(گزشتہ سےپیوستہ)
پاکستان کے میدان اوربجٹ کیلئے زیادہ موزوں چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘ ہے، جبکہ اپاچی جدید ٹیکنالوجی اورجنگی تجربے میں آگے ہے۔ موجودہ حالات میں چین کاہیلی کاپٹر پاکستان کیلئے بہترانتخاب سمجھاجارہاہے۔تاہم گزشتہ پاک بھارت جنگ میں انڈیا نے فرانسیسی طیارے رافیل کی موجودگی میں خطے میں اپنی برتری کے بڑے نعرے لگائے تھے لیکن وقت آنے پرانڈیاکے تکبر کوپاش پاش ہوتے ہوئے ساری دنیانے دیکھاکہ پاکستانی شاہینوں نے اپنے ہی علاقے سے ان کے نہ صرف پر خچے اڑادیئے بلکہ درجن سے زائد طیاروں کو تکنیکی طورپر’’لاک‘‘کرکے اپنی مہارت کا ایسا پیغام چھوڑاجس نے ساری دنیاکے دفاعی تجزیہ نگاروں کوبھی مبہوت کردیا اوربالآخررافیل کمپنی کے سربراہ کوعالمی میڈیا کے سامنے نہ صرف اپنے طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرناپڑا بلکہ اس نے یہ کہہ کرمودی سرکارکامنہ بھی کالاکردیاکہ ہم نے طیاریفروخت کئے ہیں،لڑنے کاحوصلہ نہیں۔
تکنیکی موازنہ صرف تیزرفتار اعدادوشمار نہیں‘ یہ نظریے اورسیاسی بنیادیں بھی ہیں۔مغربی ٹیکنالوجی(امریکا،یورپ)روایتی طور پراعلی فِیڈِلِٹی، طویل تجربہ اورجامع سپلائی چین دیتی ہے۔چینی ٹیکنالوجی نے پچھلے ایک دہائی میں تیزی سے ترقی کی قیمت میں کم، مقامی طورپرموافق اورتیزی سے اپگریڈ پذیر۔نتیجتاً مغرب کی ٹیکنالوجی اکثرزیادہ پیچیدہ، آزمودہ اور مستقل ہوتی ہے؛چینی میدانِ جنگ میں فرق ٹیکنالوجی رفتہ رفتہ کئی میدانوں میں مقابلہ کررہی ہے،خصوصاًجب قیمت اور لوکلائزیشن کاسوال ہو۔
علاوہ ازیں امریکااورمغرب سے اسلحہ کی خریداری کے وقت سیاستی اثرات کے ساتھ ساتھ سیاسی خود مختاری کاایک راستہ مجروح ہونے کا اندیشہ قائم رہتاہے جس سے ملکی استحکام کے فیصلوں پر بھی زدپڑنے کاخدشہ بدرجہ اتم موجودرہتاہے لیکن چین کے ساتھ ایساکوئی معاملہ نہیں۔اس لئے مغربی ٹیکنالوجی طویل آزمائش اوراعلی معیار تو ضروررکھتی ہے،مگرمہنگی ہے۔چینی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے،نسبتاًسستی ہے، اور گاہک کیلئے کسٹمائزیشن میں لچکدار۔ پاکستان کیلئے چینی ماڈلزسیاسی و مالی دونوں پہلوئوں سے قابلِ قبول ہیں اور ترسیل کیلئے پڑوسی ملک ہمیشہ ایک بہترین انتخاب ہوتاہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں اوراقتصادی اقدامات نے بھارت کومتبادل اتحادیوں کی تلاش پرمائل کیا۔چین کے ساتھ تجارتی ودفاعی روابط اور روس سے توانائی واسلحہ خریداری کے امکانات بڑھ گئے۔ امریکا کا ردعمل غالباً دبائو اور مذاکرات کاامتزاج ہوگا، مگربھارت اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔حالیہ سفارتی واقتصادی پیچیدگیاںجن میں ٹرمپ کی طرف سے بھارت کے خلاف عائدتعرفی اقدامات( ٹیرِفس/پابندیاں) شامل ہیں نے نئی کشیدگی پیداکی ہے۔اس طرح کی اقتصادی دباؤپالیسیاں دہلی کودوسری طاقتوں چین، روس کے قریب لے جانے کا محرک بن گئی ہیں،خاص کرجب انڈیاتوانائی(روسی تیل)، دفاعی سازوسامان،اورتجارتی مواقع کی تلاش میں بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کاعمومی خیال ہے کہ ٹرمپ کے غیرمتوقع تجارتی فیصلے بھارت- امریکاتعلقات میں کشیدگی کے فوری بعدمودی نے پینترہ بدلتے ہوئے روس اورچین کی بلائیں لینی شروع کردی ہیں اورامریکی اسلحے کے متوقع خریداری کے سودے کوبھی مؤخرکرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاان موجودہ تناظرمیں روس اورچین بھارت پرمکمل اعتبارکرنے کیلئے تیارہوں گے؟
روسی-ہندوستانی تعلقات تاریخی ہیں، خصوصاً دفاع اورتوانائی کے شعبے میں۔ روس، جوبھارتی ہتھیاروں اورایندھن کابڑاذریعہ ہے، تیزی سے دوبارہ اعتمادحاصل کرسکتاہے بشرطیکہ دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات میل کھائیں۔ البتہ بھارت اپنی تزویراتی خودمختاری برقرار رکھنے کا خواہشمندرہے گاتاکہ مزیدامریکی ردعمل کا مقابلہ کرسکے؛وہ امریکا کو اب بھی یقین دلانے کیلئے درپردہ کوششیں کررہاہے کہ حالیہ جھکاؤ ممکنہ طورپرمختصر مدت تک ہوسکتاہے۔
لیکن امریکاکے ممکنہ ردعمل کی دوراہیں ممکن ہیں(الف) مزید اقتصادی/فوجی دباؤ، (ب) سفارتِ بازاری اورقریبی مذاکرات کی کوشش۔ ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ پالیسیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ واشنگٹن دباؤکے ذریعے پالیسیاں بدلواناچاہتاہے،مگر اس کے خلاف عالمی پالیسی اورکثیرالاطراف مفادات بھی کام کریں گے۔ نتیجتاً،بھارت کوایک معتدل،مگرپریشان کن غیریقینی میدان مِلے گاجس میں وہ وقتی طورپر متبادل اتحادی تلاش کرے گا۔
علاقائی امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور بین الاقوامی میکانزم کوفعال رکھنالازم ہے؛ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی محاذآرائی نہیں بلکہ تصورات کی ایسی کشمکش ہے جوخودمختاری،تزویراتی اعتماد کا پھندہ تھامے اپنے شکار کی تلاش میں ہے۔عسکری جوابات کوسیاسی راہوں کی نسبت آخری قدم بنانا چاہیے۔دفاعی سازوسامان کی مقامی تیاری اور ریورس انجینئرنگ کے ذریعے خودانحصاری کو فروغ دیا جائے،تاکہ بیرونی بندشیں ملکی دفاعی صلاحیت کوفوری طورپرمتاثرنہ کریں۔اس کے ساتھ یہ ضرورذہن نشین رہناچاہئے کہ امریکاکی دوستی کوہم سے بہترکوئی نہیں جانتا،تیل کی تلاش میں بلوچستان میں تعاون کی پیشکش پرایک مرتبہ نہیں،سوبارسوچنا لازم ہے۔