Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ووٹ کاتقدس اور طاقت کافریب

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہاں ہمیں اسلامی اورسیاسی بصیرت یاددلاتی ہے کہ ہرفردکی عدل وانصاف کی ضمانت دیناریاست کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اگرکسی ایک گروہ کی رائے یاحق پرظلم ہوجائے توپوری قوم کی جمہوری صحت متاثر ہوتی ہے۔یہ دھاندلی صرف سیاسی کھیل نہیں بلکہ سماجی انصاف کی پامالی ہے۔حق کی پامالی ہرشخص کے دل میں خوف اورمایوسی کابیج بوتی ہے،جوپوری قوم کے مستقبل کے لئے خطرہ ہے۔اپوزیشن کے خدشات کی روشنی میں، کروڑوں ناخواندہ شہری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوسکتے ہیں۔یہ امرقرآنی تعلیمات کی روشنی میں بھی قابل غور ہے:اورانصاف کے ساتھ میزان قائم کرواور میزان میں کمی نہ کرو۔(الرحمن: 9)
انڈین سیاست میں یہ دھاندلی کسی نئی بات کی نمائندگی نہیں کرتی،بلکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اقتدارکے حصول کے لئے ہمیشہ فریب اورجعل سازی کے وسائل استعمال کیے گئے ہیں۔ تاریخی اورادبی نقطہ نظرکے مطابق جہاں عدل کی کرنیں مدھم ہوں، وہاں طاقت کی آندھی ہرحقیقت کومٹادیتی ہے۔یہی صورت حال آج بھی دہرائی گئی ہے،جب ووٹرلسٹوں میں غیرحقیقی نام شامل کرکے انتخابات کو مشکوک بنایا جا رہا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق،نظرثانی عمل کامقصدصرف ووٹرلسٹوں کی شفافیت ہے۔تاہم،اپوزیشن کے مطابق اس عمل میں انتخابی فوائد کے لئے جان بوجھ کرنام حذف کئے گئے ہیں۔اس مسئلے پرانتخابی دھاندلی کے قانونی پہلوکے مطابق عوام میں شدیدعدم اعتمادپیداہوا ہے، اورسیاسی مباحث میں ہرطرف تنقیدکی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
یہ تمام حقائق اورالزامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جمہوریت کی بنیادعوامی اعتماد پرقائم ہے،اورجب یہ اعتمادٹوٹتاہے توریاست کے ہرشعبے میں بحران پیداہوتاہے۔ یاد رہے کہ جمہوریت کااصل مال عوام کی رائے ہے،اورجب یہ مال چھینا جائے، تو ریاست کا تمام سرمایہ بے کارہوجاتاہے۔قرآنی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں:
اے ایمان والو!انصاف کے ساتھ قائم رہواوراللہ کے لئے گواہی دو،خواہ وہ تمہارے اپنے نفس،والدین یارشتہ داروں پرہی کیوں نہ ہو۔ (النساء:۱۳۵)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انصاف کامعیارکبھی ذاتی مفادات پرمنحصرنہیں ہوسکتا۔
یہ داستان صرف ایک انتخابی تنازع کی روداد نہیں، یہ اس آئین کی روح کاامتحان ہے جس پرایک ارب سے زائدانسانوں کی امیدوں کا چراغ جل رہاہے۔ووٹ کی پرچی جو بظاہر ایک معمولی کاغذ ہے دراصل وہ میزان ہے جس میں اقتدارکے دعوے اورعوام کی امانت کوتولاجاتاہے۔اگراس میزان کاپلڑاپہلے ہی جھکادیاجائے توباقی رہ جانے والاکھیل محض’’جمہوریت کاتماشہ‘‘ہے۔
آج ہندوستانی سیاست ایک ایسے موڑپرہے جہاں سچ اورجھوٹ کی لکیردھندلادی گئی ہے اور طاقتورہاتھ اس دھندکوگہراکرنے میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن کے نعرے ہوں یا حکومت کی وضاحتیں،اصل سوال وہی ہے جوہرباشعورشہری کے دل میں گونج رہاہے۔ ’’کیا میراووٹ میرے اپنے ہاتھ میں ہے یاکسی اورکی جیب میں؟ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جب امانت ضائع ہوتی ہے تو ’’قومیں صرف اپنے حقوق نہیں کھوتیں،بلکہ اپنی تاریخ کاوہ باب بھی کھودیتی ہیں جوعزت اوروقارسے لکھاجاسکتاتھا‘‘۔
اورگواہی کومت چھپا،اورجواسے چھپائے گاتواس کادل گنہگارہے۔(البقرہ:۲۸۳)
قومیں بندوق کے سائے میں نہیں،انصاف کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں۔اگرآج ہم نے ووٹ کے تقدس کی حفاظت نہ کی توآنے والے کل میں ہمارے بچوں کے نصاب میں’’جمہوریت‘‘صرف ایک مردہ لفظ رہ جائے گا۔یہ وہ لمحہ ہے جب ہر شہری کویہ طے کرناہے کہ وہ خاموش تماشائی رہے گایاتاریخی صفحے پراپنانام اس فہرست میں لکھوائے گاجو جمہوریت کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ اگرہم نے آج یہ جنگ ہاردی،توآنے والاکل ہم سے سوال کرے گااورہم اس سوال کاجواب دینے کے بھی اہل نہیں رہیں گے۔
انڈین جمہوریت بھی اس وقت ایک نازک موڑ پرکھڑی ہے۔ووٹر لسٹ میں شفافیت کی کمی،غیرضروری دستاویزی پیچیدگی،اورسیاسی مقاصدکے لئے انتخابی عمل میں دخل اندازی،سب مل کراس کی بنیادوں کوہلارہے ہیں۔یہ محض سیاسی دائرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری امتحان ہے۔جمہوریت کی حفاظت صرف قانون اور اداروں سے نہیں بلکہ عوامی شعور، عدل، اورشفاف عمل سے ممکن ہے۔اگرہم آج ان چیلنجزکا مؤثر اوربروقت مقابلہ نہ کریں،توکل کی نسلیں ہمیں نہ صرف تاریخ میں قصوروارپائیں گی بلکہ جمہوریت کے روشن خواب بھی مدھم پڑجائیں گے۔اس لیے یہ وقت ہے کہ ہم انصاف، شفافیت اورعوامی اعتمادکوجمہوری عمل کی بنیادبنائیں اورہر شہری کوحقِ رائے دہی کی مکمل آزادی فراہم کریں،تاکہ ملک کی سیاست ایک روشن،اخلاقی اورفکری سمت میں آگے بڑھ سکے۔
ان تمام حقائق،الزامات اورتجزیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ انڈین انتخابات کامنظرنامہ ایک نہایت پیچیدہ اورمتنازعہ صورت اختیار کر چکا ہے۔ اپوزیشن کے خدشات، عوامی عدم اعتماد،اورووٹرلسٹوں میں ممکنہ دھاندلی کاسایہ جمہوری اداروں پرگہراپڑا ہے۔یہ ایک ایسالمحہ ہے جب تاریخ کے صفحات پر لکھا جائے گاکہ جب عوام کی رائے کااحترام نہ کیا گیا تو انصاف کی روح تک زخمی ہوئی۔ہرمقتدرقوت کویہ یادرکھناچاہئے کہ انصاف اورشفافیت کے بغیرریاست کے ستون ٹوٹ جاتے ہیں،اورہردھاندلی ایک قومی زخم بن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں نہ صرف سیاسی دھاندلی کے خلاف آوازبلندکرنی چاہیے بلکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں