Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وطن کی شہ رگ کا سودا نہیں ہوگا

دنیاکی سیاست آج ایک ایسے موڑ پر آکھڑی ہے جہاں قوموں کی تقدیریں صرف جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ سفارت کے ایوانوں، معیشت کے زینوں اوراتحادکی فصیلوں پرلکھی جارہی ہیں۔یہ وہ وقت ہے کہ جب برصغیرکی فضا میں ایک نیاطوفان اٹھ رہا ہے اوریہ طوفان محض ہوا کا جھونکا نہیں ،بلکہ وہ آندھی ہے جوکمزورخیموں کو اکھاڑپھینکتی ہے اورمضبوط قلعوں کی دیواروں کو مزیدسخت کردیتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی قوت کے سرچشموں کوبیدارکرتی ہیں،تو دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی ان کے قدموں میں جھک جاتی ہیں۔
دورِ حاضرکے ہنگامہ خیز منظرنامے میں، جہاں قوموں کی تقدیریں ایک لمحے میں پلٹ جاتی ہیں اورجہاں سفارت کے دبیزپردوں کے پیچھے معرکے لڑے جاتے ہیں،ایک تازہ باب رقم ہوا ہے۔ اس باب کے مرکزی کرداروہ مردِمیدان ہیں جن کی نگاہ زمان ومکان کی قیدسے آزاداورجن کے قدم حالات کی دھندمیں بھی سمت پہچانتے ہیں۔
اسی منظرنامے میں حالیہ دنوں ایک نیاباب کھلا ہے۔دہلی کی فضائوں میں غیرمعمولی ارتعاش اس وقت محسوس ہواجب خودبھارت کے عسکری ایوانوں سے یہ صدااٹھی کہ ملک کی حفاظت صرف بندوق اوربارودکاکھیل اورتلوارکی دھار نہیں، بلکہ معیشت کی مضبوطی،سیاست کی بصیرت اور عوام کا اعتمادبھی اس کے قلعے کی فصیلیں ہیں۔نئی دہلی میں طوفان اس وقت اٹھاجب خودبھارت کے عسکری حلقوں سے ایک غیرمعمولی صدا بلند ہوئی۔دہلی کے عسکری حلقوں سے ابھرنے والی یہ صدامعمولی نہیں۔انڈین فوج کے سابق اورموجودہ جرنیلوں نے صاف کہہ دیاکہ ملک کی سلامتی محض توپ اورتلوارکاوظیفہ نہیں،بلکہ سیاست ومعیشت کی ہم آہنگی اورعوامی اعتمادکا مرہونِ منت ہے۔یہ پیغام مودی سرکارکے ان ایوانوں تک جاپہنچاجہاں اقتدار کاغرور حق کی آوازکودبانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ جملہ سیدھامودی حکومت کے سنگین کانوں تک پہنچاوہ حکومت جواپنے غرورِاقتدارکے نشے میں اپنی ہی صفوں کی صدابھی برداشت نہیں کر پاتی۔یہ تنبیہ سیدھی مودی کے دربارتک پہنچی،جہاں سیاسی خودپسندی اورتکبرکاغبارچھٹنے کانام نہیں لیتا۔
اسی دوران،پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر،ڈیڑھ ماہ میں اپنادوسرادور امریکامکمل کرکے لوٹے ہیں۔یہ محض ملاقاتوں کا سفر نہ تھایہ تعلقات کی ازسرِنوتعمیرکااعلان تھا۔ اس سفرنے دونوں ملکوں کے تعلقات کی کایاپلٹ دینے والے اشارے دیے ہیں۔امریکی عسکری مرکز سینٹ کام کے ٹمپا ہیڈکوارٹرمیں کمانڈرکی تبدیلی کی اعلیٰ تقریب میں جنرل منیرکی بطورمہمانِ خصوصی شرکت،ایک نئی فوجی قربت اورتعاون کی لہرکامظہرتھی۔یہ دورہ محض عسکری سلام وکلام نہیں تھا،بلکہ ایک نئے اعتماد،نئے رابطے اورنئی راہوں کااشاریہ تھا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے اعتماد کی ایک علامت تھی۔وہاں جنرل مائیکل کوریلانے پاکستانی جنرل کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے پاک-امریکا عسکری روابط میں نئی جان ڈالی۔جنرل عاصم منیرکابطورخصوصی مہمان،استقبال اورجنرل مائیکل کوریلا کاخراج تحسین پیش کرنااس بات کااعلان تھا کہ پاکستان عالمی بساط پرایک مضبوط،باوقار اور متحرک کرداراداکررہاہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں اس دورے کو محض عسکری ملاقات نہیں بلکہ ایک ’’تعمیرِنو‘‘ کے سفرکاسنگِ میل قراردیاگیاہے۔بلوم برگ کی رپورٹ نے اس ملاقات کوتعلقات کی تعمیرِنو کاسنگِ میل قراردیا،اوریہ دورے پاک-امریکا تعلقات کوایک پائیداراورمثبت سمت میں ڈالنے کیلئے ہیں۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کہ یہ دورہ ایک نئی جہت کاسنگِ میل ہے۔یہ تعلقات کوپائیداراورمثبت سمت میں ڈالنے کی کوشش ہیںاورمستقبل میں ممکنہ تجارتی معاہدے پاکستان کی معیشت کیلئے ایک نیاافق کھول سکتے ہیں۔ خودفیلڈمارشل منیرکے مطابق یہ دورے تعلقات کوایک تعمیری، پائیدار اورمثبت راستے پرگامزن کرنے کی کوشش ہیں اور مستقبل میں امریکاکے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے بھاری سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتے ہیں۔اوریہ تجارتی معاہدے پاکستان کی معیشت کیلئے کسی بارشِ رحمت سے کم نہیں۔
یہ خوش خبریاں اپنی جگہ،مگرافق پر خطرات کے بادل اب بھی چھائے ہیں۔یہ سب سفارتی گرمی کے بیچ بھی خطے کاآسمان کسی طوفانی بادل سے خالی اورپرامن نہیں۔جنرل منیرکا برملا انتباہ واضح تھاکہ بھارت نے خطے کوخطرناک جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے،اورپاکستان ہر جارحیت کامنہ توڑ جواب دے گا۔ان کاانتباہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتاہے۔ انہوں نے یاددلایاکہ کشمیرنہ بھارت کا’’ندرونی معاملہ‘‘ ہے اورنہ کبھی ہوگا۔یہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈاہے،ان کے الفاظ میں قائداعظم محمد علی جناح کاوہ عزم جھلکتاہے،جب انہوں نے فرمایاتھا ’’کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔
امریکی سینٹ کام میں خطاب کے دوران جنرل منیرنے بھارت کے’’وشواگرو‘‘بننے کے دعوے کومحض ایک فریبِ نظرخواب قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیاکہ عملی طورپر وہ خطے کے امن کوسبوتاژ کرنے میں مصروف ہے،حقیقت میں وہ خطے میں عدم استحکام کاسب سے بڑاذریعہ ہے۔ہماری حالیہ سفارتی اورسکیورٹی کامیابیاں اللہ تعالی کی رحمت،قوم کی اجتماعی کاوش،سیاسی قیادت کی دوراندیشی اورافواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کانتیجہ ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ ہم اٹھیں گے یانہیں،بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنی جلدی اور کتنی قوت سے اٹھیں گے۔
ادھرایک اورانڈین جھوٹ نے مودی سرکار کواقوام عالم میں شرمندہ کردیاجہاں انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل اے پی سنگھ نے تین ماہ بعددعوی کیاکہ مئی میں انڈیااور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیانے پاکستان کے کم ازکم6طیارے مار گرائے تھے۔واضح رہے کہ انڈیاکی جانب سے اب تک کسی قسم کے پاکستانی طیاروں کے گرائے جانے سے متعلق کوئی تصویری یاویڈیوشواہدبھی پیش نہیں کیے گئے جبکہ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیاتھاکہ انڈین فضائیہ کے پانچ گرائے جانے والے طیاروں میں سے تین رفال طیارے تھے جبکہ ایک مگ29لڑاکا طیارہ اورایک ایس یوطیارہ شامل ہے۔
یادرہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوزکی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعوی کیاگیاتھاکہ ان میں نظرآنے والا ملبہ ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کاہے جوانڈیا کی فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔ان میں سے ایک ویڈیوکی جیولوکیشن سے بی بی سی ویریفائی کوعلم ہواتھاکہ یہ انڈین ریاست پنجاب میں بھٹنڈہ کے مقام کی ہے۔اس ویڈیومیں یونیفارم میں ملبوس اہلکارلڑاکا طیارے کاملبہ اکھٹاکرتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔دوسری جانب چین کے ایک معتبرتھنک ٹینک نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے تین ماہ بعددینے والے بیان کونہ صرف مضحکہ خیز قرار دیابلکہ ٹھوس شواہدسے مستردکردیااوراب عالمی دفاعی ماہرین بھی اس جھوٹی خبرکومودی کی نئی تذلیل قراردے رہے ہیں۔
اس سب کے بیچ،جہاں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے عالمی سطح پرپھیلائے گئے جال بے نقاب ہوتے جارہے ہیں وہاں اس کے گھناؤنے منصوبے بھی عیاں ہوتے جارہے ہیں ، کینیڈامیں سکھ رہنماکا قتل،قطرمیں آٹھ نیول افسران کامعاملہ،اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات اس کی زندہ مثالیں اورشواہد ہیں۔
18جون2023ء کوبرطانوی کولمبیاکے شہرسروں میں واقع گوردوارہ کے پارکنگ لاٹ میں سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکوگولی مار کرقتل کر دیا گیا۔کینیڈین سیکیورٹی ایجنسیزنے بھارتی حکومت کے ایجنٹس کے ممکنہ ملوث ہونے کی بنیاد پرتحقیق شروع کی۔وزیر اعظم جسٹن ٹروڈونے اس واقعے پرشدیدردعمل دیااوربھارت سے تعاون کامطالبہ کیا۔وزیراعظم نے اعلان کیاکہ کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں مضبوط ومصدقہ قابلِ اعتبار الزامات کی بنیادپرتحقیق کررہی ہیں کہ ممکنہ طور پر بھارتی حکومت کے ایجنٹس اس قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ 2024ء میں کینیڈین پولیس نے اس کیس میں تین افرادجن کی شناخت بھارتی نژادشہریوں کے طورپرکی گئی ہے ،کوقتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتارکیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔
اس پردوطرفہ تعلقات میں تیزی سے تلخی آئی،اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے اپنے سفارتی نمائندوں کاتبادلہ کیابھارت نے کینیڈاکے سفارتی عملے کوبرطرف کیا،اورکینیڈانے بھارت کاہائی کمشنر ملک بدرکیا۔کینیڈاکی جاسوس ایجنسی سی ایس آئی ایس نے اس قتل کو’’ٹرانس نیشنل‘‘ دباؤ اورانتقام کاایک نیادرجہ قراردیااوربھارت کو خارجی مداخلت کاذمہ دار ٹھہرایا۔آسٹریلیا،برطانیہ اور امریکانے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور دونوں ممالک سے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔
2022 ء اگست میں قطرنے8سابق بھارتی نیول افسران کوگرفتارکیا،جنہیںقطرسب میرین پروجیکٹ سے متعلق اسرائیل کیلئے جاسو سی کرنے میں موت کی سزاسنائی گئی جوبھارت کیلئے شدیدصدمہ کاباعث بنی۔وزیرخارجہ ایس جے شنکر اورنیوی چیف نے مقدمے میں بھارت کے شہریوں کیلئے معافی کی درخواست کی۔ دسمبر 2023 ء میں قطری اپیل کورٹ نے سزاکو مؤخر کردیا اور موت کی سزاکوقیدکی مختلف مدتوں میں کم کر دیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں