Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ووٹ کاتقدس اور طاقت کافریب

(گزشتہ سے پیوستہ)
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ یہ سب’’ووٹرلسٹ کی تطہیر‘‘کے لئے کیا گیا۔گویاایک فارسی ضرب المثل کے مطابق ’’چودزدی باچراغ آید،گزیدہ تربردکالا،جب چورچراغ لے کرآئے توسب سے قیمتی چیزچرالے جاتاہے۔ یہی صورتِ حال انتخابی فہرست کے نام پربھی دیکھی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریاست بہارمیں انتخابات سے محض تین ماہ قبل ووٹرلسٹوں پرجامع نظرثانی کاعمل شروع کیا،جسے انہوں نے(ایس آئی آر)اسپیشل انٹینسیوریویژن کہا۔یہ عمل 25 جون سے26جولائی تک جاری رہا۔اس عمل میں65لاکھ ووٹرز کے نام کاٹ دئیے گئے،اور اپوزیشن کے مطابق ایک بھی نیا ووٹرشامل نہ ہوا،اس سے واضح ہوتاہے کہ ان کی نیت کیاہے۔
نظرثانی کے اس عمل کے تحت کروڑوں ووٹروں سے شہریت کی تصدیق کے لئے پاسپورٹ،برتھ سرٹیفیکیٹ اوررہائشی سرٹیفکیٹ جیسی دستاویزات طلب کی گئیں۔اوراپوزیشن کاخدشہ ہے کہ کروڑوں غریب اور ناخواندہ شہری یہ دستاویزات فراہم نہیں کرپائیں گے،اوراس طرح ان کے ووٹوں کوبلاجوازخارج کیا جاسکتاہے۔
معاملہ اس وقت سنگین ہواجب بہارمیں انتخابات سے محض تین ماہ قبل’’اسپیشل انٹینسیوریویژ ن‘‘کاعمل شروع کیاگیااورعام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ کے مطابق یہ شفافیت نہیں بلکہ سیاسی صفایاتھا۔کمیشن کاکہناہے کہ یہ سب قانونی اورشفاف تھا،لیکن اپوزیشن کے مطابق یہ حکمتِ عملی ایک خاص ووٹ بینک کوکمزورکرنے کے لئے اپنائی گئی۔اسدالدین اویسی(مجلس اتحادالمسلمین)نے مسلمانوں،دلتوں اورپسماندہ طبقے سے اپیل کی کہ وہ اپنی پاسپورٹ،پیدائش کاسرٹیفیکیٹ،ذات کاسرٹیفکیٹ اور دیگر11دستاویزات تیاررکھیں،وگرنہ ان کی شہریت خطرے میں پڑسکتی ہے اوروہ ووٹ کے حق سے محروم ہوجائیں گے۔گویایہاں فکری استعارہ قابل ذکرہے کہ ایک ووٹرکی آوازدبائی گئی،تویہ نہ صرف ایک فردکاحق ضائع ہوا بلکہ’’ جمہوریت کاکل چراغ مدھم ہوا‘‘۔ حکومت نے اسے محض شفافیت کی کوشش قراردیا،مگرعوامی سطح پریہ خوف بڑھتاجارہاہے کہ کہیں یہ عمل شہری حقوق پر قدغن نہ بن جائے۔
اورجب بات کہوتوانصاف سے کہو،خواہ وہ رشتہ دارہی کیوں نہ ہو۔ (انعام:۱۵۲)
تاریخی اورعالمی تناظرکااگرمطالعہ کریں تودنیاکے کئی ممالک میں انتخابی دھاندلی کے واقعات نے جمہوریت کی بنیادوں کوہلاکررکھ دیاہے۔ امریکا میں 2000ء کے صدارتی انتخابات میں فلوریڈاکی ووٹرلسٹوں کی جانچ پڑتال میں شدید اختلافات سامنے آئے،اورافریقاکے کئی ممالک میں ووٹررجسٹریشن میں شفافیت کی کمی نے مقامی اوربین الاقوامی مبصرین کی توجہ مبذول کرائی۔ہندوستان میں بھی یہی تصویراب نظر آرہی ہے،جہاں کروڑوں ووٹروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل میں عدم توازن نے عوامی شکایات کو ہوادی ہے۔ایسی ہی شکایات پاکستان میں بھی سنائی دیتی ہیں۔
یہ عالمی منظرنامہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ جمہوریت کے ستون صرف قوانین سے قائم نہیں رہتے، بلکہ ان پرعوامی اعتماداورشفاف عمل کی بنیادبھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔اگریہ ستون ڈگمگاجائیں تونہ صرف انتخابات بلکہ پوراسماجی اورسیاسی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ہندوستانی آئین کی دفعہ324الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات دیتی ہے تاکہ وہ انتخابات کو شفاف اور غیرجانبدارانہ بناسکے۔تاہم، جب ووٹرلسٹوں میں بڑے پیمانے پرترامیم کی جاتی ہیں،تویہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیایہ عمل آئینی حدودمیں ہے یانہیں۔ایس آئی آرکاعمل اگرچہ قانونی طورپرجائزہے،لیکن اس کے نفاذکے طریقے پرشفافیت کی کمی نے انتخابی عمل پرسوالیہ نشان کھڑاکردیاہے۔
انصاف اورشفافیت کی ضمانت دینے والا ادارہ، اگرخودعوامی شکوک کامرکزبن جائے،تواس سے جمہوریت کے بنیادی اصول خطرے میں پڑجاتے ہیں۔ یہی وہ اہم نقطہ ہے کہ ہر ادارے کااخلاقی اورعملی وزن اس کی قانونی حیثیت کے برابراہم ہے۔یہ مسئلہ صرف اعداد وشماریاقانونی چالاکی کانہیں،بلکہ اس کے سماجی اورنفسیاتی اثرات بھی بے حدگہرے ہیں ۔کروڑوں افرادجو دستاویزات کی کمی یاپیچیدگی کے باعث ووٹ دینے سے محروم ہوجائیں،وہ نہ صرف اپنے جمہوری حق سے محروم ہوں گے بلکہ ان کے سماجی اعتماد میں بھی کمی آئے گی۔اقلیتیں،پسماندہ طبقہ اورناخواندہ شہری خاص طور پر اس دباکاشکارہوں گے،اوران کامحسوس شدہ جمہوری نقصان طویل مدت تک سیاسی عدم اعتمادمیں تبدیل ہوسکتاہے۔
یہاں ہمیں اسلامی اورسیاسی بصیرت یاددلاتی ہے کہ ہرفردکی عدل وانصاف کی ضمانت دیناریاست کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اگرکسی ایک گروہ کی رائے یاحق پرظلم ہوجائے توپوری قوم کی جمہوری صحت متاثر ہوتی ہے۔یہ دھاندلی صرف سیاسی کھیل نہیں بلکہ سماجی انصاف کی پامالی ہے۔حق کی پامالی ہرشخص کے دل میں خوف اورمایوسی کابیج بوتی ہے،جوپوری قوم کے مستقبل کے لئے خطرہ ہے۔اپوزیشن کے خدشات کی روشنی میں، کروڑوں ناخواندہ شہری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوسکتے ہیں۔یہ امرقرآنی تعلیمات کی روشنی میں بھی قابل غور ہے:اورانصاف کے ساتھ میزان قائم کرواور میزان میں کمی نہ کرو۔(الرحمن: 9)
انڈین سیاست میں یہ دھاندلی کسی نئی بات کی نمائندگی نہیں کرتی،بلکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدارکے حصول کے لئے ہمیشہ فریب اورجعل سازی کے وسائل استعمال کیے گئے ہیں۔ تاریخی اورادبی نقطہ نظرکے مطابق جہاں عدل کی کرنیں مدھم ہوں، وہاں طاقت کی آندھی ہرحقیقت کومٹادیتی ہے۔یہی صورت حال آج بھی دہرائی گئی ہے،جب ووٹرلسٹوں میں غیرحقیقی نام شامل کرکے انتخابات کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق،نظرثانی عمل کامقصدصرف ووٹرلسٹوں کی شفافیت ہے۔تاہم،اپوزیشن کے مطابق اس عمل میں انتخابی فوائد کے لئے جان بوجھ کرنام حذف کئے گئے ہیں۔اس مسئلے پرانتخابی دھاندلی کے قانونی پہلوکے مطابق عوام میں شدیدعدم اعتمادپیداہوا ہے، اورسیاسی مباحث میں ہرطرف تنقیدکی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں