(گزشتہ سے پیوستہ)
اس فیصلے نیعالمی اسٹریٹیجک توازن میں بگاڑ کا شدیدخطرہ پیداکردیاہے۔معاہدہ سردجنگ کے دورمیں امریکااورسابق سوویت یونین کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑکو محدود کرنے کے لئے ایک بنیادی ستون تھا۔اس معاہدے کی منسوخی ایک ایسااقدام ہے جونہ صرف اس توازن کوتوڑتاہے بلکہ نئے ہتھیاروں کی دوڑکوجنم دے سکتاہے۔چونکہ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز میزائل یورپ تک محدود فاصلے میں مارکرسکتے ہیں، لہٰذاروس کی جانب سے ان کی یورپی حدودمیں تعیناتی نے نیٹواتحادیوں میں خاص طورپرپولینڈ، جرمنی ، فرانس جیسے ممالک میں جوماضی میں سوویت ہدف پر تھے، اضطراب پیداکردیاہے۔
چین،جاپان،بھارت اورپاکستان جیسے ممالک کے گرداگرروسی میزائل تعینات ہوتے ہیں تویہ پورے خطے کوغیریقینی اورخطرناک کشمکش میں جھونک سکتے ہیں۔ بحرالکاہل میں یہ امریکی مفادات،خاص طورپرگوام اور جنوبی کوریامیں امریکی اڈوں کے لئے ایک براہ راست چیلنج ہوگا۔پاکستان جوپہلے ہی خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے عسکری عزائم اورامریکی جھکا ؤسے دوچار ہے، روس کے اس فیصلے کواسٹریٹیجک گہرائی کے لئے ایک موقع بھی سمجھ سکتاہے بشرطیکہ روس کے ساتھ دفاعی اشتراک کووسعت دی جائے۔ خاص طورپراگرروس پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی مشقیں،ٹیکنالوجی ٹرانسفر یا میزائل ڈیفنس میں تعاون کرتاہے۔روس اورچین کے تعلقات خوشگوارضرورہیں،لیکن روسی میزائلوں کی ایشیاء میں تعیناتی چین کے لئے بھی ایک دباؤکااشارہ ہوسکتی ہے،تاکہ بیجنگ ماسکو کے مفادات سے منحرف نہ ہو۔
ایشیاء کے میدان میں یہ فیصلہ ایک نئی ہلچل پیداکرسکتاہے۔امریکا،جوخودکوبحرالکاہل میں ایک غالب طاقت سمجھتاہے،روسی میزائلوں کی ممکنہ موجودگی کواپنی بالادستی کے لئے ایک چیلنج سمجھے گا۔جاپان اورجنوبی کوریا،جہاں امریکی فوجی اڈے موجودہیں،اب براہ راست روسی ہدف پرآچکے ہیں۔بحرالکاہل کی حد تک روس کایہ اقدام امریکاکے لئے واضح پیغام ہے کہ وہ اب صرف یورپ میں نہیں،بلکہ بحرالکاہل کے پانیوں میں بھی اپنی طاقت کامظاہرہ کرے گا۔پاکستان کے لئے یہ ایک دو دھاری تلوارہے۔ایک جانب خطے میں کشیدگی اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافہ،تودوسری جانب روس کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون بڑھانے کاامکان۔اگرپاکستان دانش مندی سے سفارتی بساط بچھائے،تووہ روس کے ساتھ عسکری،تکنیکی اوردفاعی تعاون کوفروغ دے سکتاہے، بالخصوص اس وقت جب پاکستان پہلے ہی امریکااورچین کے بیچ متوازن حکمت عملی پرگامزن ہے۔
یہ فیصلہ بھارت کے لئے بھی ایک امتحان ہے۔اگرچہ بھارت نے ماضی میں روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے،مگرحالیہ برسوں میں امریکاکی طرف جھکاؤنے ماسکوکے اعتمادکو ٹھیس پہنچائی ہے۔روسی میزائلوں کی ایشیائی تعیناتی بھارت کے اسٹریٹیجک ماحول کو مزید پیچیدہ بناسکتی ہے۔مزیدبراں مودی کے لئے زوال کا سفراب تیزہوتاجارہاہے۔پہلگام حملے کے بعد بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کی روایت دہرائی، مگر اس باردنیانے وہ ردعمل نہ دیا جو بھارت کوتوقع تھی۔ بھارتی افواج کے ہی ترجمان اب اس الزام سے پسپائی اختیارکررہے ہیں،جس سے بھارت کے بیانیے کی کمزوری واضح ہوگئی ہے۔
دنیاآج ایک نئے موڑپرکھڑی ہے،جہاں عسکری طاقت کے توازن میں چھوٹے سے تغیرکامطلب براعظموں کی تقدیرکابدل جاناہے۔ روس کی آئی این ایف معاہدے سے دستبرداری، پاک ایران نئی سفارتی جہت، امریکاکے ساتھ معاشی معاہدے،اوربھارت کی عالمی تنہائی یہ سب اس امرکے غمازہیں کہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی رونماہورہی ہے۔روس کی معاہدے سے باضابطہ علیحدگی اور میزائلوں کی نئی صف بندی معاہدے سے دستبرداری اورمیزائلوں کی نئی تعیناتی کااعلان محض ایک دفاعی قدم نہیں،بلکہ ایک نظریاتی پیغام بھی ہے طاقت اب محدودمعاہدوں کی اسیرنہیں رہی۔ دنیاآج ایک نئے موڑپرکھڑی ہے،جہاں عسکری طاقت کے توازن میں چھوٹے سے تغیرکامطلب براعظموں کی تقدیرکا بدل جاناہے۔ روس کی انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز معاہدے سے دستبرداری،پاک ایران نئی سفارتی جہت،امریکاکے ساتھ معاشی معاہدے،اور بھارت کی عالمی تنہائی یہ سب اس امرکے غمازہیں کہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی رونماہو رہی ہے۔
اے اہلِ وطن!اصل آزادی صرف جغرافیائی حدودمیں نہیں،بلکہ فکری آزادی،معاشی خودداری اور اسلامی حیات کے احیاِمیں مضمر ہے۔خداوندِکریم فرماتا ہے، کہہ دوکہ میں تواپنے پروردگارہی کی عبادت کرتاہوں اورکسی کو اس کاشریک نہیں بناتا(الجن:18) ایسی سنگینی وجذباتیت کے عالم میں یومِ آزادی کوشایانِ شان منانے کے لئے ضروری ہے کہ قومی سالمیت ،اسلامی اعتقادواتحادکومرکزی رکھیں۔مساجد،تعلیمی اداروں اور فوجی تنصیبات میں قرآنی آیات وملی نغمات کی رونق ہو۔نوجوان نسل کوجذبہ، قومی وقارواسلامی تربیت سے روشناس کروائیں۔محروم طبقات کویادرکھ کرمشترکہ اجتماعات میں ان کی شمولیت کوفروغ دیں۔
اسی روشنی میں یومِ آزادی ہمیں دعوت دیتاہے کہ ہم اپنے اسلامی نصب العین کوزندہ کریں،اپنی تہذیب وثقافت کوسنواریں،اوراپنی سرزمین کوعزت وشان سے آگے بڑھائیں۔ قرآن کی سچائی، اشعارِ جذبات،اورقومی استقامت یہ لڑی ہرقاری کے دل کوچھوکرایک نئے ادبی تاثرمیں ڈبودے۔اللہ تعالی ہمیں دائمی امن،خوشحالی اوراسلامی بیداری عطا فرمائے ، آمین۔
اوراب جب کہ ہم یومِ آزادی کے اس آئینے میں اپنی تاریخ کاعکس دیکھ چکے ہیں،تولازم ہے کہ ہم محض تقریروں،جھنڈیوں اورآتش بازی تک محدود نہ رہیں،بلکہ روحِ پاکستان
کو ازسرِنوبیدارکریں۔یہ وطن کوئی خطہ زمین نہیں،بلکہ خوابوں،قربانیوں اوردعاوں کاوہ دستار بند قافلہ ہے جس کے ہرپڑاپرکسی ماں کی ممتا،کسی باپ کی امید،کسی جوان کی شہادت اورکسی عالم کاقلم خون میں ڈوبا نظرآتاہے۔ہمیں یادرکھناہوگاکہ پاکستان کی حقیقی تکمیل ابھی باقی ہے۔جس نظرئیے پریہ وطن معرضِ وجودمیں آیا،اس کی تعبیرتبھی ممکن ہے جب ہر پاکستانی اپنی ذات کوقوم کے چراغ میں جلتاہوادیکھے۔آزادی محض جغرافیائی آزادی نہیں بلکہ فکری آزادی،معاشی خود انحصاری،عدلِ عمرجیسانظام،علمِ قرآنی کی روشنی اور شریعت محمدیﷺکی عملداری کانام ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سیاسی انتشار،معاشی زوال اورتہذیبی بے راہ روی کے گرداب سے نکل کروحدتِ امت،نظریاتی استقامت اور اسلامی تشخص کواپنا شعار بنائیں۔ ہمیں درکارہے ایک نئی ہجرت،ایک نیابدر، ایک نیاکربلامگربندوق سے نہیں،قلم سے،علم سے، کردارسے،تقوی سے۔جیساکہ اقبالؒ نے صدا دی:
نہ توزمیں کے لئے ہے، نہ آسماں کے لئے
جہاں ہے تیرے لئے، تونہیں جہاں کے لئے
آج کی شب چراغاں ضرورکیجیے،مگرکل کا سویرا اس عہدکے ساتھ طلوع ہوکہ اب پاکستان فقط ایک ملک نہیں،ایک پیغام،ایک مشن،ایک امانت ہے جس کاہر باسی امینِ نظریہ،وارثِ شہادت،اورپرچمِ محمدیﷺ کا علمبردارہے۔ پاکستان پائندہ باد