(گزشتہ سے پیوستہ)
’’دی اکنومسٹ‘‘نے3 اگست2025ء کی اشاعت میں خصوصی مضمون میں نشاندہی کی ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی واشنگٹن میں ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ملاقات،خطے میں امریکی پالیسی کانیاباب رقم کرنے کی علامت ہے۔مضمون کے مطابق 18 جون 2025ء والی اس ملاقات نے پاکستان امریکا تعلقات میں علاقائی سفارتی تبدیلی کاآغازکیا، جس نے سابق سرد مہری کوتوڑکراعتدال پسندحکمت عملی کی راہ ہموارکی۔ اس کے فوراًبعدٹرمپ نے بھارت کو ’’مرجھائی ہوئی مردہ معیشت‘‘قراردیتے ہوئے25 فیصدٹیرف عائدکر دیا ہے اورمزیدٹیرف بڑھانے اورجرمانے کابھی اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے بھارت پرشدیدتنقید کی،خاص طورپر اسے روسی تیل خریدنے پرملامت کیا،اورٹیرفز میں مزید اضافہ عائد کا کرکے معیشتی دباؤ ڈالنے کا بھی اشارہ دیا گیا۔ بھارت نے اس فیصلے کا جواب دیا کہ روسی تیل خریدنا اقتصادی مجبوری تھی اورمحدود خام مال بیچرکے طورپروہ صرف ریفائنڈ مصنوعات برآمدکرتاہے جبکہ پاکستان کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے میں نافذ کردہ19فیصد ٹیرف میں مزیدکمی کرنے کاعندیہ دیاگیاہے۔
تاہم پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کے لئے مزیدمثبت اشارے دیے اورامریکی مفادات کے لئے بلوچستان کے معدنی وسائل تک رسائی دینے کاوعدہ کیاہے۔ٹرمپ کے نکتہ نظرسے ایک واضح اشارہ تھا۔اس دوران پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امریکی تیل کی درآمد بڑھائے گااورمخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے گا۔اس پالیسی کی قدرکرتے ہوئے امریکی حلقوں نے پاکستان کواہم غیرنیٹواتحادی کادرجہ دیااورہتھیاروں کی فروخت،دفاعی تعاون اور انسداددہشت گردی کے مباحث کودوبارہ زندہ کیا۔
اخبارکے مطابق خطے میں اس تبدیلی کے نتیجے میں بدلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنرل عاصم منیرکی واشنگٹن میں ٹرمپ سے تاریخی ملاقات محض رسمی سفارت کاری کاتسلسل نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے سفارتی باب کاآغازتھی،جس نے پاکستان کوعلاقائی توازن کے مرکزمیں لاکھڑاکیا۔اس ملاقات کے بعدامریکی پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کوملی، بھارت، جوطویل عرصے سے امریکی مفادات کاترجیحی شراکت داررہا،اب ٹیرف اورتجارتی سختیوں کی زدمیں آگیا، جبکہ پاکستان کے ساتھ نرم لہجے اور اقتصادی اشتراک کی فضاقائم ہونے لگی ہے۔
امریکانے پاکستان میں توانائی،معدنی وسائل اورکرپٹوسرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہرکی،جبکہ بھارت کوروسی تیل کی درآمدپرسرزنش سرزنش کرتے ہوئے مجوزہ ٹیرف میں اضافہ عائدکرنے کاعندیہ دیاہے جودہلی کی معاشی پالیسی کے لئے ایک سخت چیلنج ہے۔اس کے برعکس،پاکستان نے اقتصادی کشادگی اورمعدنی وسائل تک رسائی کی پیشکش کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کونئی جہت دی۔ امریکانے پاکستان کے ساتھ نہ صرف اقتصادی بلکہ عسکری تعاون کی بحالی کے آثاربھی نمایاں کیے،جبکہ بھارت اس تبدیلی پر ناراضگی کااظہار کرتا رہا۔یوں جنوبی ایشیامیں امریکاکی روایتی توازنِ طاقت کی حکمت عملی نئی صورت اختیارکرگئی ہے،جس میں پاکستان نہ صرف ایک نئی امیدبلکہ ایک اسٹریٹیجک ترجیح کے طورپرابھر کر سامنے آیاہے۔
دی اکنومسٹ کے مطابق،یہ ملاقات اوراس سے جڑی پالیسیاں ایک واضح اشارہ ہیں کہ امریکی حکمت عملی بھارت سے پاکستان کی طرف منتقل ہورہی ہے اور اس کادائرہ کشمیر ، ایران وچین سے لے کر مشرق وسطیٰ اوراقتصادی شعبوں تک پھیل رہاہے۔اس تبدیلی کے نتیجہ میں پاکستان کوسفارتی،تجارتی اورعسکری رسائی میں اضافہ حاصل ہورہاہے۔خطے میں طاقت کامنظرنامہ بدل رہاہے اور امریکاکی ترجیحات ایک وقت میں بھارت کوبنیادبناکرپاکستان کودوبارہ اہمیت دے رہی ہیں۔
جب تاریخ کی پرچھائیوں سے ایک نئی سحرنمودار ہوتی ہے تووہ صرف وقت کا تسلسل نہیں بلکہ انسانی شعورکی سمت کاتعین بھی کرتی ہے۔روس کی جانب سے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز معاہدے سے مکمل دستبرداری، یورپ،ایشیاء اوربحرالکاہل میں بیلسٹک وکروزمیزائلوں کی تعیناتی کے اعلان نے بین الاقوامی سیاست کے آسمان پربجلی کی ایک ایسی کڑک پیدا کی ہے،جس کی گونج صرف کریملن کی دیواروں تک محدودنہیں،بلکہ وائٹ ہاس،بیجنگ،دہلی،اسلام آباداوربرسلزتک سنائی دے رہی ہے۔یہ فیصلہ تاریخ کے اس موڑپرسامنے آیاہے جہاں دنیاپہلے ہی عسکری،معاشی اورنظریاتی کشمکش کے بھنورمیں الجھی ہوئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی خطے میں ایک اہم تبدیلی روس کایہ حالیہ اعلان کہ وہ درمیانے فاصلے تک مارکرنے والے جوہری میزائلوں کے معاہدے سے مکمل طورپر دستبردارہوچکاہے۔بین الاقوامی سلامتی،بالخصوص یورپ، ایشیاء اوربحرالکاہل کے خطے کے لئے نہایت تشویش ناک پیشرفت ہے۔اس اعلان کے تحت روس نے نہ صرف معاہدے کورسمی طورپرخیربادکہابلکہ اس کے ساتھ ہی بیلسٹک اورکروز میزائل ان تمام خطوں میں متعین کرنے کاعزم کااظہارکردیاہے۔
1987میں امریکی صدررونالڈریگن اور سوویت رہنما میخائل گورباچوف کے درمیان انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسزمعاہدہ طے پایا تھا،اس معاہدے نے 500سے5,500کلو میٹرتک مار کرنے والے زمین سے داغے جانے والے میزائلوں پرپابندی عائد کرکے یورپ کو ممکنہ جوہری تباہی سے کچھ حدتک محفوظ کردیا تھا لیکن2019میں امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد اب روس کی دستبرداری اس معاہدے کودفترِتاریخ میں دفن کرچکی ہے۔روس کاموجودہ اعلان ایک متوقع مگرہولناک پیش رفت ہے۔روس کی جانب سے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسزمعاہدے سے باضابطہ علیحدگی اورمیزائلوں کی نئی صف بندی کا اعلان یورپ کے لئے گویاایک پراناخواب ٹوٹنے کے مترادف ہے۔ نیٹو اتحادیوں کے ذہنوں میں1980ء کی دہائی کے وہ دن تازہ ہوگئے ہیں جب یورپ یورپ سوویت میزائلوں کی زد میں تھا۔خاص طورپرجرمنی، پولینڈ اوربالٹک ریاستیں اس نئے منظرنامے میں براہ راست خطرے میں ہیں۔(جاری ہے)