہ سکیں کہ ہم نے پاکستان کو بچایا نہیں،ہم نے اسے قیادت عطا کی۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،یاتوہم پھرسے داخلی سیاسی مفادات کی دلدل میں دھنس جائیں گے، یاعسکری حکمت،سفارتی شعور اور نظریاتی استقلال کے ساتھ امتِ مسلمہ کاعلم برداربن کرابھریں گے۔
یادرکھیں!وقت کی ساعتیں منزل کی نشاندہی کرتے ہوئے آوازدے رہی ہیں کہ تاریخ کی آوازوہی قوم بنتی ہے جووقت کے قدموں کی چاپ سن لے۔
اٹھو کہ وقت کا تقاضا ہے صداقت کی سیاست
نہ کہ آمریت کی چادر،نہ منافقت کی قبا