Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

خاکِ وطن کاخوابِ رفتہ

جب تقدیرِامم کاقلم لوحِ ازل پرتھرتھراتاہے تووقت کی صراحی سے ایسے لمحے ٹپکتے ہیں جن میں قوموں کی حیاتِ نوکے دیے روشن ہوتے ہیں۔14اگست بھی ایک ایساہی روح پرور،تاریخ سازلمحہ ہے جس نے برِصغیرکے مظلوم مسلمانوں کومحکومی کی زنجیروں سے نکال کرآزادی کی نکہت بھری فضامیں سانس لینے کا اختیار بخشا۔یہ دن صرف ایک تاریخ کا نہیں، یہ اذانِ بلال، شمشیرِ خالد، عدلِ عمر،حکمتِ علی اورعلمِ حسن کاتجدیدی مظہرہے۔یہ دن ہمیں یاددلاتاہے کہ ہم نے مٹی کانہیں،لاالہ ا لااللہ کاسوداکیاتھا۔یہ وطن ریگزاروں میں بہتے سرخ لہوکی داستان ہے،یہ خاک وہ مقدس امانت ہے جسے کلمہ گوشہیدوں نے اپنے خون سے سینچا۔
یہ توزمانہ کے نشیب وفرازہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ (آلِ عمران :140)
اگرآج پاکستان نہ ہوتا،توشائددہلی، لکھن، بنارس اورحیدرآبادکے گلی کوچوں میں مسلمانوں کا مقدر ماضی کے مزاروں سے زیادہ نہ ہوتا۔ ہم مسجدکے میناروں سے اللہ اکبرکی صدا بلندکرنے کے لئے بھی اجازت کے طلبگارہوتے،اورحجاب واذان محض کتابوں کے قصے بن جاتے۔یہ یومِ آزادی اس نظریے کی فتح کادن ہے جس کے معماروں نے دنیاکوبتایاکہ قومیں رنگ،نسل یاخطے کی بنیادپرنہیں،عقیدے اورایمان کی بنیادپربنتی ہیں۔ دو قومی نظریہ اگرنہ ہوتاتوآج نہ تومدینے کی محبت میں سرشار نوجوان ہوتے،نہ کشمیرکی آزادی کے نعرے۔
سواے اہلِ وطن!آج کے دن یادرکھوکہ یہ آزادی ہمیں طشت میں رکھ کرپیش نہیں کی گئی،یہ قربانیوں کے سمندرسے نکلاہواوہ گوہر ہے جس پر ہمارے اسلاف کی سسکیاں،ماں کی دعائیں اور شہیدوں کالہوثبت ہے۔ یہ دن تجدیدِعہدکاہے،یہ دن ہے اپنی مٹی،اپنی ملت، اپنی تہذیب،اپنی دین ودانش اوراپنے نصب العین سے وفاکادن۔
اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں(فصلت:33)
قرآن مجید کی یہ آیت یومِ آزادی کے مہینے اگست کے لئے فکری اورمعنوی روشنی کی مانندہے۔ اگست کامہینہ آزادی کاجشن مناتے ہوئے ہمیں تاریخی لمحے پرغورکرناچاہیے ’’اگر پاکستان نہ بنتا،توکیاہوتی مسلمانوں کی صورتِ حال؟‘‘یہ سلسلہ فکرہمیں دوقومی نظریہ کے منطقی اورتہذیبی اثبات تک لے جاتاہے اور اسی کوموضوع بناتے ہوئے آئندہ نکات کی روشنی میں ہرپہلو کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ مبارک دن یومِ آزادی پاکستان کامہینہ اگست،مسلمان خطہ ِہندمیں ایک نئے فکری استقلال کی نویدلے کرآیا۔اگربرصغیرمیں پاکستان نہ بنتاتواس وقت کے ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت کیاہوتی؟آزادی کی مبارک شمع نہ ہوتی توشایدان کی معاشرتی،سیاسی اور تہذیبی زندگی ایک انہونی دھندمیں گم رہتی۔
وقت نے دوقومی نظریہ کوواضح کردیاکہ ہندو اورمسلمان دومختلف تہذیب،تاریخ اورمذہبی بیک گرائونڈ کے حامل ہیں۔اگرآزادی نہ ملتی، توموجودہ مسلم اکثریت شاہِ ہندکے زیرِتسلط ایک سیاسی اقلیت میں تبدیل ہوتی۔ دوقومی نظریہ نے ثابت کیاکہ مسلمانوں کی الگ تہذیب، شناخت اورسیاسی خودمختاری کے بغیرایک باوقارمعاشرہ قائم نہیں ہوسکتا۔ایسے میں مسلمانوں کی زندگی روزبروزایک بارودبھرے فوجی،مذہبی اورثقافتی دباؤ کا شکاررہتی۔انسانی حقوق،آزادتقریراور مذہبی اظہار محدود ہوکرمرجعیت کاخطرہ لاحق ہوتی۔ یعنی آزادی نہ ہوتی تومسلمانوں کی تاریخی کشادگی اورسیاسی اہمیت بجائے سکڑنے کے،زوال پذیرہوتی۔
اگرپاکستان نہ ہوتاتوہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیبی اورمذہبی تشخص خطرے میں رہتا،وہ سیاسی اقلیت کی شکل پاگئے ہوتے جس پر اکثراوقات ناقابل برداشت دباؤہوتا۔ معاشرتی زندگی میں ہندواکثریت کی سیاسی غلبہ کی وجہ سے مذہبی آزادی محدودرہتی۔حقوقِ انسانی میں تعصب،تشکیل حکومت اوردستورسازی میں عدم شمولیت کے باعث مسلمان سماجی تنزلی کاشکار ہوتے۔ ہرلمحے ان کے عقائد و ادب کی خودمختاری خطرے میں رہتی،سیاسی خودداری نہ ملتی توتدریجی بغاوت یااندرونی خلفشارجنم لے سکتاتھا۔یہی وجہ ہے کہ برصغیرمیں الگ وطن کی تشکیل ایک نئی تہذیبی شدت اورسیاسی بسیطی نتیجہ تھی،نہ صرف جغرافیائی بلکہ فکری آزادی کاآئینہ دار۔
مئی2025ء میں غیرتِ رنگِ فکرکی مانند برصغیر میں معرکہ حق کامنظرآیا۔پاکستان اور بھارت کے بیچ شدید عسکری تصادم ہوا،جس کے دوران بھارت نے آپریشن سندورکے تحت پاکستان میں میزائل اورڈرون حملے کئے، جس سے پاکستان کی بھرپورجوابی کارروائی سامنے آئی۔ پاکستانی شاہینوں نے اپنے تیارکردہ جے تھنڈر 17 اور چینی ساخت جے10 طیارے استعمال کرتے ہوئے بھارتی اڈوں اوران کے متعددجہازاڑاکر رکھ دیئے۔ پہلی بارفرانسیسی رافیل کے جیتے ہوئے مبینہ تکبرکاپردہ چاک ہوا،اوررافیل کے ساتھ دیگر طیاروں کو خاک چاٹنی پڑی اورہندوستان کے مختلف مقامات پران جہازوں کے بکھرے اورپاش پاش ہونے کی تصاویرساری دنیا میں وائرل ہوگئیں۔مودی سرکار کوفوری طورپر پاکستانی طاقتِ دفاع کازبردست احساس ہوگیا۔
فوری طورپربھارت اوراسرائیل نے اپنی تباہی کا واویلا کرتے ہوئے امریکابہادرکوسیزفائر کے لئے دہائی دیناشروع کردی جس نے جنگ کے آغازمیں بڑے کھلنڈرانہ اورمزاحیہ اندازکامظاہرہ کیاتھا۔دراصل اسے یہی پیغام دیاگیاتھا کہ پاکستان کے ساتھ یہ معرکہ صرف چند گھنٹوں میں فتح کے ترانوں کے ساتھ اختتام پذیرہوجائے گااورپا کستان سرخم کرکے تمام احکام کی تعمیل بجالائے گا لیکن یہاں صورتِ حال بالکل اس کے برعکس نتائج کے ساتھ جب سامنے آئی توٹرمپ نے درمیان میں کودکرجنگ بندی کے اعلان کاسہرااپنے سر پر سجا لیاجس کاوہ اب تک35مرتبہ ذکرکرچکے ہیں۔ مودی حکام نے اپنی ہزیمت اوررسوائی کوچھپانے کے لئے اعلان کیاکہ کسی نے بھی بھارت سے کارروائی روکنے کونہیں کہالیکن ایک باربھی ٹرمپ کے بیان کی نفی کرنے کی ہمت نہیں کرپائے۔بلا شبہ اب تک گودی میڈیا اورمغربی میڈیاکازبانی محاذ آپس میں گتھم گتھاہے،لیکن پاکستان کی قوتِ دفاع کے شاندار مظاہرے سے خطے میں بھارت کی توقیر کوایساجھنجھوڑاہے کہ عالمی دفاعی ماہرین بھی پاکستان کی کامیابی پرمبہوت ہیں اور انڈیا کاساراغرورتواسی دن خاک میں مل گیاتھا جب فرانسیسی رافیل کمپنی کے سربراہ نے عالمی میڈیاکے سامنے اپنے رافیل طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرتے ہوئے یہ بیان دیاکہ ہم نے طیارے فروخت کئے ہیں،لڑنے کاحوصلہ نہیں ۔
مودی کی حکومت نے مدلل اندازمیں اصرارکہ آپریشن جاری ہے اوربھارتی حکومت نے اپنے اندرونی حلقوں میں کمزوری محسوس کی ہے ۔اپوزیشن رہنماؤں نے دھمکی دی کہ اس غیرملکی عسکری اتحاد خصوصا چین کے ساتھ ممکنہ خطرہ بڑھ گیاہے، لہذاخطے میں ممکنہ عسکری تصادم کے خطرے کم نہیں ہوئے۔اس واقعے کے بعد،سرحدی تنازعات میں جنگ کے خطرات فی الحال مکمل طور پرٹل گئے ہیں یانہیں،یہ واضح نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں جانب عسکری صورتحال کشیدہ ہے،اورعالمی سطح پربھی امن کی کوششوں کے باوجودمسئلہ مکمل طورپرحل نہیں ہوا۔
پاکستان نے2024-25ء کے دفاعی بجٹ میں 2.55 ٹریلین روپے(9بلین ڈالرز) مختص کئے گئے، جو20 فیصداضافہ ظاہرکرتاہے۔ اس میں چلانے کا خرچ تقریباً 704 ارب(29 %اضافہ)،ملازمین کے اخراجات 846ارب، اورپنشن 742ارب شامل ہیں جبکہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں تقریباً 5۔9 اضافہ کرتے ہوئے اسے قریباً ً 78.7ڈالر بلین قراردیا،جی ڈی پی کاتقریباً 1.9بڑھادیا گویاپاکستان سے نوگنا زیادہ بجٹ فوج کے لئے مختص کیالیکن حالیہ پاک بھارت جنگ میں بری طرح رسوائی اورسبکی کے نتائج ساری دنیانے دیکھ لئے۔ پاکستان کابیرونی قرضہ تقریبا ً87.4 ڈالر بلین تک پہنچ چکاہے،جس کی وجہ سے جی ڈی پی کاتقریبا1.9حصہ صرف قرض کی قسطوں پراٹھ رہاہے،چین اس کاسب سے بڑاقرض دہندہ ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ7بلین ڈالر پروگرام کے تحت اقتصادی استحکام کے اقدامات کررہاہے۔ملک کی اقتصادی ترقی کے اہداف 4.2 ہیں، جبکہ2024-25 ء میں ترقی صرف 2.7رہی، افراط زر4.7پرآنے کا امکان ہے۔ باوجودمالی مشکلات کے،احتیاطی طورپرعالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کوقدرکی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اوران کارویہ بھی تبدیل ہوگیاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں