(گزشتہ سےپیوستہ)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپﷺ وہی کام اختیار فرماتے جو آسان ہوتا تو آپﷺ سب سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔ آپﷺ نے کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لیا۔ البتہ اگر اللہ کی حرمت چاک کی جاتی تو آپﷺ اللہ کیلئے انتقام لیتے۔ آپﷺ سب سے بڑھ کر غیظ و غضب سے دور تھے ‘ سب سے جلد راضی ہو جاتے تھے ‘ جودو کرم کا وصف ایسا تھا کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔آپﷺ اس شخص کی طرح بخشش و نوازش فرماتے تھے جسے فقر کا اندیشہ ہی نہ ہو‘ ابن عباس کا بیان ہے کہ نبی ﷺ سب سے بڑھ کر پیکر جو دو سخا تھے اور آپﷺ کا دریائے سخاوت رمضان المبارک میں اس وقت زیادہ جوش پر ہوتا جب جبرئیل علیہ السلام آپﷺ سے ملاقات فرماتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان میں آپﷺ سے ہر رات ملاقات فرماتے اور قرآن مجید کا دور کراتے۔پس رسول اللہ ﷺ خیر کی سخاوت میں(خزائن رحمت سے مالا مال کر کے) بھیجی ہوئی ہو اسے بھی زیادہ پیش پیش ہوتے تھے۔ حضرت جابرؓ کا ارشاد ہے کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپﷺ نے نہیں کہہ دیا ہو۔ شجاعت ‘ بہادری اور دلیری میں بھی آپﷺ کا مقام سب سے بلند اور معروف تھا ‘ آپﷺ سب سے زیادہ دلیر تھے۔ نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جب کہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پائوں اکھڑ گئے آپﷺ اپنی جگہ برقرار رہے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی بڑھتے گئے‘ پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی‘ بڑے بڑے بہادر بھی کبھی نہ کبھی بھاگے اور پسپا ہوئے ہیں‘ مگر آپﷺ میں یہ بات کبھی نہیں پائی گئی ‘ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ جب زور کارن پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہﷺ کی آڑ لیا کرتے تھے‘ آپﷺ سے بڑھ کر کوئی شخص دشمن کے قریب نہ ہوتا۔ حصرت انس ؓ کا بیان ہے کہ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا ‘ لوگ آواز کی طرف دوڑے۔ راستے میںرسول اللہﷺ واپس آتے ہوئے ملے آپﷺ لوگوں سے پہلے ہی آواز کی جانب پہنچ (کر خطرے کے مقام کا جائزہ لے)چکے تھے۔ اس وقت آپﷺ ابو طلحہؓ کے ایک ننگے گھوڑے پر سوار تھے۔ گردن میں تلوار حائل کر رکھی تھی اور فرما رہے تھے ‘ ڈرو نہیں‘ ڈرو نہیں۔آپﷺ سب سے زیادہ حیاء دار اور پست نگاہ تھے۔
ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیاء دار تھے‘جب آپﷺ کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو چہرے سے پتا لگ جاتا‘ اپنی نظریں کسی کے چہرے پر گاڑھتے نہ تھے۔ نگاہ پست رکھتے تھے اور آسمان کی بہ نسبت زمین کی طرف زیادہ دیر تک رہتی تھی ۔عموماً نیچی نگاہ سے تاکتے ‘ حیا ء اور کرم نفس کا عالم یہ تھا کہ کسی سے ناگوار بات نہ کہتے اور نہ کسی کی کوئی ناگوار بات آپﷺ تک پہنچتی تو نام لے کر اس کا ذکر کرتے‘ بلکہ یوں فرماتے کہ کیا بات ہے کہ کچھ لوگ ایسا کام کر رہے ہیں۔فرزوق کے اس شعر کے سب سے زیادہ صحیح مصداق آپﷺ تھے۔ آپﷺ حیا ء کے سبب نگاہ پست رکھتے ہیں اور آپﷺ کی ہیبت کے سبب نگاہیں پست رکھی جاتی ہیں‘ چنانچہ آپﷺ سے اسی وقت گفتگو کی جاتی ہے جب آپﷺ تبسم فرما رہے ہوں۔آپﷺ سب سے زیادہ عادل پاک دامن‘ صادق اللہجہ اور عظیم الاامانتہ تھے‘ اس کا اعتراف آپﷺ کے دوست دشمن سب کو ہے۔ نبوت سے پہلے آپﷺ کو امین کہا جاتا تھا اور دور جاہلیت میں آپﷺ کے پاس فیصلے کے لئے مقدمات لائے جاتے تھے۔
جامع ترمذی میں حضرت علی ؓسے مروی ہے کہ ایک بار ابوجہل نے آپﷺ سے کہا ’’ہم آپﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے البتہ آپﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں۔ ‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’ یہ لوگ آپﷺ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ ہر قل نے ابو سفیانؓ سے دریافت کیا کہ کیا اس نبی ﷺ نے جو بات کہی ہے اس کے کہنے سے پہلے تم لوگ اسے جھوٹ سے متہم کرتے تھے؟ ابو سفیانؓ نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ آپﷺ سب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے دور تھے‘ جس طرح بادشاہوں کے لئیان کے خدا م و حاشیہ بردار کھڑے رہتے ہیں اس طرح اپنے لئے آپﷺصحابہ کرام کو کھڑے ہونے سے منع فرماتے تھے۔ مسکینوں کی عیادت کرتے تھے ‘ فقرا کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ‘ غلام کی دعوت منظور فرماتے تھے ۔ صحابہ کرام ؓ میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے ‘ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے۔ اپنے کپڑے خود سیتے تھے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے۔آپﷺ بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے ۔اپنے کپڑوں میں جوئیں تلاش کرے تھے‘ اپنی بکری کا دودھ دوہتے تھے اور اپنا کام خود کرتے تھے۔آپﷺ سب سے بڑھ کر عہد کی پابندی اور صلہ رحمی فرماتے تھے ‘ لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت اور رحم و مروت سے پیش آتے تھے ‘ رہائش اور ادب میں سب سے اچھے تھے۔
آپﷺ کا اخلاق سب سے زیادہ کشادہ تھا‘ بدخلقی سے سب سے زیادہ دور نفور تھے نہ عادتاً فحش گوتھے نہ بہ تکلف فحش کہتے تھے ‘ نہ لعنت کرتے تھے نہ بازار میں چیختے چلاتے تھے‘ نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معافی و درگزر سے کام لیتے تھے ‘ کسی کو اپنے پیچھے چلتا ہوا نہ چھوڑتے تھے اور نہ کھانے پینے میں اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر ترفع اختیار فرماتے تھے‘ کبھی اپنے خادم کو اف نہیں کہا نہ کسی کے کام کرنے یانہ کرنے پر عتاب فرمایا۔ مسکینوں سے محبت کرتے ‘ ان کے جنازوں میں حاضر ہوتے تھے ‘ ایک بار آپﷺ سفر میں تھے‘ ایک بکری کاٹنے پکانے کا مشورہ ہو ا‘ ایک نے کہا ذبح کرنا میرے ذمہ ‘ دوسرے نے کہا کھال اتارنا میرے ذمہ‘ تیسرے نے کہا پکانا میرے ذمہ‘ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ لکڑی جمع کرنا میرے ذمہ‘ صحابہ نے عرض کیا ہم آپﷺ کا کام کر دیں گے آپﷺ نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ تم لوگ میرا کام کر دو گے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کروں کیونکہ اللہ اپنے بندے کی یہ حرکت ناپسند کرتا ہے‘ کہ وہ اپنے آپ کو رفقا میں ممتاز سمجھے اس کے بعد آپﷺ نے اٹھ کر لکڑی جمع فرمائی… آئیے ذرا ‘ ہند بن ابی ہالہ کی زبانی رسول اللہ ﷺ کے اوصاف سنیں۔ ہند اپنی ایک طویل روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ پیہم غموں سے دوچار تھے ‘ ہمیشہ غور و فکر فرماتے رہتے تھے‘ آپﷺ کے لئے راحت نہ تھی‘ بلا ضرورت نہ بولتے تھے‘ دیر تک خاموش رہتے تھے ‘ بات کا آغاز و اختتام پورے منہ سے کرتے تھے یعنی صرف منہ کے کنارے سے نہ بولتے تھے اور دو ٹوک کلمات فرماتے تھے‘ ان میں نہ فضول گوئی ہوتی تھی نہ کوتاہی ‘ نرم خو تھے‘ جفا جو اور ناقدرے نہ تھے’نعمت معمولی بھی ہوتی تو اس کی تعظیم فرماتے تھے‘ کسی چیز کی مذمت نہیں فرماتے تھے۔ کھانے کی برائی نہیں فرماتے تھے تعریف حق سے کوئی تعرض کیا جاتاتو جب تک انتقام نہ لے لیتے تو آپﷺ کے غضب کو روکانہ جا سکتا تھا ‘ البتہ کشادہ دل تھے ‘ اپنے نفس کے لئے غضبناک نہ ہوتے نہ انتقام لیتے‘ جب اشارہ فرماتے تو پوری ہتھیلی سے اشارہ فرماتے اور تعجب کے وقت ہتھیلی پلٹنے جب غضبناک ہوتے تو رخ پھیر لیتے اور جب خوش ہوتے تو نگاہ پست فرما لیتے ۔آپﷺ کی بیشتر ہنسی تبسم کی صورت میں تھی ۔ مسکراتے تو دانت اولوں کی طرح چمکتے۔ لایعنی بات سے زبان روکے رکھتے‘ ساتھیوں کو جوڑتے تھے ‘ توڑتے نہ تھے ‘ ہر قوم کے معزز آدمی کی تکریم فرماتے تھے اور اسی کو ان کا والی بناتے تھے۔
(جاری ہے)