بھارتی ریاست آسام میں بنگالی مسلمانوں کی ریاستی سرپرستی میںزبرستی بے دخلی کی مہم جاری ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوسائٹی کے مختلف گروپوں نے بی جے پی کی حکومت کی ہندو توا پالیسیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔دی انڈین ایکسپریس کی ایک چشم کشا رپورٹ میں کہاگیاہے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی جانب سے آسام میں جاری مسلم مخالف مہم پر ایک رپورٹ پیش کی گئی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال جون اور جولائی کے دوران 3 ہزار 300سے زائد بنگالی مسلم خاندانوں کو بے دخل کیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکن، وکلا، سابق افسران اور محققین پر مشتمل سات رکنی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ تیارکرنے کیلئے متاثرہ اضلاع گولپارہ اور کامرپ کا دورہ کیا۔ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ مہم خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کی گئی، جو بھارتی آئین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔قومی فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر سیدہ سیدین حمید نے کہا ہے کہ آسام کبھی بھی ایسا نہیں تھا، اب یہ ایک خطرناک ریاست بن چکی ہے ا ور مسلمانوں کے خلاف نفرت، تحقیر اور انتقام میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے آسام میں ” میا“ عزت و احترام کا استعارہ تھا، لیکن اب یہ لفظ مسلمانوں کے لیے گالی بن چکا ہے۔ اسی طرح بنگلادیشی جیسے الفاظ مسلمانوں کو نفرت انگیز طریقے سے نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
معروف وکیل پرشانت بھوشن نے بھی آسام حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت قانون کی پرواہ کیے بغیر زمینیں کارپوریشنز کو فروخت کر رہی ہے، جبکہ بنگالی نژاد مسلمانوں کو طاقت کے ذریعے ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریے کے تحت آسام کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں ہندو اکثریتی تسلط قائم کرنے کے لیے مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پالیسی صرف آسام تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں پیش آنے والے خونریز واقعے نے بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی اظلم و جبر ور عدالتی تعصب کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
عدالتی حکم پر سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے بعد پرتشدد جھڑپوں میں 5 مسلمان جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ گزشتہ روز اس واقعے کی تحقیقات کیلئے تشکیل دئے گئے انکوائری پینل نے اپنی رپورٹ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو پیش کی ہے ۔ رپورٹ میں مسجد کی جگہ پر ہندو مندر ”ہری ہر مندر“کے آثار موجود ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ عدالتی کمیشن کی حیثیت سے پیش کی گئی رپورٹ میں مسلمانوں کے تحفظات اور شواہد کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دیاگیا ہے۔ اس رپورٹ پر اقلیتی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار کیاگیا ہے۔ متعدد سماجی کارکنوں اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ایک منظم ایجنڈے کا حصہ ہے جو مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور تاریخی ورثے کو مٹانا کی ایک گمراہ کن سازش ہے ۔واضح رہے کہ بھارت میں سنبھل جامع مسجد پر تنازعہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کا سلسلہ 6دسمبر 1992میں بابری مسجد کی شہادت سے شروع ہوا تھا، جب ہندو انتہا پسندوں نے تاریخی مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے گیانواپی، اجین، پانی پت اور فتح پور سمیت کئی مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔رواں ماہ فتح پور کے علاقے ابو نگر میں 200سال پرانے ایک مسلم مقبرے پر زعفرانی جھنڈا لہرا کر اس کی بے حرمتی کی گئی، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کے واقعات پر ریاستی ادارے نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اکثر ان واقعات کی پشت پناہی کی جاتی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی ہندوتواپالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو یہ ملک کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو ں گی۔ سنبھل مسجد کا واقعہ ایک ایسا المیہ ہے جو نہ صرف اقلیتوں کے تحفظ بلکہ بھارتی عدلیہ اور حکومت کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست اترپردیش میں ہندو توا غنڈوں نے تین مسلمان نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وسیم ، رضوان اور عامر نامی نوجوانوں پر ریاست کے ضلع پرتا پور میں بہیمانہ تشدد کیا گیا ۔ ہندو توا غنڈوں نے پہلے مسلم نوجوانوں سے انکے نام پوچھے۔نوجوانوں کے مسلمان ہونے کا پتہ چلتے ہی غنڈوں نے ان پر لوہے کی سلاخوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ سخت مار پیٹ کے باعث انہیں سخت چوٹیں آئیں۔ وسیم کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور اسے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔متاثرہ نوجوانوں کے اہلخانہ نے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور انہیں سخت سزاد ینے کا مطالبہ کیا ہے۔