(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارت کاسابق خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادو 2016ء میں بلوچستان(پاکستان)میں گرفتار ہوا، اوردہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت میں ملوث ہونے پرقتل اورسازش کے الزامات میں موت کی سزاسنائی گئی۔مقدمے کے دوران اس نے میڈیاکے سامنے دہشت گردانہ کارروائیوں اور پاکستان میں سینکڑوں افرادکے قتل میں ملوث ہونے کااعتراف کیا۔پاکستانی شہریوں میں بڑے پیمانے پرجانی نقصان کیاعتراف کے بعداس کیس نے بین الاقوامی انسانی حقوق اورعدالتی شفافیت کے حوالوں سے عالمی مباحث کوجنم دیاجبکہ اس معاملے نے بین الاقوامی عدالتوں اورانسانی حقوق کے حلقوں میں ایک پیچیدہ قانونی مباحث کوجنم دیاہے۔
یہ تین واقعات (1)نِجارکاقتل، (2) قطر میں نیول افسران کاکیس،اور(3)کلبھوشن یادیو کا معاملہ سبھی بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘سے منسوب ہیں، اورہرایک نے عالمی سطح پرسفارتی رسوائی پیداکی،جوابھی تک مکمل طورپرسلجھائی نہیں گئیں۔بھا رتی’’را‘‘کے یہ تین بڑے واقعات گویاایک ہی زنجیرکے مختلف کڑیاں ہیںہرکڑی میں سفارت،قانون اورعالمی سیاست کے پیچیدہ دھاگے گندھے ہوئے ہیں۔
پہلامنظر کینیڈاکی برفانی فضاں میں کھلتا ہے، جہاں سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکے خون سے برٹش کولمبیاکی گلیاں سرخ ہوئیں۔ کینیڈاکی سلامتی ایجنسیوں نے اس قتل کی تہہ میں جھانکا
توان کے ہاتھ بھارتی ریاستی ایجنٹوں کے سائے لگے۔معاملہ اتناسنگین ہوا کہ اوٹاوااوردہلی کے درمیان سفارت کاری کی زبان ترک ہوکر الزامات کی گونج سنائی دینے لگی۔سفارتی نمائندے نکالے گئے،اور عالمی منظرنامے پریہ سوال ابھرا کہ ایک خودکو”وشواگرو”کہلوانے والا ملک کیا خوداپنے ہی دعووں کی بنیادکھوکھلی کر رہا ہے؟
دوسرا باب خلیج کے پانیوں سے جڑا ہے۔ قطرکی عدالت نے آٹھ سابق بھارتی نیول افسران کو’’اسرائیل کیلئے جاسوسی‘‘کے الزامات پرموت کی سزاسنائی۔یہ فیصلہ دہلی کیلئے بجلی کا کڑکا ثابت ہوا۔ بھارتی حکومت نے قانونی وسفارتی محاذپر ہر حربہ آزمایا،اوربالآخر سزامیں تخفیف کروالی لیکن اس تمام مہم کے پیچھے ایک نہ ایک رازدارانہ کہانی، اورخلیجی سیاست کے دبے دبے اشارے، آج بھی تجزیہ نگاروں کیلئے سوال بنے ہوئے ہیں۔
تیسرااورشایدسب سے ننگاسچ بلوچستان کی خاک میں دباہواہے کلبھوشن یادیو کا اعتراف، جس میں اس نے’’را‘‘کے ایجنٹ کی حیثیت سے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ، اور سینکڑوں معصوم جانوں کے ضیاع کوتسلیم کیا۔ پاکستانی عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی، اور دنیا بھرمیں اس فیصلے نے قانون وانصاف، خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔یوں یہ تینوں واقعات،مختلف مقامات اورمختلف اندازمیں،ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیںکہ خطے کی سیاست میں خفیہ ادارے محض پس پردہ کھلاڑی نہیں،بلکہ بعض اوقات وہ پوری بساط الٹ دینے والی چال چل دیتے ہیں۔اورہرچال کے بعدسفارت،قانون اور عالمی ردعمل کی شطرنج ایک نئے دورمیں داخل ہوجاتی ہے۔
عالمی تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں عدل کی بنیادسے ہٹ جائیں اورطاقت کے نشے میں غرورکی چال چلیں،توان کے قدم صراطِ مستقیم سے پھسل جاتے ہیں۔خداوندِ قدوس نے یعنی زمین میں فسادنہ پھیلائو،بے شک اللہ فسادکرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(القصص:77)
بھارت،جواپنے آپ کو ’’وشواگرو‘‘ کہلانے کی آرزورکھتاہے،آج اپنے خفیہ ہاتھوں سے اس خطے میں خون،باروداوربداعتمادی کی آگ بھڑکا رہاہے۔کینیڈاکی برف پوش فضاؤں میں، سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکے خون کے دھبے اب تک گواہی دے رہے ہیں کہ ظلم کی چال کتنی بھی تاریک گوشوں میں تیاراورخفیہ کیوں نہ ہو، ایک دن سورج کی روشنی میں آجاتی ہے۔ کینیڈا نے جب اپنی انٹیلی جنس رپورٹ میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کااشارہ دیا،تواوٹاوا اوردہلی کے درمیان سفارتکاری کی نرمی ٹوٹ کرتلخی میں بدل گئی۔سفیر نکالے گئے،الفاظ زہرآلودہوئے،اوردنیا کے ضمیرپرسوال اٹھاکہ کیاایک جمہوری دعوے دارریاست قتل وغارت کی زبان بول رہی ہے؟
پھرخلیج کی موجوں سے ایک اورباب ابھرا، قطرکی عدالت سے8بھارتی نیول افسران کو ’’اسرائیل کیلئے جاسوسی‘‘کے جرم میںسزائے موت کافیصلہ دہلی کی سیاست پربجلی بن کرگرا۔ بالآخرمودی سرکارنے ذاتی معافی تلافی سے سزاکم کروالی،لیکن یہ سوال باقی رہ گیاکہ اگرجرم نہ تھاتویہ مداخلت کیوں؟اوراگر جرم تھاتویہ معافی کیوں؟تاریخ ان سوالات کوہمیشہ یادرکھے گی۔
لیکن سب سے ننگاسچ بلوچستان کی ریت میں چھپا تھا،جہاں کلبھوشن یادیونے اپنے ہی لبوں سے وہ سب اگل دیاجودشمن کے ایجنٹ کی پہچان ہے ،دہشت گردی کے منصوبے،معصوم جانوں کی قربانیاں،اورپاکستان کے امن کوتاراج کرنے کے ارادے۔اسے سزائے موت سنائی گئی، اور یہ فیصلہ نہ صرف عدل کاپیمانہ ٹھہرابلکہ دنیاکویہ پیغام بھی دیاکہ پاکستان اپنی سرزمین پرکسی بھی جارحیت کوبرداشت نہیں کرے گا۔
اے اہل نظر!یہ تینوں واقعات صرف خبریں نہیں،یہ خطے کی روح پرلگے زخم ہیں۔یہ یاددہانی ہے کہ’’باطل‘‘ہمیشہ اپنی بقاکیلئے سازش کے جال بنتاہے،لیکن’’حق‘‘کاوعدہ ربِ کائنات نے یوں فرمایاہے:یعنی ہم حق کوباطل پرمارتے ہیں تووہ اس کاسرتوڑدیتاہے،اورباطل مٹ کررہ جاتاہے۔(الانبیاء:18)
یہ بات سچ ہے کہ وقت کاپہیہ اپنی گردش میں بے رحم ہے۔قومیں جولمحہ ہاتھ سے گنوادیتی ہیں، وہ صدیوں کے خسارے میں بدل جاتاہے۔آج جب دنیاکاسیاسی نقشہ ہرمہینے نئی لکیروں سے بھراجارہاہے،برصغیرکی بساط پرمہرے بھی ایک نئے کھیل کیلئے تیار ہیں۔آج پاکستان ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں ہرقدم تاریخ میں ثبت ہوگا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قرآنی وعدہ ہمارے سامنے ہے: اگر تم اللہ کے دین کی مددکروگے تواللہ تمہاری مدد کرے گااورتمہارے قدم جمادے گا۔ (محمد:7)
یوں لگتا ہے کہ برصغیرکی سیاسی بساط پرمہرے ایک بارپھراپنی جگہ بدل رہے ہیں۔تاریخ کے اس موڑپر،جہاں ایک طرف طاقت کے کھیل کی بے رحم چالیں ہیں،وہیں دوسری جانب امیدکی کرنیں بھی ہیںبشرطیکہ ہم قومی عزم،فکری یکجہتی اورعملی بصیرت کواپناشعاربنائیں۔وقت کے قلم نے نیاباب لکھناشروع کردیاہے؛اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اس کے الفاظ کس رنگ اور کس روشنی میں رقم ہوں۔وقت کی ریت ہمارے ہاتھوں میں ہے،اگرہم نے اسے مضبوطی سے تھام لیاتویہ سنہری حروف میں تاریخ کاحصہ بن جائے گی،اور اگرگنوادی توصدیوں کے خسارے میں بدل جائے گی۔
(جاری ہے )