(گزشتہ سےپیوستہ)
لوگوں(کے شر)سے محتاط رہتے اور ان سے بچائو اختیار فرماتے تھے ‘ لیکن اس کیلئے کسی سے اپنی خندہ جبینی ختم نہ فرماتے تھے۔ اپنے اصحاب کی خبر گیری کرتے اور لوگوں کے حالات دریافت فرماتے‘ اچھی چیز کی تحسین و تصویب فرماتے تھے اور بری چیز کی تفیح و توہین‘ معتدل تھے‘ زیادہ نشیب و فراز نہ تھا‘ غافل نہ ہوتے تھے کہ مبادا لوگ بھی غافل یا ملول خاطر ہو جائیں‘ ہر حالت کے لئے مستعد رہتے تھے‘ حق سے کوتاہی نہ فرماتے تھے نہ ناحق کی طرف تجاوز فرماتے تھے ‘جو لوگ آپﷺ کے قریب رہتے تھے وہ سب سے اچھے لوگ تھے ان میں سب سے نزدیک افضل وہ تھا جو سب سے بڑھ کر خیر خواہ اور سب سے زیادہ قدر آپ ﷺ کے نزدیک اس کی تھی جو سب سے اچھا غمگسار و مدد گار ہوا‘ آپﷺ اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کا ذکر ضرورفرماتے ‘ جگہیں متعین نہ فرماتے‘ یعنی اپنے لئے کوئی امتیازی جگہ مقرر نہ فرماتے جب قوم کے پاس پہنچتے تو مجلس میں جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتے اور اسی کا حکم بھی فرماتے۔ ہر جلیس کو اس کا حصہ عطا فرماتے حتی کہ کوئی جلیس یہ نہ محسوس کرتا کہ کوئی شخص آپﷺ کے نزدیک اس سے زیادہ باعزت ہے‘کوئی کسی ضرورت سے آپﷺ کے پاس بیٹھتا یا کھڑا ہوتا تو آپﷺ اتنے صبر کے ساتھ اس کے لئے رکے رہتے کہ وہی پلٹ کر واپس ہوتا ‘ کوئی کسی ضرورت کا سوال کر دیتا تو آپﷺ اسے عطا کئے بغیر واپس نہ فرماتے۔آپ ﷺ نے اپنی خندہ جبینی اور اخلاق سے سب کو نوازا یہاں تک کہ آپ ﷺ سب کے لئے باپ کا درجہ رکھتے تھے اور سب آپﷺ کے نزدیک یکساں حق رکھتے تھے کسی کو فضیلت تھی تو تقویٰ کی بنیاد پر آپﷺ کی مجلس حلم و حیاء اور صبر و امانت کی مجلس تھی‘ اس میں آوازیں بلند نہ کی جاتی تھیں ‘ اور نہ حرمتوں کا مرثیہ ہوتا تھا‘ یعنی کسی کی عزت پر حرف آنے کا اندیشہ نہ تھا ‘ لوگ تقوی ٰکے ساتھ باہم محبت و ہمدردی رکھتے تھے حاجت مند کو نوازتے تھے اور اجنبی کو انس عطا فرماتے تھے۔
آپﷺ کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت رہتی ‘ سہل خو اور نرم خو تھے ‘ جفا جو اور سخت خونہ تھے ۔ نہ زیادہ زور سے بولتے نہ فحش گوئی فرماتے نہ زیادہ عتاب فرماتے تھے نہ بہت تعریف فرماتے تھے ‘جس چیز کی خواہش نہ ہوتی اس سے تغافل برتتے تھے‘ آپﷺ سے مایوسی نہیں ہوتی تھی‘ آپﷺ نے تین باتوں سے اپنے نفس کو محفوظ رکھا (i ) ریا سے (ii ) کسی چیز کی کثرت سے (iii ) اور لایعنی بات اور تین باتوں سے لوگوں کو محفوظ رکھا یعنی آپ ﷺ (i ) کسی کی مذمت نہ فرماتے تھے (ii )کسی کو عار نہیں دلاتے تھے (iii ) اور کسی کی عیب جوئی نہیں فرماتے تھے‘ آپﷺ وہی بات نوک زبان پر لاتے تھے جس میں ثواب کی امید ہوتی ‘ جب آپﷺ تکلم فرماتے تو آپﷺ کے ہم نشین اپنے سر جھکا لیتے گو یا ان کے سروں پر چڑیا ہے اور جب آپﷺ خاموش ہوتے تو لوگ گفتگو کرتے‘ لوگ آپﷺ کے پاس گپ بازی نہ کرتے‘ آپ کے پاس جو کوئی بولتا سب اس کے لئے خاموش رہتے‘ یہاں تک کہ وہ اپنی بات پوری کر لیتا۔ ان کی بات ان کے پہلے شخص کی بات ہوتی ‘ جس بات سے لوگ ہنستے اس سے آپﷺ بھی ہنستے اور جس بات پر سب لوگ تعجب کرتے اس پر آپﷺ بھی تعجب فرماتے ‘ اجنبی آدمی بات میں جفا سے کام لیتا تو اس پر آپﷺ صبر فرماتے اور فرماتے جب تم لوگ حاجت مند کو دیکھو کہ وہ اپنی حاجت کی طلب میں ہے تو اسے سامان ضرورت سے نواز دو۔ آپﷺ احسان کا بدلہ دینے والے کے سوا کسی سے ثنا کے طالب نہ ہوتے۔ خارجہ بن زید ؓکا بیان ہے کہ نبی ﷺ اپنی مجلس میں سب سے زیادہ باوقار ہوتے ‘ اپنا کوئی عضو باہر نہ نکالتے بہت زیادہ خاموش رہتے بلا ضرورت نہ بولتے جو شخص نامناسب بات کہتا ‘اس سے رخ پھیر لیتے‘ آپﷺ کی ہنسی مسکراہٹ تھی اور کلام دو ٹوک‘ نہ فضول نہ کوتاہ۔ آپﷺ کے صحابہؓ کی ہنسی بھی آپﷺ کی توقیر اقتدار میں مسکراہٹ کی حد تک ہوتی ۔ حاصل یہ کہ نبیﷺ بے نظیر صفات کمال سے آراستہ تھے ۔
آپﷺ کے رب نے آپﷺ کو بے نظیر ادب سے نوازا تھا۔ حتی کہ اس نے خود آپﷺ کی تعریف میں فرمایا ’’ یقینا آپﷺ عظیم اخلاق پر ہیں‘‘ اور ایسی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے لوگ آپﷺ کی طرف کھینچ آئے ‘ دلوں میں آپﷺ کی محبت بیٹھ گئی ‘ اور آپ ﷺ کو قیادت کا وہ مقام حاصل ہوا کہ لوگ آپﷺ پروارفتہ ہو گئے۔ ان ہی خوبیوں کے سبب آپﷺ کی قوم کی اکڑ اور سختی نرمی میں تبدیل ہوئی ‘ یہاں تک کہ یہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوگئی ۔اس مضمون میں آپﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ آپﷺ کے کمال اور عظیم صفات کے مظاہر کی چند چھوٹی چھوٹی جھلکیاں ہیں ورنہ آپﷺ کے مجدد و شرف اور شمائل و خصائل کی بلندی اور کمال کا یہ عالم تھا کہ انکی حقیقت اور تہہ تک نہ رسائی ممکن ہے نہ اس کی گہرائی ناپی جا سکتی ہے۔ بھلا عالم وجود کے اس سب سے عظیم انسان کی عظمت کی گہرائی تک کسی کی رسائی ہو سکتی ہے؟ جس نے مجدد کمال کے سب سے بلند چوٹی پر اپنا نشیمن بنایا اور اپنے رب کے نور سے اس طرح منور ہوا کہ کتاب الہی ہی کو اس کا وصف اور خلق قرار دیا گیا ۔ یعنی قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآنآپﷺ کے رفقا اور ہم نشین ورافتگی کی حد تک آپﷺ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ آپﷺ کو خراش آجائے‘ خواہ اس کیلئے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیںحضرت براء کہتے ہیں آپﷺ کے اخلاق سب سے بہتر تھے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کا چہرہ تلوار جیسا تھا ؟ انہوں نے کہا چاند جیسا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ کا چہرہ گول تھا۔ ربیع بنت معود کہتی ہیں کہ اگر تم حضور ﷺ کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہیحضرت جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپﷺ کو دیکھا‘ آپﷺ پر سرخ جوڑا تھا ‘ میں رسول ﷺ کو دیکھتا اور چاند کو دیکھتا‘ آخر (اسی نتیجہ پر پہنچا کہ) آپﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حریرہ دیبا نہیں چھوا جو رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم رہا ہو اور نہ کبھی کوئی عنبریا مشک یا کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اللہﷺ کی خوشبو سے بہتر رہی ہوحضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپﷺ وہی کام اختیار فرماتے جو آسان ہوتا تو آپﷺ سب سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔ آپﷺ نے کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لیا۔ البتہ اگر اللہ کی حرمت چاک کی جاتی تو آپﷺ اللہ کیلئے انتقام لیتے شجاعت ‘ بہادری اور دلیری میں بھی آپﷺ کا مقام سب سے بلند اور معروف تھا ‘ آپﷺ سب سے زیادہ دلیر تھے۔ نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جب کہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پائوں اکھڑ گئے آپﷺ اپنی جگہ برقرار رہے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی بڑھتے گئےآپﷺ سب سے زیادہ حیا دار اور پست نگاہ تھے۔ ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ آپﷺ پردہ نشین کنواری عورت سے بھی زیادہ حیادار تھے ‘جب آپﷺ کو کوئی بات ناگوار گزرتی تو چہرے سے پتا لگ جاتا‘ اپنی نظریں کسی کے چہرے پر گاڑھتے نہ تھے۔ نگاہ پست رکھتے تھے اور آسمان کی بہ نسبت زمین کی طرف زیادہ دیر تک رہتی تھی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپﷺ اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے۔ اپنے کپڑے خود سیتے تھے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے۔