Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وطن کی شہ رگ کا سودا نہیں ہوگا

(گزشتہ سے پیوستہ)
عالمی تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں عدل کی بنیادسے ہٹ جائیں اورطاقت کے نشے میں غرورکی چال چلیں،توان کے قدم صراطِ مستقیم سے پھسل جاتے ہیں۔خداوندِ قدوس نے یعنی زمین میں فسادنہ پھیلائو،بے شک اللہ فسادکرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(القصص:77)
بھارت،جواپنے آپ کو ’’وشواگرو‘‘ کہلانے کی آرزورکھتاہے،آج اپنے خفیہ ہاتھوں سے اس خطے میں خون،باروداوربداعتمادی کی آگ بھڑکا رہاہے۔کینیڈاکی برف پوش فضاؤں میں، سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکے خون کے دھبے اب تک گواہی دے رہے ہیں کہ ظلم کی چال کتنی بھی تاریک گوشوں میں تیاراورخفیہ کیوں نہ ہو، ایک دن سورج کی روشنی میں آجاتی ہے۔ کینیڈا نے جب اپنی انٹیلی جنس رپورٹ میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کااشارہ دیا،تواوٹاوا اوردہلی کے درمیان سفارتکاری کی نرمی ٹوٹ کرتلخی میں بدل گئی۔سفیر نکالے گئے،الفاظ زہرآلود ہوئے،اوردنیا کے ضمیرپرسوال اٹھاکہ کیاایک جمہوری دعوے دارریاست قتل وغارت کی زبان بول رہی ہے؟
پھرخلیج کی موجوں سے ایک اورباب ابھرا، قطرکی عدالت سے8بھارتی نیول افسران کو ’’اسرائیل کیلئے جاسوسی‘‘کے جرم میںسزائے موت کافیصلہ دہلی کی سیاست پربجلی بن کرگرا۔ بالآخرمودی سرکارنے ذاتی معافی تلافی سے سزاکم کروالی،لیکن یہ سوال باقی رہ گیاکہ اگرجرم نہ تھاتویہ مداخلت کیوں؟اوراگر جرم تھاتویہ معافی کیوں؟تاریخ ان سوالات کوہمیشہ یادرکھے گی۔
لیکن سب سے ننگاسچ بلوچستان کی ریت میں چھپا تھا،جہاں کلبھوشن یادیونے اپنے ہی لبوں سے وہ سب اگل دیاجودشمن کے ایجنٹ کی پہچان ہے ،دہشت گردی کے منصوبے،معصوم جانوں کی قربانیاں،اورپاکستان کے امن کوتاراج کرنے کے ارادے۔اسے سزائے موت سنائی گئی، اور یہ فیصلہ نہ صرف عدل کاپیمانہ ٹھہرابلکہ دنیاکویہ پیغام بھی دیاکہ پاکستان اپنی سرزمین پرکسی بھی جارحیت کوبرداشت نہیں کرے گا۔
اے اہل نظر!یہ تینوں واقعات صرف خبریں نہیں،یہ خطے کی روح پرلگے زخم ہیں۔یہ یاددہانی ہے کہ’’باطل‘‘ہمیشہ اپنی بقاکیلئے سازش کے جال بنتاہے،لیکن’’حق‘‘کاوعدہ ربِ کائنات نے یوں فرمایاہے:یعنی ہم حق کوباطل پرمارتے ہیں تووہ اس کاسرتوڑدیتاہے،اورباطل مٹ کررہ جاتاہے۔(الانبیاء:18)
یہ بات سچ ہے کہ وقت کاپہیہ اپنی گردش میں بے رحم ہے۔قومیں جولمحہ ہاتھ سے گنوادیتی ہیں، وہ صدیوں کے خسارے میں بدل جاتاہے۔آج جب دنیاکاسیاسی نقشہ ہرمہینے نئی لکیروں سے بھراجارہاہے،برصغیرکی بساط پرمہرے بھی ایک نئے کھیل کیلئے تیار ہیں۔آج پاکستان ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں ہرقدم تاریخ میں ثبت ہوگا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قرآنی وعدہ ہمارے سامنے ہے: اگر تم اللہ کے دین کی مددکروگے تواللہ تمہاری مدد کرے گااورتمہارے قدم جمادے گا۔ (محمد:7)
یوں لگتا ہے کہ برصغیرکی سیاسی بساط پرمہرے ایک بارپھراپنی جگہ بدل رہے ہیں۔تاریخ کے اس موڑپر،جہاں ایک طرف طاقت کے کھیل کی بے رحم چالیں ہیں،وہیں دوسری جانب امیدکی کرنیں بھی ہیںبشرطیکہ ہم قومی عزم،فکری یکجہتی اورعملی بصیرت کواپناشعاربنائیں۔وقت کے قلم نے نیاباب لکھناشروع کردیاہے؛اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اس کے الفاظ کس رنگ اور کس روشنی میں رقم ہوں۔وقت کی ریت ہمارے ہاتھوں میں ہے،اگرہم نے اسے مضبوطی سے تھام لیاتویہ سنہری حروف میں تاریخ کاحصہ بن جائے گی،اور اگرگنوادی توصدیوں کے خسارے میں بدل جائے گی۔
آج ہم سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں ہمارے سپاہی سرحدوں پرپہرہ دے رہے ہیں، سفارتکار دنیا کے ایوانوں میں پاکستان کی ساکھ کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں،اورقوم کواپنی دعاؤں اورعزم کے قلعے میں ایک ہی صف میں کھڑاہوناہے۔یہ وقت قوم کے ہرفردکیلئے لمحہ امتحان ہے،یہ فیصلہ کرنے کا، کہ ہم صرف تاریخ کے صفحات پرلکھی تحریربنیں گے یاتاریخ کے باب لکھنے والے۔یہ وہ گھڑی ہے جب اللہ تعالیٰ کاوعدہ ہمارے سامنے ہے ِ:اگراللہ تمہاری مدد کرے توکوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔(العمران:160)
یادرکھیں!وقت کے دریامیں کوئی لمحہ دوبارہ نہیں آتا۔اگرہم نے اپنی صفوں کومتحدنہ کیا توتاریخ ہمیں صرف ایک مثال کے طورپر یاد رکھے گیاوراگرمتحدہوگئے توہماری داستان آئندہ نسلوں کیلئے ایمان،قربانی اورغیرت کاترانہ بنے گی۔ان شاء اللہ
وقت کاتقاضا ہے کہ ہم محض تماشائی نہ بنیں،بلکہ اس بازی کے کھلاڑی بنیں جہاں ہماری تلوار دلیل ہے،ہماری ڈھال اتحادہے،اور ہمارا زادِراہ ایمان۔بھارت کی’’را‘‘اگراپنے خنجرکی دھار تیزکرے،توہم اپنے عزم کافولادمزیدسخت کریں۔یہ معرکہ محض زمین کا نہیں،ضمیرکاہے اورتاریخ نے ہمیشہ ضمیرکی جنگ میں حق کوفاتح لکھاہے۔
یادرکھیں!قومیں صرف اپنی سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے خوابوں اوراپنے یقین سے زندہ رہتی ہیں۔آج پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں،یہ ایک عہدہے،ایک وعدہ ہے،ایک مشن ہے جوہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے لکھا۔ہم اس وعدے کے امین ہیں، اوراس امانت کو وقت کے ہرطوفان سے بچاناہمارافرض ہے۔ دنیا کے نقشے پربہت سے رنگ مٹ چکے ،پروہ رنگ کبھی نہیں مٹتا جوقربانی اورایمان سے روشن ہو۔پس سن لو!ہم نہ دبیں گے،نہ جھکیں گے،نہ رکیں گے ، ہم اپنے پرچم کوسرِبلندی کے آخری زینے تک لے جائیں گے ۔ وقت کامرخ جب اس دورکولکھے گا،تووہ لکھے گا۔ یہ وہ نسل تھی جس نے خواب نہیں بیچے،جس نے سرنہیں جھکایا،اورجس نے اپنے وطن کی تقدیراپنے ہاتھوں سے سنہری حروف میں لکھی۔
آئیے!یہی وہ گھڑی ہے کہ جب ہم سب ایک ہوکر،ایک زبان،ایک دل اورایک پرچم کے سائے تلے یہ اعلان کریں ہم اپنی شہ رگ کا سودانہیں کریں گے،ہماری شہ رگ محفوظ رہے گی،ہماراپرچم سربلندرہے گا،اورہماری نسلیں آزادسانس لیں گی ،ہم اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ رکھیں گے،ہم اپنی آزادی کاپرچم سربلندرکھیں گے ،چاہے اس کیلئے وقت کاہر امتحان کیوں نہ جھیلنا پڑے۔
پاکستان رہے گا،پاکستان جیتے گا، اور پاکستان کاپرچم قیامت تک سربلند رہے گا،ان شاء اللہ۔

یہ بھی پڑھیں