دنیا کے حالات جب کجی اورپیچ وخم اختیار کریں توتاریخ کاقلم بھی سکوت میں تیر چھوڑنے لگتا ہے۔یہاں ہم ایک ایسے عہد کا تذکرہ کر رہے ہیں جس میں جنگ کاچہرہ بدل چکایہ عہد وہ ہے جس میں جنگ کے گیت توپوں اور تلواروں سے نہیں،بلکہ برقی لہروں اور خودکار پرندوں سے گائے جارہے ہیں۔زمین پرسپاہی اب بھی ہیں، مگر فضا پرحکومت اڑتے لوہے کے پروں اورخاموش قاتلوں کی ہے۔فوجی محاذپرانسان کم اور مشینیں بیشتربولتی ہیں؛ ڈرونز، کروز میزائل، اور خودکار ہتھیارمیدانِ جنگ کے نئے قلم بن چکے ہیں۔
اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے ایک ایسے رازکوخودآشکارکیاجس پرپہلے صرف قیاس کے چرچے تھے۔بھارت نے پاکستان کے خلاف جھڑپوں میں اسرائیلی ساختہ ہتھیاراستعمال کیے۔ حالیہ کشیدگی میں اسرائیلی حکومت نے باضابطہ منظوری کااعتراف کیاکہ بھارتی آپریشن سندور کے دوران بھارت نے اسرائیلی ساختہ اسلحہ جن میں باراک-8میزائل اور بعض لوٹرنگ مونیوشنز/ ہاروپ ڈرونزخصوصی طورپراستعمال ہوئے۔ یہ صرف اسلحے کی فراہمی کامعاملہ نہیں،بلکہ ایک تزویراتی اشارہ تھاکہ بھارت اور اسرائیل عسکری سطح پرایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ایک کے دشمن کے خلاف دوسرے کااسلحہ براہِ راست استعمال ہو۔ یہ اعتراف صرف فنی اطلاع نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی دفاعی ربط کی گواہی ہے جس نے روایتی تصورِدشمنی کوتبدیل کیاجب ایک تیسرا فریق، دوسرے کے ساتھ براہِ راست دفاعی تعاون میں نظرآئے۔ پاکستان کیلئے یہ دوہراچیلنج تھا۔ایک جانب روایتی دشمن بھارت ، دوسری طرف اسرائیلی ٹیکنالوجی کاسامنا۔اس حقیقت نے خطے کی تزویراتی حرکیات کوبدل دیااورپاکستان کے دفاعی منصوبہ سازوں کوفوری ردعمل پر مجبور کیا۔ پاکستان نے اپنی بہترین صلاحیتوں اورمنصوبہ بندی سے ایک محاذ پردومکاردشمنوں کامقابلہ کیا اور بالآخر جب شکست دشمن کامقدربنی تودشمن نے امداد کیلئے اپنے باپ ٹرمپ کے سامنے دہائی دی اور ٹرمپ سیزفائرکامیڈل اپنے سینے پرسجاکراب امن کے نوبل انعام کامنتظرہے۔
اسرائیلی اعتراف بتاتاہے کہ عسکری سلسلے جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہیں‘ سازوسامان، تجربات اورجنگی ٹیکنالوجی بھی تبادلے کی اشیابن گئی ہیں۔اس نے اس قدیم مفروضے کوجھٹکادیاکہ دوملکوں کی جنگ میں ثالث غیرجانبدارہی رہتا ہے۔ آج جدید اسلحہ ساز کے ساتھ مباشرت روشنی ڈالتی ہے کہ جنگی حرمتِ کے روایتی دائرے بدل چکے ہیں۔
بھارتی فوج نے اپنی دستیاب صلاحیتوں کو منظم کرنے کیلئے نئے ڈرون/یواے وی دستوں کا اجراء تیزکردیاہے؛سوال یہ ہے کہ بھارتی فوج کی نئی ’’ڈرون بٹالین‘‘برتری کاخواب ہے یاعارضی فائدہ؟اور’’یواے ویز‘‘ایسابغیرپائلٹ کے ہوائی جنگی ہتھیارہے جن میں جہازکاعملہ یامسافرنہیں ہوتے ۔وہ خودکار ’’ڈرون‘‘ یا دور سے چلنے والی گاڑیاں ہوتی ہیں ۔ رفتاراوراونچائی کی ایک کنٹرول شدہ سطح پرطویل عرصے تک پروازکرسکتے ہیں اوربہت سے پہلوئوں میں اس کاکردارہے۔
اصطلاحا’’ڈرون بٹالین‘‘کوایک مستقل جنگی یونٹ کے طورپرترتیب دیاجارہاہے،جس میں محسوس،حملہ آورخودکش ڈرونزکواکٹھا کرکے مربوط آپریشنل اہداف دیے جاتے ہیں۔ بھارتی فوج میں ’’ڈرون بٹالین‘‘کے نام سے اس شعبہ کا مقصدڈرونزکوصرف نگرانی کے آلات کے طورپرنہیں،بلکہ براہِ راست حملہ آوریونٹس کے طور پراستعمال کرناہے۔یہ بٹالین جدید سینسرز، لائیو ڈیٹالنکس،اور ہتھیاربردارخودکش ڈرونزسے لیس ہوگی،جوکمانڈسینٹرسے براہِ راست کنٹرول میں رہیں گی۔اس تبدیلی کاخدوخال یہ ہے کہ ہر بٹالین میں تیزکمانڈ ، انٹیلی جنس، نگرانی، توثیق اور ہتھیار بردار ڈرونزکامجموعہ ہوگا،جس سے جنگی فیصلے کم وقت میں اورکم انسانی مداخلت سے لیے جاسکیں گے۔
فوجی ماہرین کے مطابق یہ بٹالین مختصرمدت میں برتری پیداکرسکتی ہے،خاص طورپراگرمخالف کے پاس ان ڈرونزکی تباہی یا روکنے کامؤثرنظام نہ ہو۔تاہم،ڈرون جنگیں محض مشینوں کی نہیں، الیکٹرانک ذہانت اورریئل ٹائم ڈیٹاکی بھی ہوتی ہیں جہاں پاکستان نے پہلے ہی اپنی صلاحیت کو بہتر بنانا شروع کردیاہے اورمصدقہ ذرائع کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں اسرائیلی ہاروپ ڈرونز کو کامیابی سے نیچے اتارکرپاکستان نے اس ٹیکنالوجی میں پہلے ہی اپنی مہارت کالوہامنوالیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ انڈیاکااس نئی ڈرونز کی یونٹ کی تیاری کیااسے عسکری میدان میں برتری دلاسکے گی؟
فنی طورپر،ڈرون بٹالین ایک وقتی برتری دے سکتی ہے خصوصاًجب دشمن دفاعی بندوبست غیر لپٹنے یاناکافی الیکٹرانک وارفیئررکھتاہو۔مگرحقیقی برتری تعداد،تربیت،کمانڈوکنٹرول نیٹ ورک، اور دشمن کی وِگِلنس(راڈار،ای ڈبلیو،سیٹوآئی ٹوایس آر) پر منحصرہے۔یہ تمام ٹولزفوجی کارروائیوں کے اندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تصورات ہیں، خاص طور پرانٹیلی جنس،نگرانی،اورجاسوسی ’’آئی ایس آر‘‘سے متعلق۔ریڈار (ریڈیوڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ) ایک ایسانظام ہے جواشیاکاپتہ لگانے اوران کی حد،زاویہ یارفتارکاتعین کرنے کیلئے ریڈیو لہروں کااستعمال کرتاہے۔الیکٹرانک وارفیئر ’’ای ڈبلیو‘‘برقی مقناطیسی سپیکٹرم کو کنٹرول کرنے کیلئے برقی مقناطیسی اورہدایت شدہ توانائی کا استعمال ہے،جس میں دشمن کے نظام کاپتہ لگانا، تجزیہ کرنااوران میں خلل ڈالنا،نیزدوستانہ نظاموں کی حفاظت کرناشامل ہے۔
سی سی ٹوآئی ایس آر (کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشنز،کمپیوٹرز،انٹیلی جنس، نگرانی، اور جاسوسی) ایک وسیع نظام ہے جوکمانڈروں کو مرثر فیصلہ سازی کیلئے ضروری معلومات اورکنٹرول فراہم کرنے کیلئے ان صلاحیتوں کومربوط کرتا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ڈرون‘بنیادجنگ میں سائلو (تنہا)ڈرونز شاندارنہیں رہتے؛انہیں جالِ شناسائی،دفاعی کوریج،اورباریک بین ہدفِ شناسی درکارہوتی ہے۔ اگرپاکستان نے سخت الیکٹرانک مداخلت اورمؤثرشورٹ رینج ایئربس ڈیفنس استعمال کیاتوڈرون بٹالین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
بھارت نے اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کرنئی جنگی حکمت عملی یہ تیارکی ہے کہ ڈرونز بٹالین کونگرانی،ہدفی نشانہ گیری، باریک حملے اوردشمن کے کمانڈ وکنٹرول کوخلل زدہ کرنے کیلئے استعمال کیاجائے اوربِلاواسطہ نشانے جیسے رڈار،میزائل سائٹس اورفوجی بیسزپرہاروپ ڈرونزسے خودکش حملے کے ذریعے پاکستان پر وار کیا جائے۔ الیکٹرانک وارفیئرمیں سرمایہ کاری ڈرونزکی کمانڈ لنک اورنیویگیشن کومتاثرکرنے کیلئے جیمِنگ،جی پی ایس اسپووفنگ اورریڈیو فریکوئنسی مداخلت شارٹ رینج اینٹی یواے وی شیلڈز، کاؤنٹر ڈرون سسٹمز جیسے سپائڈراینٹی یواے وی شیلڈنگ اورکینیٹک انٹرسیپشن مڈ-رینج اورلورینج ایئربس دفاع کی ریفارمنگ،تیزی سے موبائل لانچرزکوحرکت میں لایاجائے۔
لیکن پاکستان اس تمام دشمن کاروائیوں پرکڑی نگاہ رکھنے کیلئے جوابی کاروائیوں کی مکمل تیاریوں میں خودکفیل ہے۔اس سلسلے میں بھارتی ڈرون بٹالین کے افعال اورپاک افواج کی جوابی تیاریاں بھی عروج پرہیں گویاآئندہ جنگ میں پہلی مرتبہ امینی جنگ کی بجائے فضائی حدودمیں کامیابی اور ناکامی کے فیصلے ہوں گے۔اس سلسلے میں متوقع ڈرونز جنگ میں پاکستان نے اپنے اس اہم فرائض کی تکمیل کیلئے بھارتی ڈرونزبٹالین کی تمام خفیہ اور اعلانیہ تیاریوں پرکڑی نگاہ رکھتے ہوئے دشمن کے حساس مراکز کی نگرانی،وقت آنے پرمخصوص اہداف پرپیشگی دفاع کے نقطہ نظرسے اپنے حق کے پہلے استعمال کااعلان کرتے ہوئے انڈیا کے مشرقی علاقوں کومنتخب کرنے کاعالمی میڈیامیں اعلان کردیاہے جس میں فوری اقدام کے طورپردشمن کے ریڈاراورکمانڈ سسٹم کوناکارہ بنانااولین ترجیح ہوگی۔
(جاری ہے)