مومن اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:مومن اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے روزے دار اور شب بیدار عبادت گزار کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔(یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔)(سنن بی دائود 4798) اللہ کے نبی ﷺنے بتایا کہ حسن اخلاق انسان کو ہمیشہ روزہ رکھنے والے اور پابندی کے ساتھ تہجد پڑھنے والے انسان کے برابر لا کھڑا کر دیتا ہے۔ دراصل حسن اخلاق نام ہے دوسروں کا بھلا کرنے، اچھی بات کرنے، ہنس کر ملنے، کسی کو اذیت دینے سے بچنے اور تحمل سے کام لینے کا۔ اسلام نے اخلاق کو سنوارنے اور با کمال اخلاق پر بڑی توجہ دی ہے۔ حسن اخلاق کی فضیلت اس قدر ہے کہ بندہ حسن اخلاق کے ذریعے کبھی روزہ نہ توڑنے والے روزے دار اور کبھی نہ تھکنے والے تہجد گزار کی صف میں جا کھڑا ہوتا ہے۔ دن میں روزہ رکھنا اور رات میں قیام کرنا دو بہت بڑے اعمال ہیں، جن کے لئے نفس کو بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن حسن اخلاق کا حامل انسان ان دونوں اعمال کو کرنے والے انسان کر برابر جا کھڑا ہوتا ہے، کیونکہ حسن معاملہ کے لئے انسان کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کی خلوت میں آشکار ہوتی ہے۔ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں، جہاں کوئی تعریف کرنے والا نہیں، جہاں صرف وہ اور اس کا رب ہوتا ہے، وہی لمحے اصل میں انسان کی حقیقت کو عیاں کرتے ہیں۔ جلوت یعنی لوگوں کے سامنے کی زندگی محض عکس ہے اس باطن کا جو خلوت میں پروان چڑھتا ہے۔ اگر خلوتیں پاک ہوں، نیتیں صاف ہوں اور دل اللہ کی یاد سے منور ہو، تو پھر جلوت کی محفلیں خود بخود معطر ہو جاتی ہیں۔قرآن مجید نے انسان کے ظاہر و باطن کی یکسانی کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ ارشادِ ربانی ہے۔
’’اللہ ان نگاہوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے جو چھپ کر کی جاتی ہیں اور ان دلوں کے راز کو بھی جو چھپائے جاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اصل امتحان وہ ہے جو ہماری خلوت میں ہے، جہاں کوئی نگہبان نہیں، مگر رب کی نگاہ ہر لمحے ساتھ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ایمان کی سب سے اعلیٰ صورت یہ ہے کہ تو جان لے کہ جہاں کہیں بھی ہو اللہ تیرے ساتھ ہے۔‘‘ یہی احساس انسان کو خلوت میں بھی اتنا ہی محتاط رکھتا ہے جتنا وہ جلوت میں رہتا ہے۔انبیا علیہم السلام کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ قرآن میں بیان ہوا کہ جب زلیخا نے تنہائی میں انہیں گناہ کی دعوت دی تو وہ فرما اٹھے: ’’معاذ اللہ‘‘ یعنی ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘۔ یہی وہ لمحہ تھا جو ان کی پاکیزہ خلوت کی گواہی بن گیا۔ بعد ازاں اللہ نے ان کے اس اخلاص کو یوں نمایاں کیا کہ مصر کا تخت ان کے قدموں میں بچھا دیا گیا۔ خلوت میں استقامت نے جلوت کو عزت سے بھرا۔
آج کل بھی موبائل کی شکل میں ایک زلیخا اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ایسے میں اللہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ سنتِ یوسف ؑ پر عمل کون کرتا ہے اور بدنظری کی لت میں کون مبتلا ہوتا ہے.حضرت امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے ۔
ترجمہ: جب کبھی تم تنہائی میں ہو تو یہ مت کہنا کہ میں تنہا ہوں ، بلکہ یہ کہو : ایک نگران (اللہ)میرے اوپر موجود ہے۔ یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ اللہ ایک لمحے کے لئے بھی غافل ہو سکتا ہے ، یا جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ اس سے چھپا رہتا ہے ،کے یہ اشعار تنہائی میں پڑھنا نفس کو لگام دینے کی مانند ہے ،حقیقت یہ ہے کہ انسان کی جلوت اس کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی خلوت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اگر اندر کی دنیا صاف ہے تو باہر کی دنیا خود بخود سنورتی ہے۔ لیکن اگر خلوت گندی ہے تو پھر جلوت خواہ کتنی ہی سجائی جائے، اس کے نقاب زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتے۔اہلِ دل کا قول ہے۔ ’’جو اللہ کو تنہائی میں راضی کرتا ہے، اللہ اس کو لوگوں کے مجمع میں سرخرو کر دیتا ہے۔‘‘ پس اے سالکِ راہِ حق!اپنی خلوتوں کو پاک رکھو، اپنے دل کے کونے کو نورِ ایمان سے بھر دو، اپنی نگاہ کو خیانت سے بچائو، اپنی نیت کو ریا سے صاف رکھو۔ پھر دیکھنا کہ جلوت کی محفلیں خود تمہاری تعظیم کے لئے اٹھیں گی، دل تمہاری محبت سے لبریز ہوں گے اور عزت تمہارے قدم چومے گی ۔