زندگی میں کچھ فیصلے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انسان پل پل بہت سے صبر آزما لمحات سے گزرتا ہے،کبھی کبھی سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہ سب مشکلیں، صبر آزما لمحات،دکھ اور غم اس وقت ہی آسان لگتے ہیں جب اللہ پر کامل یقین ہو کہ سب مشکلوں سے صرف وہی(اللہ) نکال سکتا ہے۔مشکلات کے باوجود تب سب کچھ آسان لگنے لگتا ہے۔ کیونکہ اس رب کا ہی کہنا ہے کہ مشکلوں کے بعد آسانی ہے۔ بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔ایک دانشور کا کہنا ہے ’’زندگی اتنی آسان نہیں،جتنا ہم سمجھتے ہیں۔کچھ دکھ اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ سانس لینا بھی محال کر دیتے ہیں۔ تاہم یہ دکھ اللہ کے سوا کسی سے نہیں کہے جا سکتے۔وہی تو ہے جو سنتا ہے،دلوں کو چین دیتا ہے۔‘‘ اکثر یہ سوال ہوتا ہے زندگی کیسی ہے،مشکل یا سہل؟ اس کا جواب درکار ہو تو اسے صرف اپنی آنکھ سے نہ دیکھیں،فٹ پاتھ پر پڑے اس شخص کی آنکھ سے دیکھیں جسے زندگی کی کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں۔ زندگی کا مختلف لوگوں کی آنکھ سے مشاہدہ کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ کتنی تلخ ہے۔مگر اس کے باوجود اگر اردگرد کے لوگوں پر غور کریں تو کچھ خوش اور کچھ بہت غمزدہ نظر آئیں گے۔ایسے بھی دکھائی دیں گے جو کانٹوں بھری راہوں میں دوسروں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے میں ہمہ وقت مصروف ہوتے ہیں۔درحقیقت یہی لوگ عظیم لوگ ہیں۔زندگی کے تجربوں میں سے میرا تجربہ یہ ہے کہ ہر شخص چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا،امیر ہو یا غریب،کسی نہ کسی پریشانی کا ضرور شکار ہوتا ہے۔تاہم پریشانی کے وقت لوگوں کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ غم یا دکھ انسان کو تلخ مزاج بنا دیتا ہے۔مگر میرے خیال کے مطابق کوئی بھی دکھ کسی انسان کو نہ صرف نرم مزاج بناتا ہے بلکہ اس کے اندر ایسے اوصاف بھی پیدا کر دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے درد کو سمجھنے لگتا ہے۔ یوں ان کا ہمدرد و غمگسار بن جاتا ہے۔جب آپ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں تو ایک حقیقی انسان بن جاتے ہیں۔میرے نزدیک زندگی بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔خود ہم نے اسے مشکل بنا دیا ہے اور اس کی بڑی وجہ ہمارے اندر بے جا خواہشات کا پیدا ہونا ہے۔ یہ وہ خواہشات ہیں کہ کسی کی بھی زندگی مشکل بنا دیتی ہیں۔ دماغ میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ زندگی کو آسان کیسے بنایا جائے؟ تو اس کے لیئے علم و شعور اور بہت زیادہ تحمل و برداشت کی ضرورت ہو گی۔ علم و شعور سے آپ کو درپیش صورت حال سے آگہی حاصل ہوتی ہے جبکہ تحمل و برداشت سے آپ مشکل سے مشکل حالات سے بھی نکل سکتے ہیں۔یہ مسلمہ امر ہے کہ انسان کو کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ جہدِ مسلسل کو جاری و ساری رکھنا چاہیے۔ منزلیں انہیں ہی ملتی ہیں جو منزلوں کی تلاش میں ہوتے ہیں، کبھی حوصلہ نہیں ہارتے۔ جیسا کہ کہا گیا زندگی آسان نہیں ہے۔ کچھ فیصلے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور کچھ باتوں پر صبر کرنا بھی بہت مشکل۔ لیکن سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا چاہیے۔ایسا کرنا تب آسان ہوتا ہے جب ہمیں اللہ پر کامل یقین ہو کہ وہی ہے جو مشکلوں سے نکالنے اور مصیبتوں کو ٹالنے والا ہے۔ سب کچھ اس کے اختیار میں ہے۔ پھر کس بات کا اندیشہ اور ڈر۔زندگی کا فلسفہ ایک وسیع اور گہرا موضوع ہے۔ جس کا کوئی ایک حتمی جواب نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو انسان کو ہمیشہ سے پریشان کرتا رہا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ ہمیں کس طرح سے زندگی گزارنی چاہیے؟ مختلف دانشوروں نے اس سوال کے مختلف جواب دئیے ہیں۔کچھ لوگوں کے لیئے زندگی کا فلسفہ خوشی اور ہر قسم کی مسرتیں حاصل کرنا ہے۔کچھ لوگ روحانیت اور مذہب میں زندگی کا فلسفہ تلاش کرتے ہیں جبکہ کچھ علم و تحقیق میں زندگی کا سراغ لگاتے ہیں۔ہم سب اس دنیا میں آئے ہیں لیکن ہر انسان کی زندگی دوسرے سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔حتی کہ ایک گھر میں رہنے والے دو بھائیوں اور دو بہنوں کی بھی۔جنہیں تربیت کے لیئے ایک جیسا ماحول ملتا ہے، تربیت دی جاتی ہے تاہم ان کی سوچ، راستے، اور منزل تک ایک دوسرے سے جدا اور مختلف ہوتی ہے۔
زندگی کے بارے میں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہماری زندگیاں جس قدر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اتنی ہی آپس میں جڑی ہوئی بھی ہیں۔ انسانی عقل، اگر سمجھے تو اس کی زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دوسروں تک بھی پہنچتے ہیں۔ بس فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اثرات کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔زندگی کے ہر روپ کو سمجھنا یقینا ہمارے لیئے پوری طرح ممکن نہیں ہے لیکن ماہرین نفسیات کے مطابق اگر اس عمر میں سے ہم صرف 5 دن نکال لیں تو ہمیں زندگی کے مختلف روپ سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ یہ پانچ روز کس طرح آپ کی زندگی میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آپ یہ کیسے اہم راز افشا کر سکتے ہیں۔ ذیل میں بتانے کی کوشش کی ہے۔بظاہر معمولی نظر آنے والی چیزوں کی اہمیت اور نعمتوں کی قدر جاننے کے لیئے ضروری ہے کہ ایک دن ہم کسی کھیتی باڑی کرنے والی خاتون کے ساتھ گزار کر دیکھیں۔ اس کے معمولات پر غور کریں۔ کم قیمت پر حاصل ہونے والی سبزی، پھل اور فصل جسے ہم کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ کھاتے ہوئے اس میں سو طرح کے کیڑے نکالتے ہیں۔ گل سڑ جانے کی صورت میں پھینک بھی دیتے ہیں۔ لیکن جب کھیتی باڑی کرنے والی اس خاتون کے ساتھ گزرا دن یاد کریں تو احساس ہو گا کہ وہ کس قدر محنت اور خون پسینہ ایک کر کے فصل اگاتی ہے لیکن ہم ایک ثانیے میں اس کی محنت کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔زندگی کے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کرنا ایسا عمل ہے جو کسی بھی انسان کو اپنی ذات اور دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے جب کہ یہ عمل انسان کو ایک بامعنی اور اطمینان بخش زندگی گزارنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اقبال کا فلسفہ خودی بھی ایک اہم پہلو ہے جو زندگی کے فلسفے سے جڑا ہوا ہے۔ اقبال کے مطابق،خودی کا مطلب اپنی ذات کی پہچان ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر یقین اور اپنی منزل کا حصول ہے۔ خودی کا تصور انسان کو اپنی زندگی میں مقصد اور سمت تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے لیکن اس پر غور و فکر کرنے سے انسان اپنی ذات اور کائنات کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔اس طرح ایک بامعنی اور اطمینان بخش زندگی گزار سکتا ہے۔ زندگی گزارنے کے تین فلسفے زیر بحث لاتے ہیں: پہلا فلسفہ یہ ہے کہ کچھ بھی نہ کیا جائے۔ یہ فلسفہ ان لوگوں کا ہے جو زندگی کی راہ میں آنے والی کسی بھی مشکل یا موقع کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسے بدلنے یا روکنے کی ضرورت نہیں۔ہوا کے رخ پر چلنا اور کسی بھی اضافی کوشش سے بچنا ہی ان کا فیورٹ ازم ہے۔ ان کے نزدیک موت کا ایک دن معین ہے۔پھر کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس فلسفے پر یقین اور عمل کرنے والے 70 فیصد سے زیادہ لوگ اس معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔
زندگی کا ایک دوسرا فلسفہ بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ کیا جائے۔ یہ درمیانی راستہ اختیار کرنے والے وہ لوگ ہیں جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جینا مجبوری ہے اور جب تک زندہ ہیں کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے۔تیسرا فلسفہ یہ کہ سب کچھ کیا جائے۔ اس فلسفہ پر عمل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کسی بھی کام کو اس کے انتہائی انجام تک پہنچایا جائے۔چاہے وہ کام اپنے لیئے ہو یا معاشرے کے لیئے، پیسہ کمانا ہو، نام یا شہرت اس فلسفہ کے لوگ ہر ممکن کوکشش کرتے ہیں جو کچھ بن پڑے۔زندگی کے لیئے کر گزرنا چاہیے۔یہ تینوں زندگی کے مختلف فلسفے ہیں جو مختلف نظریات اور طرزِ عمل کے حامل افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ زندگی گزارنے کے لیئے کون سا فلسفہ اپناتے ہیں۔