Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

حکمتِ عملی، جنگ اور امن کا فلسفہ

(گزشتہ سےپیوستہ)
پاکستان نے اس کے مقابل تین سطحی حکمت عملی اپنائی ہے۔الیکٹرانک وارفیئر، ریڈیو فریکونسی جیمنگ اوراسپووفنگ کے ذریعے دشمن کے ڈرون کو ’’اندھا‘‘ کردینے، کاؤنٹرڈرون سسٹم جس میں چھوٹے فاصلے کے اینٹی ڈرون ہتھیار، جوفضامیں ڈرون کومار گرائیں اور ملٹی لیئر ایئرڈیفنس حملے،درمیانے اورکم فاصلے کی دفاعی پرتیں، جوڈرون یامیزائل کوقریب آنے سے پہلے تباہ کردیں کی کاروائیوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا۔
بھارت کے پاس ہے’’ہیروں‘‘نامی ڈرون ہے جولمبے فاصلے تک اڑکردشمن کی زمین کا چپکے سے جائزہ لیتاہے،بالکل ایسے جیسے کوئی گدھ آسمان سے شکارپرنظررکھے۔یہ یاتو باہر سے منگوایاگیاہے یاباہروالوں کی اجازت سے بنایا گیا ہے۔ پھرآتاہے ہاروپ،یہ ڈرون کوئی عام جاسوس نہیں،بلکہ خودکش،جوریڈارسگنل پرنشانہ باندھتے ہیں پہلے ہدف ڈھونڈتا ہے، پھر سیدھا جاکراس سے ٹکرا کر پھٹ جاتاہے۔ایک اورایم کیو 9ریپر ڈرون،جوگھنٹوں نہیں بلکہ پورادن آسمان میں رہ سکتاہے۔یہ نگرانی بھی کرتاہے اور ضرورت پڑے تو نہایت درست نشانہ لگاکرحملہ بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت چھوٹے چھوٹے ڈرونز کا جھنڈبھی تیارکررہاہے،جوایک ساتھ آسمان میں اڑکر دشمن کوگھیرلیتے ہیں،جیسے چڑیاکا غول کھیت پراترتاہے۔ان میں سے کئی ڈرون اب اسرائیل کی مددسے بھارت میں ہی بن رہے ہیں، اورکچھ توسیدھے سیدھے کام کازی یعنی خودکش اندازوالے ہیں۔
پاکستان کے پاس اپنابنایاہوابراق ڈرون ہے جومیزائل ساتھ لے کرچلتاہے اورجہاں حکم ہو، وہاں سیدھانشانہ لگاتاہے۔اس کے بعدہیں شاہپر -2اور شاہپر-3،یہ درمیانی فاصلے تک اڑکردشمن پر نظر رکھتے ہیں اوراگرضرورت ہوتوہتھیاربھی چھوڑ سکتے ہیں۔’’یواے وی‘‘کاؤنٹرڈرون یونٹس، جو دشمن کو فضامیں تباہ کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ یہ سب ڈرونز ہمارے اپنے ادارے’’جی آئی ڈی ایس‘‘ اوردوسرے دفاعی مراکزمیں تیارہوتے ہیں، یوں کہیے کہ یہ ہماری اپنی فضاکے بازہیں، جو دشمن کی آنکھیں پھوڑدینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔
ہاروپ ایک ایساخودکارخاموش قاتل ہتھیار ہے جوبظاہر’’یواے وی‘‘کی طرح ہوتا ہے۔ یہ ہدف کے اوپر گھنٹوں پرواز کرسکتا ہے، اور جب مطلوبہ نشانہ سامنے آئے توسیدھا ٹکر ا جاتا ہے۔اس کی نشاندہی مشکل اس لیے ہے کہ اس کا سائز چھوٹااوررڈارپرکم ظاہرہوتاہے۔یہ زمین کے قریب سست رفتاری سے پروازکرکے رڈار کو دھوکہ دیتاہے۔یہ خودکار ہدف شناسی الگورتھم استعمال کرتاہے،جس سے انسانی مداخلت کم ہوجاتی ہے۔
اگرچہ ہاروپ کی تباہی کے بعد نشانات اور ملبہ ملیا میٹ ہوجاتاہے،مگرپاکستان نے حالیہ جنگ میں کئی ہاروپ بحفاظت اتارے جانے والے ڈرونزکی بحالی اور تکنیکی تحقیق کے حوالے سے اہم ہیںکیونکہ ان سے سافٹ ویئر،نیویگیشن اورسنسر ٹیکنالوجی کی نقالی ممکن ہے۔حقائق کی تفتیشی رپورٹوں اورفوجی بیانات نے اس دعوے کوتقویت بخشی ہے،مگر پاکستان کے عسکری ادارے کے علاوہ آزادتحقیقات اور تصاویرکی بنیادپرتجزیہ جاری کیاگیا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف کامیابی سے69سے زائدہاروپ اوردیگرڈرونزکوتباہ کیا اور ان کے ملبے کاعالمی میڈیاکوموقع پر جاکر دکھانا اس کامضبوط ثبوت ہے اورکچھ کوبحفاظت زمین پر اتارکران کاسافٹ ویئراورسینسر ٹیکنالوجی کا تجزیہ کرکے اس کی تباہی کافارمولہ تیارکرنے کے پاکستانی دعوے نے اسرائیل اوربھارت کیلئے کئی مشکلات بڑھا دی ہیں کیونکہ اسرائیل کادعوی تھا کہ امریکاکاجدید ترین نظام بھی ہاروپ ڈرونز کی نشاندہی کرنے سے قاصرہے۔
حال ہی میں آئی ایس پی آرکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلومبرگ کوانٹرویومیں واضح طورپریہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے جنگی اہداف کیاہوں گے اورپاکستان اپنے پیشگی دفاع کے حق کواستعمال میں پہل کرنے سے گریزنہیں کرے گا۔فوجی بیانات میں ایک واضح اشارہ دیاگیاکہ کسی بڑے حملے کی صورت میں پاکستان اپنی دفاعی اورجوابی صلاحیت کو مشرقی بھارت تک پھیلائے گا۔یہ بیان دورخ رکھتاہے،ایک طرف یہ ڈٹرنس یعنی روک تھام کاپیغام ہے، دوسری طرف دشمن کے اندراضطراب پیداکرنے کی حکمت عملی۔یادرہے کہ صحافتی رپورٹس اورفوجی بیانات میں کبھی کبھارایسی دھمکیوں یااشاروں کاذکرملتاہے جوجنگی مفاہمت یاجوابی طاقت کی اطلاع دیتے ہیں۔اگرپاکستان نے’’مشرقی انڈیا کو نشانہ بنانے‘‘کاعلانیہ اشارہ دیاہے تواسے دوسیاق میں سمجھاجاناچاہیے:
٭جوابی تلافی کابطورِڈٹرنس اظہار؛ سیاسی پیغام دشمن کے اندرخوف اوربیرونی دنیا کو خبردار کرنے کاسیاسی آلہ۔عملی طورپر،بین الاقوامی قوانین، علاقائی پیچیدگیاں اورجوہری رکاٹ ایسے فیصلوں کومحدودکرتے ہیں ۔البتہ عسکری طورپر پاکستان کی جانب سے مشرقی علاقے پردھیان دینے کا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ وہ اپنی رینج- آبجیکٹیوز، فضائی اورراکٹ صلاحیتوں کواس لحاظ سے پر کرے گاکہ اگرضرورت پڑی توجوابی ضرب توجہ کے ساتھ دی جاسکے۔(یہ مرحلہ زبانی بیانات، اسٹریٹجک بریفزاوردفاعی مطالعوں پرمنحصر نہیں ہے بلکہ پاکستان اس سلسلے میں جدیدسہولیات کے ساتھ مکمل تیاری کرچکاہے)۔اب آئیے ہم امریکی اپاچی ہیلی کاپٹرجوانڈیااوراسرائیل کے زیراستعمال ہیں اورچینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘کاایک فنی وعملی موازنہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ جنگی اسلحے کی طاقت اورکارکردگی کاادراک ہوسکے۔
چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘کاانجن طاقتور ہے اورگرم موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتاہے۔اس میں ٹینک تباہ کرنے والے میزائل،درمیانے سائزکی توپ،اورراکٹ لگے ہوتے ہیں۔اس میں جدیدریڈار،سینسراورمضبوط بکترموجودہیں جوحفاظت بڑھاتے ہیں۔ یہ نہ صرف نسبتاً سستاہے،اس کی مرمت آسان ہے، اورپاکستان کی ضرورت کے مطابق بنایاگیاہے بلکہ اس کی تیاری میں پاکستانی انجینئرزکابھی خاصاعمل دخل ہے۔
جبکہ اپاچی ہیلی کاپٹر(امریکا)کاانجن ہر طرح کے موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے۔ اس میں جدیدمیزائل،بڑی توپ اورراکٹ سسٹم نصب ہیں۔اس میں اعلیٰ درجے کاریڈار اور الیکٹرانک دفاعی نظام ہے۔یہ مہنگاہے،لیکن کئی سالوں سے آزمودہ اورقابلِ بھروسا ہے۔پاکستان کیلئے چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘ایک عملی انتخاب کا کامیاب نتیجہ ہے ،وہ مقامی میدانِ کاروائی، لاجسٹک قابلیت اورروس/امریکاتک رسائی کی پابندیوں کومدِنظررکھتے ہوئے موزوں حل فراہم کرتاہے۔مگرحقیقی فتح پائلٹس،نیٹ ورک، اورہار مونی میں ہے نہ کہ محض ہوائی گاڑی کی تکنیکی تفصیل میں۔
پاکستانی دفاعی حکمت عملی میں چینی ہیلی کاپٹر ’’زیڈ-10ایم ای‘‘کا انتخاب چندعملی محرکات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔مغربی (خاص کر امریکی) ہتھیاروں تک محدودرسائی،چین کے ساتھ بڑھتاہوادفاعی تعلق،لاگت اورمرمت میں آسانی،اوراسٹرائیک/باہمی دفاعی تقاضوں کیلئے مناسب کارکردگی،اورمتعدد رپورٹس کے مطابق ’’زیڈ-10ایم ای‘‘ کو پاکستانی ضرورت کے مطابق موافق بنایاگیاہیسینسرٹیوننگ،ریڈیئٹر/انجن اپگریڈ اور ساحلی/صحرائی آپریشن کیلئے فلٹرنگ سسٹمز شامل کیے گئے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں