Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

سپہ سالار کا خطاب، بھارت میں کھلبلی

پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر امریکا گئے تھے، جہاں انہوں نے امریکا کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے علاوہ پاکستانی نژاد کمیونٹی کے ارکان سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹیمپا میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)کے سبکدوش ہونے والے کمانڈر جنرل مائیکل ای کورِلا کی الوداعی تقریب اور نئے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کی چارج سنبھالنے کی تقریب میں شرکت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جنرل کورِلا کی شاندار قیادت اور دوطرفہ عسکری تعاون کو مضبوط بنانے میں ان کی قیمتی خدمات کو سراہا، جبکہ ایڈمرل بریڈ کوپر کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رواں سال امریکا کا یہ دوسرا سرکاری دورہ ہے، اس سے قبل آرمی چیف جون میں سرکاری دورے پر امریکا گئے تھے جہاں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر وائٹ ہائوس میں ظہرانے پر ان سے ملاقات کی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حالیہ دورے میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ایک مکالمہ کی نشست میں آرمی چیف نے انہیں پاکستان کے روشن مستقبل پر پراعتماد رہنے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی، پاکستانی نژاد کمیونٹی نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ جرمن نشریاتی ادارے DWکے مطابق آرمی چیف نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ سرگرمیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا، کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے سفارتی محاذ پر قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ فیلڈ مارشل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی سراہا جنہوں نے، ان کے بقول، جنگوں کو روکنے اور دوطرفہ تعلقات کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد کی، جن میں مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانا بھی شامل ہے۔
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکہ میں کئے گئے حالیہ خطاب پر بھارت کی تلملاہٹ دیدنی ہے۔ گفتگو کے متن کو مسخ کر کے مودی سرکار کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوششیں کارآمد ثابت نہیں ہو پائیں۔ مئی میں جنوبی ایشیاء کو جوہری جنگ کی آگ میں دھکیلنے والا بھارت اب پاکستان کا دامن داغدار کرنا چاہتا ہے۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کے تزویراتی تدبر کی وجہ سے خطے میں جوہری جنگ کے خطرات ٹل گئے۔بھارت پاکستان کے آرمی چیف کے جوہری دفاعی موقف کو مسخ کر کے کشیدگی کو پھر سے ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان ہمیشہ تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کرتا آیا ہے ۔ مودی حکومت اپنی غیر ذمہ دارانہ کاروائیوں سے بین الاقوامی امن اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔بھارت نے پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عا صم منیر کے حالیہ خطاب کی جو تشریح کر رہاہے وہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کا موقف نہایت واضح ہے کہ اگر پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ یہ اصول پاکستان کی جوہری حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔ اس موقف کو عالمی سطح پر جائز دفاعی حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ بھارت متوازن اور ذمہ دارانہ موقف کے خلاف دانستہ ڈس انفارمیشن کے ہتھیار سے پاکستان پر الزام تراشیاں کر کے اشتعال دلا رہا ہے۔ بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان ہمیشہ تدبر کے ذریعے حالات کو قابو کرنے کو ترجیح دیتا آیا ہے۔بھارتی سرحدی خلاف ورزیوں پر ہمیشہ نپی تلی ، منظم اور موثر جوابی کارروائی کرتا ہے۔
بھارت یہ واویلا کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کے جوہری دفاع سے خوفزدہ یا بلیک میل نہیں ہوگا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ روکنے میں مداخلت کی، جو کہ مودی سرکار کے جھوٹے دعوں کی واضح نفی بے،صاف دکھائی دے رہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر معقول اندازوں کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ آپریشن سیندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں ۔ شکست خوردہ مودی سرکار کو گھر کے اندر اور باہر ہزیمت کا سامنا ہے۔ حالیہ پارلیمانی اجلاسوں میں کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کو پاکستان کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہونے پر خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ بیرون ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پے درپے بیانات نے مودی اور بی جے پی کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ سیز فائر کے تذکرے پر مودی جی لال پیلے ہو جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے پچاس فیصد ٹیرف عائد کر کے دو طرفہ تعلقات کی تلخی نمایاں کر دی ہے۔ بیک وقت امریکہ اور روس کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی خواہش اب مودی سرکار کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ پاکستان کی جوہری استعداد اور سپہ سالار کا مبنی برحق دلیرانہ موقف اب بھارت کے لئے ایک ڈرائو نا خواب بن چکے ہیں۔ شکست کی تلملاہٹ اور پاکستان سے نفرت کے ہاتھوں مغلوب ہو کر نریندر مودی جیسا شدت پسند نیتا کسی وقت بھی خطے کے امن کو برباد کر سکتا ہے۔ مشتری ہوشیار باش!

یہ بھی پڑھیں