جنوبی ایشیا کے پرآشوب خطے میں، جہاں طاقت کا توازن ہر لمحے بدلتا رہتا ہے، بھارت کا ’’مشن سدرشن چکرا‘‘ اک ایسا سراب ہے جو نہ صرف بھارت کی تباہی پر منتج ہوگا بلکہ مودی کے یاروں کی کرپشن کا ایک نیا ہتھکنڈہ ہوگا ۔ یہ منصوبہ، جو احمقانہ دیومالائی ہندو اساطیر کے کرشن کے افسانوی ہتھیار سے مستعار لیا گیا ہے، یہ ایک طرف بھارت کے عسکری عزائم کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مودی اور اس کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جہالت کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔ یہ عزائم حقیقت سے زیادہ ایک خواب کی مانند ہیں، جو خطے کے امن کو عدم استحکام کی گہرائیوں میں دھکیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مودی اس طرح کے خیالی پلائو اس لئے پکا رہا ہے کہ پاکستان کی عسکری قوت کا مقابلہ تو اس کے بس کی بات نہیں ، عوام کو بیوقوف بنا کر ایک جانب وہ بھارتیوں کو الو بنا ئے گا تو دوسری جانب اس کے حواری بھارتی دولت لوٹنے میں آزاد ہوں گے ۔ بھارت جس پاکستان کا مقابلہ کرنے کا سوچ رہا ہے ، اس کے قصیدے دنیا پڑھ رہی ہے ۔امریکی جریدے’’بلوم برگ‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فضائیہ نے چین کے تیار کردہ جدید میزائل پی ایل15 کا کامیاب تجربہ کیا، جس نے 100 میل سے زائد فاصلے پر بھارتی جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا، بغیر کسی جوابی حملے کے خطرے کے۔ یہ کامیابی نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس تجربے نے امریکی فوج کو اپنی فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا۔ پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق، چین نے v 2023 میں پی ایل17 کو فعال کیا، جو پی ایل15 کا جدید ورژن ہے اور 248 میل تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کی اس کارکردگی نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا، جس سے امریکی فضائیہ اور بحریہ کو لاک ہیڈ مارٹن کے خفیہ منصوبے AIM- 260 پر کام تیز کرنے کے لیے 2026 ء کے مالی سال میں ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کرنا پڑی۔ یہ میزائل، جسے جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل بھی کہا جاتا ہے، ایف22 اور ایف35 طیاروں کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور مستقبل میں اسے ایف16، ایف15 اور ڈرون طیاروں کے ساتھ مربوط کرنے کا منصوبہ ہے۔امریکی فضائیہ کے مطابق، پاکستانی پی ایل15 کے کامیاب استعمال نے واضح کیا کہ امریکی فضائی برتری کو چیلنج کرنے والے خطرات اب حقیقی ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے AIM-120 (AMRAAM) کی جگہ ایک جدید میزائل کی تیاری ناگزیر ہوگئی ہے۔ اس منصوبے پر اب تک 350 ملین ڈالر سے زائد خرچ ہوچکے ہیں، اور لاک ہیڈ مارٹن کو اگست 2017 ء میں اس کی ترقیاتی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔دوسری جانب، بھارت کا جنگی جنون اسے تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔ 26 اگست 2025 ء کو بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے وزیراعظم نریندر مودی کے یومِ آزادی کے خطاب میں اعلان کردہ ’’سدرشن چکرا‘‘ میزائل شیلڈ کو بیک وقت ڈھال اور تلوار قرار دیا۔ مگر یہ دعویٰ ایک فریب ناک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ مشن بھارت کو طاقت کے زعم میں مبتلا کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ سدرشن چکرا، جو ہندو اساطیر سے اخذ کیا گیا ہے، ایک غیر حقیقی خواب ہے، جو بھارت کو ناقابلِ شکست ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ ’’احمقوں کی جنت‘‘ ہے، جو جنوبی ایشیا اور عالمی امن کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔بھارت کی عسکری سوچ اس منصوبے کے ذریعے محض دفاعی نہیں، بلکہ جارحانہ اور انتقامی شکل اختیار کر رہی ہے۔ جنرل انیل چوہان جیسے فوجی سربراہان نے مہابھارت اور گیتا کی جنگی منطق سے اس جنون کو جواز دینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ مبالغہ آمیز وژن خطرناک کمزوریوں سے بھرا ہوا ہے۔ زمین، سمندر، فضا، خلا اور سائبر ڈومین میں سینسرز اور مصنوعی ذہانت کا انضمام کسی فول پروف دفاع کی بجائے نظام کو حملہ آوروں کے لیے نازک ہدف بناتا ہے۔ ہیکنگ، ریڈار جامنگ یا جھوٹے ڈیٹا سے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو مفلوج کرنا دشمن کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔جغرافیائی طور پر بھارت ایک وسیع اور پیچیدہ خطہ ہے۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم ایک چھوٹے، گنجان آباد علاقے کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ بھارت کی وسیع سرحدیں اور پھیلا ہوا انفراسٹرکچر مکمل تحفظ کے دعوے کو محض خوش فہمی بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ منصوبہ تکنیکی طور پر ابتدائی مراحل میں ہے اور 2035 ء سے قبل مکمل طور پر فعال نہیں ہوگا۔ اس کا انحصار مصنوعی ذہانت، ہائپر سونک میزائل انٹرسیپشن اور ڈائریکٹ انرجی ہتھیاروں پر ہے، جو ابھی تجرباتی ہیں۔
بھارت کا یہ شیلڈ حقیقت میں ایک اسٹرائیک فورس بننے کا وہ احمقانہ خواب ہے ، جس کی تعبیر ممکن نہیں ۔ بحریہ، فضائیہ، سائبر اور سیٹلائٹ سسٹمز کا انضمام طاقت کے ساتھ نئی کمزوریوں کی راہیں کھولتا ہے۔ ایک معمولی سائبر رسائی بھی پورے نظام کو بھارت کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔ اسرائیل کے آئرن ڈوم سے موازنہ سراسر مبالغہ ہے، کیونکہ آئرن ڈوم مختصر فاصلے کے راکٹ روکتا ہے، جبکہ بھارت کے دعوے طویل فاصلے کے میزائلوں اور ڈرون جھنڈ کو روکنے کے ہیں، جو ابھی تک کسی بھی ملک کے لیے ثابت شدہ نہیں۔ حتی کہ روس کا S-400 بھی اسی قسم کے حملوں میں ناکامی دکھا چکا ہے۔معاشی طور پر، یہ منصوبہ بھارت کے لیے ایک دائمی بوجھ ہے۔ مہنگے پرزہ جات اور غیر ملکی سپلائی چین پر انحصار اسے کمزور کر سکتا ہے۔ یہ اخراجات بھارت کی سلامتی اور ترقیاتی اہداف کو کمزور بناتے ہیں۔ کرشن کے چکر کی اساطیری علامت اسے ہندو آئرن ڈوم بنا رہی ہے، جو بھارت کے خطرناک ذہنی رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ طاقت کو امن پر ترجیح دیتا ہے۔مختصرا، مشن سدرشن چکرا بھارت کی تکنیکی اور خودمختاری کی خواہش کا پرجوش مگر خطرناک اظہار ہے۔ تکنیکی کمزوریوں، جغرافیائی حقیقتوں اور سفارتی اثرات کو نظر انداز کرنے سے یہ منصوبہ بھارت کی سلامتی کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزور کرے گا اور خطے کے امن کو جنگی آتش فشاں میں بدل دے گا۔ یہ ایک مہنگا سراب ہے، جو نہ صرف بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف لے جائے گا۔