Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بیت المقدس کا مقدمہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
اعلانِ بالفورمیں یہودیوں کیلئے جوبین الاقوامی حقوق کی ضمانت دی گئی،وہ درحقیقت انہیں ایک خاص نسلی ومذہبی استثنادینے کی کوشش تھی، جوپوری دنیا میں ایک خطرناک نظیربن گئی۔ یہ امربذاتِ خوداس اعلان کے دہرے معیار، سامراجی تعصب،اورمخصوص عالمی ایجنڈے کاپتہ دیتا ہے۔ ایک طرف یہودیوں کے حقوق پر غیر مشروط یقین دہانی،اوردوسری طرف فلسطینی مسلمانوں کیلئے مشروط، مبہم اورقابلِ تاویل جملے،یہ سب ایک منظم منصوبے کی چغلی کھاتے ہیں۔یہ وہ اعلان تھاجس میں انصاف کے لباس میں نفاق چھپا ہوا تھا، تہذیب کی آڑمیں جارحیت بول رہی تھی، اور ہمدردی کے پردے میں مفادپرستی کاناچ تھا۔
اس نکتے میں ایک ایسافلسفیانہ تضادپنہاں ہے جوصرف مغرب کی منافقت زدہ سیاست ہی پیدا کرسکتی ہے۔فلسطینی عربوں کے حقوق کی بات مشروط طورپرکی گئی،لیکن مغربی ممالک میں یہودیوں کے سیاسی حقوق کویقینی بنانے کااعلان بلاشرط کیاگیا۔یہ اعلان دراصل ایک اعلیٰ نسل (یہود) کوعالمی درجہ عطاکرنے کی کوشش تھی، جبکہ دوسری طرف فلسطینیوں کو صرف سہنے کی ضمانت دی گئی۔اگراسے لطیف نثرمیں لکھاجائے تو شاید یوں ہوکہ یہ عجیب اعلان ہے!گویاایک طرف شعلوں کاوعدہ ہے،اوردوسری طرف بادلوں کی تسلی ہے۔
یہودیوں کیلئے آسودگی کی چھتری، اور اہلِ فلسطین کیلئے آندھی کی آغوش۔اس نقطے میں مغرب کی وہ نسلی برتری کھل کرظاہرہوتی ہے جس نے دنیاکودوسری جنگِ عظیم سے پہلے بھی جلایا اور بعدمیں بھی۔آج بھی یہی دہرامعیاراقوامِ متحدہ کی پالیسیوں، انسانی حقوق کے قوانین،اورمیڈیاکے بیانیے میں واضح دکھائی دیتا ہے۔
دلچسپ تضادیہ ہے کہ نہ صرف مسلمان، بلکہ خودبہت سے یہودی بھی اسرائیل کے قیام کو ایک مذہبی بغاوت سمجھتے ہیں۔ہر یہودی اسرائیل کے قیام کاحامی نہیں ہے،’’نیٹری کارتا‘‘ جیسا فرقہ اسرائیل کو’’خدائی حکم کی خلاف ورزی‘‘ اور ایک مذہبی بغاوت تصورکرتے ہیں۔ان کے مطابق حقیقی یہودی تب تک وطن قائم نہیں کرسکتے جب تک ان کے عقیدے کے مطابق مسیحانہ آئے، یہودیوں کوکوئی ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں لیکن سیاسی صیہونیت نے مذہب کوآل کار بناکر دنیاکویہ باورکرایاکہ اسرائیل کا قیام یہودیت کامذہبی تقاضا ہے۔اس طرح صیہونی سیاسی تحریک نے مذہب کوبھی اپنے سیاسی مفادکااسیربنالیاہے۔
یورپ میں یہودیوں کی نکاسی کومحض تعصب کہناتاریخ سے ناانصافی ہوگی۔صدیوں تک انہوں نے معاشی اجارہ داری،مالی سود خوری، اور خفیہ تنظیموں کے ذریعے ریاستی ڈھانچوں کو اندر سے کھوکھلاکرنے کی کوشش کی۔ جرمنی، فرانس، پولینڈاورروس جیسے ممالک میں یہودیوں کی مسلسل بے دخلی محض تعصب کانتیجہ نہ تھی بلکہ اکثر مقامات پران کی مالیاتی اجارہ داری ،خفیہ ریشہ دوانیاں، اورثقافتی تصادم نے مقامی اکثریتی اقوام کو برانگیختہ کیا۔گویاہراخراج کاپسِ منظرایک پیچیدہ سیاسی وتہذیبی کشمکش رکھتا ہے۔یہ وہی فتنہ پرور سوچ تھی جس کا قرآن کریم میں بارہا ذکر آیا: اورہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دودفعہ فسادمچاگے اوربڑی سرکشی کرو گے۔ (الاسراء:4)
یہودیوں نے خلافتِ عثمانیہ سے فلسطین کے بدلے قرض اتارنے کاسوداکرناچاہا، جب عثمانی خلافت قرضوں کے بوجھ تلے دب رہی تھی،تب یہودی سرمایہ داروں نے فلسطین میں وطن کے بدلے قرض اتارنے کی پیش کش کی۔مگرسلطان عبدالحمید ثانی نے دوٹوک انکارکرکے تاریخ میں غیرتِ ایمانی کاایک روشن باب رقم کرتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا:’’میں اپنی ریاست کواس طرح نہیں بیچ سکتاجیسے کوئی دودھ بیچنے والااپنی بالٹی بیچ دیتاہے اورمیں اپنے جسم کے زخموں پرصیہونی نمک نہیں چھڑکوں گا‘‘۔یہ انکارفقط سیاسی نہیں،بلکہ دینی غیرت اورایمان کامظہرتھا۔یہ پیشکش تردید کے طومارمیں لپیٹ دی گئی اورخلافت نے آخری دم تک فلسطین کی حرمت کاسودانہ کیا۔
کیا اسرائیل محض ایک قوم کی پناہ گاہ ہے؟ یایہ سامراج کاایک مستقل قلعہ ہے جوتیل سے لبریز سرزمین پرپہرہ داری کافریضہ سرانجام دیتا ہے؟ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں امریکااور مغرب کامستقل عسکری اڈہ ہے۔یہاں نہ توامن مطلوب ہے نہ ہی انصاف؛ بلاشبہ،اسرائیل کا وجود خطے میں امریکی عسکری وتجارتی مفادات کانگہبان ہے بلکہ مقصدصرف یہ ہے کہ اسرائیل کوبطور کرائے کے سپاہی استعمال کرکے مسلمانوں کوآپس میں لڑایاجائے اورخطے کے وسائل کو لوٹا جائے۔ ایک ایسادائمی چوکیدارجو مشرقِ وسطی میں کسی بھی ابھرتی ہوئی طاقت کوکچلنے کیلئے استعمال کیا جاسکتاہے۔
اسرائیل کے ذریعے مغرب نے اس خطے میں نہ صرف اپنے عسکری سازوسامان کی منڈی قائم کی بلکہ اپنی دفاعی صنعت کے مستقل صارف بھی تلاش کیے۔یہودی ریاست نے دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ کی منڈیوں سے معاہدے کرکے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل جنگ کامیدان بنادیا۔جنگیں برپا ہوئیں، معاہدے ٹوٹے،اورہرسمت خون بہتا رہا مگر اسلحے کی منڈی ہمیشہ گرم رہی۔مسلمان ریاستوں کوڈرایا گیا،دبایاگیا،اورمجبورکیاگیاکہ وہ اپنی دولت مغربی دفاعی صنعتوں کے قدموں میں نچھاور کردیں۔
یہودی لابیاں خصوصاً امریکن اسرائیل پبلک افیئرکمیٹی جیسی تنظیمیں امریکی سیاست کواپنی گرفت میں لیے بیٹھی ہیں،میڈیا کنٹرول،بینکاری نظام، عدلیہ اورہالی ووڈجیسے میدانوں میں اس حد تک سرایت کرچکی ہیں کہ امریکی کانگریس اور یورپی پارلیمان بھی ان کے اشاروں پرچلنے لگے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ امریکااسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالرزکی امداد دیتاہے اوراس کے بدلے میں پالیسی سازی میں بھی اسرائیل کی رائے غالب آتی ہے۔ہرشعبہ یہودی لابیوں کے زیر ِاثر ہے۔ اب وہ وقت آچکاہے کہ اسرائیل نہ صرف خودمختار ریاستوں کوبلیک میل کرتاہے بلکہ اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کوبھی محض ایک کٹھ پتلی بناچکا ہے۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں