انسانی تاریخ کے ہردور میں اقتدارکے کھیل نے معاشرتی انصاف کے ترازوکوجھکانے کی کوشش کی ہے۔جب سیاست کے میدان میں دھاندلی اورووٹوں کی چوری کاسایہ پڑتا ہے،تونہ صرف عوام کی امیدیں تاریک ہوتی ہیں بلکہ جمہوریت کاچراغ بھی مدھم پڑنے لگتا ہے۔جہاں عقل وانصاف کاپیمانہ بوجھل پڑجائے، وہاں حکمرانی کاتاج بھی دھوکہ بن جاتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیاکے ہرگوشے میں جمہوریت کی کشتی ہمیشہ عوامی اعتمادکے دریامیں رواں رہتی ہے اورجمہوریت اپنی روشنی اوراپنے سائے کے ساتھ جلوہ گرہوتی ہے۔جہاں یہ عوام کے اعتماداورریاستی شفافیت کی ضمانت بنتی ہے۔جب اس کشتی کے تختے امانت ودیانت کے کیل سے جڑے ہوں تویہ طوفانوں کابھی مقابلہ کرلیتی ہے، مگرجب اس کے پیندے میں خیانت کاشگاف پڑ جائے تو ساحل کی مسافت لمحوں میں ڈوبنے کی گہرائی میں بدل جاتی ہے وہیں اس کے سائے میں دھندلی اورشکوک بھی پیداہوتے ہیں۔ برصغیر بالخصوص انڈیا کی سیاست آج اسی گہرے اندیشے کے دہانے پرکھڑی ہے۔
انڈیا کی سیاست میں حالیہ دنوں میں ووٹ چوری،انتخابی فہرستوں میں جعلی ووٹرزکی شمولیت اوراہل ووٹرزکے اخراج کے الزامات نے جمہوری شعورکوہلا کر رکھ دیاہے۔یہ معاملہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں،بلکہ ایک ایساآئینہ ہے جواس عظیم ملک کی جمہوریت کے عہدوپیمان کی تصویرعیاں کرتاہے۔یہ محض انتخابی اعدادوشمارکامعاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی امانت کا قصہ ہے جوایک کاغذکی پرچی میں بندہوکرکروڑوں عوام کے مقدرکافیصلہ کرتی ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب’’ حقِ رائے دہی‘‘ صرف ایک قانونی شق نہیں رہتابلکہ ایک اخلاقی اورتاریخی عہدمیں ڈھل جاتاہے اورجب اس عہدکوتوڑاجاتاہے تو جمہوریت کی بنیادیں ہل جاتی ہیں،جیسے طوفان کے پہلے جھٹکے پرچراغ کی لولرزنے لگے۔
قوموں کی زندگی میں ایسے وقت آتے ہیں جب فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں،ضمیرکی عدالت میں ہوتاہے۔آج کاہندوستان شایدایسے ہی ایک فیصلے کے دہانے پرکھڑاہے جہاں ایک طرف عوامی اعتمادکاچراغ جل رہاہے،اوردوسری طرف مکار مودی کے سیاسی مفادات کی آندھیاں اسے بجھانے پرتلی ہوئی ہیں۔اسی منظرنامے میں ووٹ چوری،جعلی ووٹروں کی شمولیت اوراہل ووٹروں کے اخراج کے الزامات نے انڈیاکے سیاسی درودیوارکو ہلاکررکھ دیاہے۔یہ تحریراسی کشمکش کی رودادہے، جواعداد، الزامات،تردیدوں اور تاریخ کے تناظر میں قاری کے سامنے کھولی جائے گی تاکہ ہرشخص خودطے کرے کہ حقیقت کس طرف ہے اورفریب کس طرف۔
گزشتہ ہفتے کے اوائل میں اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے ایک نیوزکانفرنس کے دوران 2024ء کے عام انتخابات کے تناظرمیں بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی)کے مبینہ انتخابی فراڈکے بارے میں جوالزامات عائدکئے،اس نے نہ صرف قومی سطح پربحث کوشدت بخشی بلکہ انتخابی نظام کی شفافیت پرسوالیہ نشان بھی کھڑا کر دیا ہے۔راہول گاندھی کے مطابق صرف کرناٹک کی ایک اسمبلی حلقے کی ووٹرلسٹ میں کم ازکم ایک لاکھ جعلی ووٹرزشامل کیے گئے ہیں،جبکہ پہلی مرتبہ ووٹرزمیں ایسے ہزاروں نام بھی ہیں جن کی عمر 80 اور90 برس کے درمیان دکھائی دیتی ہے۔یہ دعویٰ ایک طویل المدتی سیاسی دھندلاپن کاعندیہ دیتاہے، جس میں جمہوریت کاسب سے بنیادی ستون یعنی ووٹ کاتقدس متاثر ہوتا ہے۔
اپوزیشن جماعتیں،جن میں کانگریس،عام آدمی پارٹی اورمجلس اتحادالمسلمین نمایاں ہیں، الیکشن کمیشن پرالزام لگاتی ہیں کہ ووٹرلسٹوں میں بڑے پیمانے پرفراڈہواہے۔ان کاخدشہ یہ ہے کہ گزشتہ پارلیمانی اورکئی ریاستی انتخابات میں اسی طرح کی دھاندلی کے ذریعے حکمراں جماعت کوغیرمنصفانہ فائدہ پہنچایاگیا۔ خاص طورپربہارکی مثال سامنے آئی،جہاں الیکشن کمیشن نے انتخابات سے صرف تین ماہ قبل ووٹرلسٹوں پرنظرثانی کے خصوصی عمل کاآغازکیا۔یہ عمل جسے ایس آئی آر ’’سپیشل انٹینسیوریویژن‘‘ کہاجاتاہے،25جون سے 26جولائی تک جاری رہااوراس کے تحت کروڑوں ووٹروں سے شہریت کی تصدیق کے لئے پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفیکیٹ،اوررہائشی سرٹیفکیٹ جیسی دستاویزات طلب کی گئیں۔
اپوزیشن کاکہناہے کہ اس عمل کی شفافیت مشکوک ہے۔عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمان سنجے سنگھ کے مطابق کمیشن نے65لاکھ ووٹرزکے نام کاٹ دئیے،لیکن ایک بھی نئے ووٹرکانام شامل نہیں کیا،جوواضح طورپرانتخابی بدنیتی کی عکاسی کرتاہے۔مجلس اتحاد المسلمین کے رہنمااسدالدین اویسی نے مسلمانوں، دلتوں اور پسماندہ طبقے کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مطلوبہ 11دستاویزات تیار رکھیں،ورنہ ان کی شہریت خطرے میں پڑسکتی ہے۔
یہ صرف اعدادوشمارکا کھیل نہیں،بلکہ عوامی اعتماد،جمہوری شعور،اوراقلیتوں کے بنیادی حقوق کی آزمائش ہے۔اس منظرنامے میں، طرزِتحریرکی فکری تمکنت اورلسانی آراستگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہرسیاسی اورسماجی واقعہ کوتاریخی تناظرمیں دیکھناضروری ہے۔اس کالم میں تحریرتمثیلات اورلفاظی اس بات کاعندیہ دیتی ہیں کہ لفظ صرف اطلاع نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی جہت بھی رکھتا ہے،اوراسلامی رنگ والے تجزیے ہمیں یہ یاددلاتے ہیں کہ انصاف اورشفافیت کی روحانی بنیادیں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی قانونی دفعات۔
یہی حال آج ہندوستان کے سیاسی منظرنامے کاہے،جہاں ووٹ چوری،انتخابی فہرستوں میں جعل سازی اوراہل ووٹرزکے اخراج کے الزامات نے عوامی سطح پرشدیدہلچل مچادی ہے ۔تاریخی تناظرکے مطابق ہندوستانی جمہوریت میں ووٹرلسٹ کی دیانت ہمیشہ سوالیہ نشان رہی ہے۔1950ء کی دہائی سے لے کرآج تک کئی ریاستوں میں انتخابی فہرستوں کے تنازعات نے سیاسی فضاکومسموم کیا۔1975 ء کی ایمرجنسی کے دوران بھی ووٹر لسٹ میں ردوبدل کے الزامات سامنے آئے،اورآج کابحران اسی سلسلے کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔انتخابی شفافیت کاپہلااور سب سے سنگین سوال یہی ہے:کیاووٹروں کی فہرست میں دانستہ طورپرجعلی نام شامل کیے گئے؟اپوزیشن کا کہناہے کہ یہ عمل ایک منظم منصوبے کے تحت ہواتاکہ حکمراں جماعت کوغیرمنصفانہ برتری حاصل ہو۔گزشتہ ہفتے کے اوائل میں اپوزیشن رہنماراہول گاندھی نے2024ء کے عام انتخابات میں حکومتی پارٹی بی جے پی کے خلاف الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مبینہ طورپرووٹرلسٹوں میں جعل سازی کی گئی تاکہ انتخابات میں غیرمنصفانہ فائدہ حاصل کیاجاسکے۔
اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن پرالزامات لگارہی ہیں کہ ووٹرلسٹوں میں بڑے پیمانے پرفراڈ کیا گیا۔گذشتہ پارلیمانی اورریاستی انتخابات میں اسی طرح کی دھاندلی ہوئی،جس سے حکمران جماعت کو انتخابی فائدہ حاصل ہوا۔بیشک اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپردکرو۔(النساء:۵۸)یہ آیت جمہوریت کے اصول پربراہِ راست لاگوہوتی ہے،کیونکہ ووٹ کی پرچی محض کاغذنہیں، یہ امانت ہے۔الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تمام اندراجات اوراخراجات قانونی ضابطوں کے مطابق ہیں،لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسے الزامات ہندوستانی سیاست کانیا باب نہیں،1971، 1989ء اور2004ء کے انتخابات میں بھی ایسے ہی تنازعات اٹھے،اورہربار حقیقت کی تلاش دھند میں گم ہوگئی۔
گزشتہ ہفتے کانگریس کے رہنماراہول گاندھی نے کرناٹک کے ایک حلقے کی ووٹر لسٹ پیش کی،جس میں ان کے مطابق ایک لاکھ جعلی ووٹرتھے۔حیرت کی بات یہ کہ30ہزار ووٹرز کے پتوں کاخانہ خالی تھا اور ہزاروں ایسے نام درج تھے جو ’’پہلی بارووٹ دینے والے‘‘ تھے مگران کی عمریں80یا90برس لکھی گئی تھیںجوصاف ظاہرکرتاہے کہ یہ ووٹرحقیقی نہیں ہیں۔ تاہم ’’جب سیاست انصاف کی راہ چھوڑدے تو تدبیر کالباس پہن کر دھوکادیتی ہیــ۔،گویایہاں یہ فکری محاورہ بالکل درست ثابت ہوتاہے کہ’’ جہاں اندھیرازیادہ ہو،وہاں حق کی کرن بھی دھندلی نظرآتی ہے‘‘-
کانگریس نے ’’ووٹ چور،گدی چھوڑ‘‘کے نعرے کے ساتھ ملک گیراحتجاج کااعلان کیا،جبکہ بی جے پی اوراس کے اتحادی اس عمل کوغیرقانونی ووٹروں کی روک تھام کااقدام قرار دیتے ہیں۔مگر عوام کے ذہن میں سوال باقی ہے’’کیامیراووٹ میرے اپنے ہاتھ میں ہے یا کسی اورکی جیب میں؟‘‘اپوزیشن کادعویٰ ہے کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ عام انتخابات اورریاستی پولزمیں ووٹرلسٹ میں چھیڑچھاڑکاتسلسل ہے۔
(جاری ہے)