(گزشتہ سےپیوستہ)
دونوں کندھوں کے درمیان دوری تھی۔ بال دونوں کانوں کی لوتک پہنچے تھے۔ میں نے آپﷺ کو سرخ جوڑا زیب تن کئے ہوئے دیکھا۔ کبھی کوئی چیز آپﷺ سے زیادہ خوبصورت نہ دیکھی۔ پہلے آپﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے ‘ اس لئے بال میں کنگھی کرتے تو مانگ نہ نکالتے‘ لیکن بعد میں مانگ نکالا کرتے تھے۔ حضرت براء ؓ کہتے ہیں آپﷺ کے اخلاق سب سے بہتر تھے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کا چہرہ تلوار جیسا تھا ؟ انہوں نے کہا چاند جیسا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ کا چہرہ گول تھا۔ ربیع بنت معود کہتی ہیں کہ اگر تم حضور ﷺ کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ ؓ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپﷺ کو دیکھا‘ آپﷺ پر سرخ جوڑا تھا ‘ میں رسول ﷺ کو دیکھتا اور چاند کو دیکھتا‘ آخر (اسی نتیجہ پر پہنچا کہ)آپﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرمﷺ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ لگتا تھا کہ سورج آپﷺ کے چہرے میں رواں دواں ہے اور میں نے رسو ل اللہﷺ سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا لگتا تھا کہ زمین آپﷺ کے لئے لپٹی جارہی ہے۔ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے تھے اور آپﷺ کا بالکل بے فکر۔ حضرت کعب بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ جب آپﷺ خوش ہوتے تو چہرہ دمک اٹھتا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔
ایک بار آپﷺ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف فرما تھے۔ پسینہ آیا تو چہرے کی دھاریاں چمک اٹھیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضر ت عائشہ ؓنے ابو کبیر ہذلیؓ کا یہ شعرع پڑھا۔
ترجمہ: ’’جب ان کے چہرے کی دھاریاں دیکھو تو وہ یوں چمکتی ہیں جیسے روشن بال چمک رہا ہو‘‘ حضرت ابوبکر ؓ آپ ﷺ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھتے ۔
’’آپﷺ امین ہیں چنیدہ و برگزیدہ ہیں‘ خیر کی دعوت دیتے ہیں ‘ گویا ماہ کا مل کی روشنی ہیں‘ جس سے تاریکی آنکھ مچولی کھیل رہی ہے۔‘‘ حضرت عمر زہیرؓ کا یہ شعر پڑھتے جو ہرم بن سنان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ’’ اگر آپﷺ بشر کے سوا کسی اور چیز سے ہوتے تو آپﷺ ہی چودھویں کی رات کو روشن کرتے‘‘ پھر فرماتے کہ رسول ﷺ ایسے ہی تھے۔ جب آپﷺ غضبناک ہوتے تو چہرہ سرخ ہو جاتا گویا دونوں رخساروں میں دانہ انار نچوڑ دیا گیا ہے۔ حضرت جابر بن سمرہ ؓ کا بیان ہے کہ آپﷺ کی پنڈلیاں قدرے پتلی تھیں اور آپﷺ ہنستے تو صرف تبسم فرماتے (آنکھیں سرمگیں تھیں)تم دیکھتے تو کہتے کہ آپﷺ نے آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا ہے حالانکہ سرمہ نہ لگا ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے کہ آپﷺ کے آگے کے دونوں دانت الگ الگ تھے۔ جب آپﷺ گفتگو فرماتے تو ان دانتوں کے درمیان سے نور نکلتا دکھائی دیتا۔ گردن گویا چاندی کی صفائی لئے ہوئے گڑیا کی گردن تھی‘ پلکیں طویل‘ داڑھی گھنی‘ پیشانی کشادہ ‘ ابرو پیوستہ اور ایک دوسرے سے الگ ‘ ناک اونچی‘ رخسار ہلکے ‘ لبہ سے ناف تک چھڑی کی طرح دوڑا ہوا بال اور اس کے سوا شکم اور سینے پر کہیں بال نہیںتھے ‘ البتہ بازو اور مونڈھوں پر بال تھے۔ شکم اور سینہ برابر‘ سینہ مسطح اور کشادہ کلائیاں‘ بڑی بڑی ہتھیلیاں‘ کشادہ‘ قد کھڑا‘ تلوے خالی‘ اعضاء بڑے بڑے‘ جب چلتے تو جھٹکے کے ساتھ چلتے ‘ قدرے جھکائو کے ساتھ آگے بڑھتے اور سہل رفتار سے چلتے‘ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حریرہ دیبا نہیں چھوا جو رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم رہا ہو اور نہ کبھی کوئی عنبریا مشک یا کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اللہﷺ کی خوشبو سے بہتر رہی ہو۔ حضرت ابوحجیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کا ہاتھ اپنے چہرہ پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔حضرت جابر بن سمرہؓ جو بچے تھے ‘ کہتے کہ آپﷺ نے میرے رخسار پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آپﷺ کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اورخوشبو محسوس کی ‘گویا آپﷺ نے اسے عطار کے عطر دان سے نکالا ہے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ آپﷺ کاپسینہ گویا موتی ہوتا تھا اور حضرت ام سلیم ؓ کہتی ہیں کہ یہ پسینہ ہی سب سے عمدہ خوشبو ہوا کرتی تھی۔حضرت جابرؓکہتے ہیں کہ آپﷺ کسی راستے سے تشریف لے جاتے اور آپﷺ کے بعد کوئی اور گزرتا تو آپﷺ کے جسم یا پسینہ کی خوشبو کی وجہ سے جان جاتا کہ آپﷺ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں۔ آپﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوتﷺ تھی جو کبوتر کے انڈے جیسی اور جسم مبارک ہی کے مشابہ تھی‘ یہ بائیں کندھے کی کری (نرم ہڈی)کے پاس تھی۔ اس پر مسوں کی طرح تلوں کا جمگھٹ تھا۔ کمال نفس اور مکارم اخلاق نبیﷺ فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے۔ آپﷺ طبیعت کی روانی‘ لفظوں کے نکھار‘ فقروں کی جزالت ‘ معانی کی صحت اور تکلیف سے دوری کے ساتھ ساتھ جو امع الکلم (جامع باتوں)سے نوازے گئے تھے۔ آپ ﷺ کو نادر حکمتوں اور عرب کی تمام زبانوں کا علم عطا ہوا تھا‘ چنانچہ آپﷺ ہر قبیلے سے اسی کی زبان اور محاوروں میں گفتگو فرماتے تھے‘ آپﷺ میں بدودیوں کا زور بیان اور قوت تخاطب اور شہریوں کی شستگی الفاظ اور شگفتگی و شائستگی جمع تھی اور وحی پر مبنی تائید ربانی الگ ہے۔ بردباری‘ قوت برداشت‘ قدرت پاکر درگزر اور مشکلات پر صبر ایسے اوصاف تھے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی تربیت کی تھی‘ ہر حلیم و بردبار کی کوئی نہ کوئی لغزش اور کوئی نہ کوئی ہفوات جانی جاتی ہے‘ مگر نبیﷺ کی بلندی کردار کا یہ عالم تھا کہ آپﷺ کے خلاف دشمنوں کی ایذا رسانی اور عرب بدمعاشوں کی خود سری و زیادتی جس قدر بڑھتی گئی‘ آپﷺ کے صبروحلم میں اسی قدر اضافہ ہوتا گیا۔
(جاری ہے)