Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خاکِ وطن کاخوابِ رفتہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت معیشت میں استحکام لانے کی کوشش کی ہے۔عمومی بجٹ کو17.57ٹریلین روپے ($2بلین)تک کم کیا گیالیکن دفاعی بجٹ میں اضافہ جاری رکھاگیا۔عالمی مالیاتی اداروں نے ابھی کچھ احتیاط سے تبدیلی محسوس کی ہے اگرچہ رسمی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آرہی ہے جس کی بناپرمالی استحکام کی جانب مثبت اشارے ملنے لگے ہیں،اور ترامیم تسلیم کی جارہی ہیں۔پاک چین کے’’آئل ویدرفرینڈشپ‘‘کے ناتے عسکری تعاون طویل عرصے سے رواں دواں ہے۔سی پیک،مشترکہ دفاعی پیداوار،جدیدساز و سامان، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ مشقیں اس اتحادکوتقویت عطاکرتی ہیں۔
چین پاکستان کاسب سے بڑاہتھیاروں کا فراہم کنندہ ہے۔ 2019-24ء کے دوران پاکستان کی کل درآمدکا81فیصد حصہ چین سے آیا،پاکستان مستقبل میں ممکنہ طورپرچین سے ایف سی31،اورجے 35پانچویں نسل کے جے35 اسٹیلتھ فائٹرطیارے خریدنے جارہاہے۔چین اور پاکستان کا مضبوط فوجی ودفاعی اتحادمسلسل گہرا ہو رہا ہے، ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری اورمشقوں کے ذریعے خطے میں فوجی توازن کومستحکم کیاجارہاہے۔ مشترکہ پروڈکشن جیسے ’’کے8‘‘جے ایف17 ، اورجدید طیارے، نیوکلیئر انفراسٹرکچرمیں تعاون، سمندری،فضائی اورزمینی دفاعی منصوبے اورسی پیک کے ذریعے گوادر پورٹ میں بھی چینی سرمایہ کاری کی،جومستقبل میں اسٹرٹیجک پورٹ میں تبدیل ہوجائے گی۔چینی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیاہے کہ پاک چین عسکری تعاون’’معمول کے مطابق‘‘ جاری ہے جو کسی تیسرے ملک کونشانہ نہیں بناتا۔
پاک بھارت جنگ کی فتح کے بعدخطے میں پاکستان کی سفارتی فتوحات کاسلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ میں’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے اورایرانی صدرکاپہلا بیرونی دورہ پاکستان، اس بات کی علامت ہیں کہ ایران کاجھکاؤبھارت سے پاکستان کی جانب مڑا ہے۔پاکستان نے اسرائیل ایران جنگ میں متوازن رویہ اختیارکیا، جوایران کی خارجہ پالیسی میں توازن لایا۔یہ تبدیلی خطے میں سیاسی ڈائنامکس کونئے موڑپہ لے گئی ہے۔ اب ایران بھارت کے بجائے پاکستان کی جانب زیادہ مثبت رویہ رکھتاہے۔یہ پیشرفت جغرافیائی اور سیاسی توازن کے نئے ابواب کھولتی ہے۔
پاکستان اورایران کے درمیان حالیہ تعلقات میں ایک خوش آئنداورتزویراتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک نے 12مفاہمتی معاہدوں اوریادداشتوں پردستخط کیے،جن میں زمینی رابطوں کا فروغ، کوئٹہ،زاہدان ریلوے ٹریک،تجارتی راہداری اورایران کے سلک روڈ،گوادراورچاہ بہاربندرگاہی منصوبوں میں اشتراک شامل ہیں۔یہ پیش رفت محض اقتصادی تعاون نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹیجک شراکت کی نوید ہے۔ دونوں ممالک نے فری ٹریڈایگریمنٹ کوحتمی شکل دے دی ہے اوردہشت گردی کے خلاف ہرسطح پر باہمی تعاون پراتفاق کیاہے۔
اس دورے کی سب سے بڑی معنویت بھارت کے لئے ہے،جس نے حالیہ اسرائیل، ایران کشیدگی میں اسرائیل کومبینہ طورپرایک ملین کے قریب افرادی قوت فراہم کی۔ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے اوریہی وجہ ہے کہ اب تہران نے نئی دہلی سے فاصلہ اختیارکرتے ہوئے اسلام آبادکے ساتھ راہیں استوارکی ہیں۔ایرانی صدرکاپاکستان کوپہلاغیرملکی دورہ بنانا،ایرانی پارلیمنٹ میں’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے،ان سب کاپیغام واضح اورخطے میں نئی سفارتی سمت متعین ہورہی ہے۔
دوسری طرف امریکاکے ساتھ اقتصادی شراکت کاایک نیاباب کھل رہاہے۔ٹرمپ کی جانب سے دئیے گئے حالیہ بیانا ت جس میں انہوں نے عندیہ دیاکہ مستقبل میں بھارت، پاکستان سے اپنی تیل کی ضروریات پوری کرنے پرمجبورہوسکتاہے،نہ صرف پاکستان کی اہمیت کوتسلیم کرنے کااشارہ ہیں بلکہ یہ مودی حکومت کے لئے ایک سیاسی دھچکا بھی ہیں۔
31جولائی2025ء کوامریکااورپاکستان کے درمیان ایک تاریخی اقتصادی معاہدہ ہوا،جس کے تحت امریکاپاکستان کے وسیع خام تیل کے ذخائرکی ترقی میں تعاون کرے گا۔یہ ذخائر بلوچستان، سندھ،پنجاب اور خیبرپختونخوامیں پائے جاتے ہیں۔ٹرمپ نے اعلان کیاہے کہ پاکستان اور امریکا مل کر تیل کے بڑے ذخائر کی تلاش میں ایک دوسرے کی معاونت کریں گے اور اس پراجیکٹ میں پاکستان کی بھرپورمددکے لئے ایک تیل کمپنی کاانتخاب زیرِغورہے اورشائد وہ ایک دن بھارت کوتیل بھی فروخت کریں گے۔ ’’سینارجیکوــ‘‘ پاکستان کی سب سے بڑی عمودی طورپرمربوط آئل ریفائننگ کمپنی ہے جوملک کی توانائی کی ضروریات کوپوراکرتی ہے۔ اسی کمپنی کے توسط سے امریکی خام تیل کی ملین بیرل کی پہلی کھیپ پاکستانی ساحل پرپہنچ رہی ہے،اگر یہ منصوبہ کامیاب ہواتوماہانہ خام تیل کی کھیپ کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔اس معاہدے سے باہمی ٹیرف میں مزیدکمی ہوگی،خاص طور پر پاکستانی برآمدات پر،جس سے تجارتی رسائی آسان ہوگی اورسرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہوگا۔
یہ معاہدہ صرف توانائی تک محدود نہیں بلکِہ کرپٹوکرنسی،مائننگ،ڈیجیٹل انفراسٹرکچراورآئی ٹی کے شعبوں میں بھی پاکستان کے ساتھ ہرقسم کا تعاون شامل ہے۔پاکستان میں مارچ 2025ء میں پاکستان کرپٹو کونسل ’’پی سی سی‘‘قائم کی گئی،جس کی قیادت وزیرخزانہ محمد اورنگزیب خودکررہے ہیں،اور’’بیانس‘‘کے شریک چیئرمین چانگ پنگ ذہاکواسٹریٹجک مشیر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔پی سی سی نے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو قائم کیاہے اور2,000میگاواٹ کااضافی بجلی کرپٹو مائننگ اسٹریٹجک مشیراورمصنوعی ذہانت ڈیٹا سنٹرکے لئے مختص کیاہے، تاکہ پاکستان کوبلیک چین سرمایہ کاری کا مرکز بنایا جا سکے ۔
امریکاکی دلچسپی پاکستانی خام تیل کے بنیادی وسائل کے استعمال اوربرآمدات میں ممکنہ اضافہ ہے،نیزپاکستان کوآئندہ ایک ممکنہ مارکیٹ سمجھاجارہاہے۔تجزیہ کاروں نے تیل کے ذخائر کا حصول اورتجارتی رعایت دونوں کاایک ساتھ حصول کوپاکستان کے لئے ’’دو پرندے ایک تخت‘‘کی حکمت قرار دیا ہے۔ ادھرچین پاکستان سی پیک کے تحت چین پہلے ہی مالیاتی اورتکنیکی شراکت میں سرگرم عمل ہے،امریکاکی مداخلت ایک سطح پرچین کے ساتھ تزویراتی مقابلہ کوجنم دے سکتی ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان کے لئے ایک نئی معاشی راہ کھولتاہے،امریکاکی شراکت سے ہماری تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوگا،تجارتی راہیں کھل سکتی ہیں اورکرپٹوکرنسی اورآئی ٹی شعبے میں ترقی ممکن ہے۔اگرچہ اس میں سفارتی، سیاسی اورداخلی حدودمیں خطرات موجود ہیں،لیکن حکمت وتدبیرکے ذریعے یہ پاکستان کوایک نئے معاشی دورکی جانب لے جاسکتاہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا کی انڈیا سے منہ موڑنے اورپاکستان پریہ اچانک نوازشات کے پیچھے کیارازہے؟(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں