فلک پہ سب سہی‘پر ہے نہ ثانی احمدﷺ
زمین پر کچھ نہ ہو‘ پر ہے محمدیﷺ سرکار
ربیع الاول کا برکتوں والا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘اس ماہ مبارک میں 1447سال قبل مکہ مکرمہ کی سرزمین پر حضرت سیدہ آمنہ ؓ کی جھولی میں حضرت عبداللہ ؓکے دریتیم اور حضرت عبدالمطلب ؓکے پوتے محمد رسول اللہﷺ کی والادت با سعادت ہوئی ۔ آقا مولیﷺ کو کرئہ ارض پر بسنے والے جن وانس’ حیوانات و جمادات ‘ چرند‘ پرند‘غرضیکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا۔نبی کریمﷺ ایسے جمال خلق اور کمال خلق سے متصف تھے جو حیطئہ بیان سے باہر ہے۔ اس جمال و کمال کا اثر یہ تھا کہ دل آپﷺ کی تعظیم اور قدر و منزلت کے جذبات سے خود بخود لبریز ہو جاتے تھے’ چنانچہ آپﷺ کی حفاظت اور اجلال و تکریم میں لوگوں نے ایسی ایسی فدا کاری و جانثاری کا ثبوت دیا جس کی نظیر دنیا کی کسی اور شخصیت کے سلسلے میں پیش نہیں کی جاسکتی۔آپﷺ کے رفقاء اور ہم نشین ورافتگی کی حد تک آپﷺ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ آپﷺ کو خراش آجائے‘خواہ اس کے لئے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیں۔ اس طرح کی محبت کی وجہ یہی تھی کہ عادۃ جن کمالات پر جان چھڑ کی جاتی ہے‘ان کمالات سے جس قدر حصہ وافر آپﷺ کو عطا ہوا تھا کسی اور انسان کو نہ ملا۔ ذیل میں ہم عاجزی و بے مائیگی کے اعتراف کے ساتھ ان روایات کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں جن کا تعلق آپﷺ کے جمال و کمال سے ہے۔
حلیہ مبارک: ہجرت کے وقت رسول اللہﷺ ام معبد خزاعیہؓ کے خیمے سے گزرے تو اس نے آپﷺ کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپﷺ کا حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا ۔ چمکتا رنگ‘تابناک چہرہ‘خوبصورت ساخت ‘نہ توندلے پن کا عیب نہ گنجے پن کی خامی‘جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر‘ سرمگیں آنکھیں‘لمبی پلکیں‘باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو‘ چمکدار کالے بال‘خاموش ہوں تو باوقار‘گفتگو کریں تو پرکشش ‘دور سے (دیکھنے میں)سب سے تابناک و پرجمال‘قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں‘ گفتگو میں چاشنی‘بات واضح اور دو ٹوک نہ مختصر نہ فضول ‘ انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں‘درمیانہ قد ‘ نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے‘نہ لمبا کہ ناگوار لگے‘دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ جو تینوں میں سب سے زیادہ تازہ و خوش منظر و پررونق‘رفقاء آپ ﷺ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں۔ کوئی حکم دیں تو لپک کر بجا لاتے ہیں‘مطاع و کرم نہ ترش رونہ لفو گو۔ حضرت علیؓ آپﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ آپﷺ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے ‘ لوگوں کے حساب سے درمیانہ قد کے تھے‘بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑے‘بلکہ دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی‘رخسار بہت زیادہ پر گوشت تھے نہ ٹھڈی چھوٹی اور پیشانی پست‘چہرہ کسی قدر گولائی لئے ہوئے تھا‘رنگ گور‘گلابی‘آنکھیں سرخی مائل‘پلکیں لمبی ‘ جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی‘سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر‘ بقیہ جسم بال سے خالی ہتھیلی اور پائوں پر گوشت‘ چلتے تو قدرے جھٹکے سے پائوں اٹھاتے اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں۔ جب کسی طرف ملتفت ہوتے پورے وجود کے ساتھ ملتفت ہوتے۔ دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوتﷺ تھی آپﷺ سارے انبیا ء کے خاتم تھے‘ سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرات مند ‘ سب سے زیادہ صادق اللہجہ اور سب سے بڑھ کر عہدہ پیمان کے پابند وفا‘ سب سے زیادہ نرم طبیعت اور سب سے شریف ساتھی‘ جو آپﷺ کو اچانک دیکھتا ‘ ہیبت زدہ ہو جاتا‘ جو جان پہچان کے ساتھ ملتا محبوب رکھتا‘ آپﷺ کا وصف بیان کرنے والا یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے آپﷺ سے پہلے آپﷺ جیسا نہیں دیکھا۔
حضرت علیؓ کی ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ کا سر بڑا تھا۔ جوڑوں کی ہڈیاں بھاری بھاری تھیں‘ سینے کے درمیان بال کی لمبی لکیر تھی‘جب آپﷺ چلتے تو قدرے جھک کر چلتے گویا کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہیں۔ حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے کہ آپﷺ کا دہانہ کشادہ تھا‘ آنکھیں سرخی لئے اور ایڑیاں باریک‘ حضرت ابوا لطفیلؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ گورے رنگ پر ملاحت چہرے اور میانہ قدوقامت کے تھے۔ حضرت انس بن مالکﷺ کا ارشاد ہے کہ آپﷺ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں اور رنگ چمکدار ‘ نہ خالص سفید‘ نہ گندم گوں‘ وفات کے وقت تک سر اور چہرے کے بیس بال بھی سفید نہ ہوئے تھے ‘ صرف کنپٹی کے بالوں میں کچھ سفیدی تھی اور چند بال سر کے سفید تھے۔ حضرت ابوحجیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کے نچلے ہونٹ کے نیچے عنفقہ (داڑھی بچہ)میں سفیدی دیکھی۔ حضرت عبداللہ بن بسرؓ کا بیان ہے کہ آپﷺ کا پیکر درمیانی تھا۔
(جاری ہے)