Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز، ایک سازش

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں کی مٹی سونا اُگلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں نہروں اور دریاؤں کا جال بچھا ہے، جہاں گندم، کپاس، چاول اور گنا اُگانے کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ لیکن افسوس کہ آج انہی زرخیز زمینوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی نذر کیا جا رہا ہے۔ چند خاندانوں کی دولت کی ہوس پوری کرنے کے لیے قومی مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کے بڑے شہروں کے گرد دیہات اور زرعی زمینیں تیزی سے رہائشی منصوبوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کراچی کے مضافات میں جو زمینیں کبھی گندم اور سبزیوں سے لہلہاتی تھیں، آج وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیز کا جال بچھا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ حکومتوں کی آشیر باد اور اربابِ اختیار کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ جن زمینوں پر ملک کے کروڑوں عوام کی خوراک اُگنی تھی، وہ مافیاز کے ہاتھوں اربوں روپے کے تجارتی منصوبے بن چکی ہیں۔دنیا کے ہر باشعور ملک میں سب سے پہلی ترجیح فوڈ سیکیورٹی کو دی جاتی ہے۔ چین، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک زرعی زمین کے تحفظ کے لیے سخت قوانین رکھتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں کسانوں کو سبسڈی دی جاتی ہے تاکہ زراعت متاثر نہ ہو۔ لیکن پاکستان میں الٹا تماشا ہے۔ یہاں زرعی زمین کو برباد کرنے کو ’’ترقی‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔ایک سوال ہے یہ بھی ہے کہ جب ہماری آبادی بڑھ رہی ہے تو خوراک کہاں سے آئے گی؟
کیا ہم اپنی قوم کو باہر سے گندم اور دالیں مانگ کر پالیں گے؟ کیا ایک زرعی ملک کو اناج کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا زیب دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پیچھے چند بااثر خاندان اور طاقتور مافیاز ہیں۔ یہ لوگ راتوں رات ارب پتی بن جاتے ہیں جبکہ کسان، مزدور اور غریب عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے شکنجے میں پس رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ حکمران بھی ان کے سامنے بے بس ہیں یا پھر ان ہی کا حصہ ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اس ملک کی زمین اور مستقبل کو نیلام کر دیا گیا ہے۔قرآنِ حکیم میں زمین اور اس کی پیداوار کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا گیا ہے: ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قابو میں کیا تاکہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ، اور اسی کی طرف تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔ (الملک: 15) ایک اور مقام پر فرمایا گیا: یعنی اللہ نے جو رزق اور وسائل تمہیں دیے ہیں، ان میں دوسروں کا حق بھی ادا کرو۔ (النور: 33) زرعی زمینوں کو برباد کرنا دراصل اللہ کی نعمت کی ناشکری اور آئندہ نسلوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا حق دار ہے” (سنن ترمذی)
یہ حدیث زراعت اور زمین کی آبادکاری کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ اس کے برعکس زرعی زمین کو برباد کرنا یا اس پر ناجائز قبضہ کر کے منافع خوری کرنا ایک طرح کی خیانت ہے۔اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کو شدید غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زرعی زمین سکڑتی جائے گی اور خوراک کی پیداوار کم ہوتی جائے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم ہر سال اربوں ڈالر کی خوراک درآمد کریں گے۔ پہلے ہی ہمارا تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، ایسے میں خوراک کی درآمد مزید تباہی لائے گی۔ غذائی قلت بڑھنے سے مہنگائی آسمان کو چھوئے گی اور غربت کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس خطرناک رجحان کو روکا جائے۔ حکومت کو فوری طور پر زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام پر پابندی لگانی چاہیے۔ شہری منصوبہ بندی میں عمودی (Vertical) رہائش کو فروغ دیا جائے تاکہ زرعی زمین محفوظ رہے۔ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور سبسڈی دے کر زراعت کی طرف راغب کیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے عوام میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ زرعی زمین ہماری بقا کی ضامن ہے، اسے قربان کرنا اپنے بچوں کے مستقبل سے دشمنی ہے۔ پاکستان کو بچانا ہے تو اپنی زمین بچانی ہوگی۔ یہ ملک ہاؤسنگ مافیاز کے ہاتھوں یرغمال نہیں بن سکتا۔ چند خاندانوں کی عیاشی کے لیے پوری قوم کو غذائی غلامی میں دھکیلنا کسی طور جائز نہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کنکریٹ کے جنگل چاہتے ہیں یا سرسبز کھیت؟ دولت کے پجاریوں کے خواب پورے کریں گے یا اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنائیں گے؟ یہی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں