آج کے دن جب فضائیں پاکستان زندہ بادکے نعروں سے گونج رہی ہیں،جب ہرگلی، ہر کوچہ سبزہلالی پرچم کی چمک سے جگمگا رہاہے،جب بچے معصوم ہنسی کے ساتھ شہداکے خوابوں کوزندہ کررہے ہیں،تومیرے دل کی دھڑکنیں بھی پاکستان کی دھڑکن کے ساتھ جڑگئی ہیں۔یہ دن ہمیں صرف خوشی نہیں دیتا،بلکہ ہماری رگوں میں وہی تپش دوڑاتاہے جو1947 ء کے قافلوں کے زخمی قدموں میں تھی،جوشہیدوں کے خون میں تھی،اورجوماؤں کی دعاؤں میں تھی۔یقین جانئے آج اگرہم آزادفضامیں سانس لے رہے ہیں، تویہ ہمارے شہداکی بدولت ہے۔یہ پاکستان ہمیں تحفے میں نہیں ملایہ پاکستان ہمیں لہو،آنسواورقربانیوں کے عوض ملاہے۔
آج ہم جس نظریے کی بات کرنے جارہے ہیں،وہ کوئی معمولی سوچ نہیں،بلکہ وہ روحانی چراغ ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن دکھائی۔نظریہ پاکستان وہ صد ا تھی جوکروڑوں مسلمانوں کے دل سے اٹھی،وہ خواب تھاجسے لاکھوں آنکھوں نے دیکھااورجسے لاکھوں جانوں نے اپنی قربانیوں کے نذرانے سے تعبیر بخشی۔ یہ نظریہ محض زمین کے ٹکڑے کے حصول کا نام نہیں،یہ توایمان کی حرارت،یقین کی طاقت اور قربانی کی عظمت کااستعارہ ہے۔پاکستان کا وجود اسی نظریے کازندہ معجزہ ہے۔
نظریہ پاکستان دراصل ایک خواب کی تعبیر ہے،وہ خواب جوکروڑوں مسلمانانِ ہندنے اپنے دلوں میں سجایاتھا۔یہ خواب آزادی کا، اپنے تشخص کے تحفظ کااوردینِ اسلام کے سنہری اصولوں پرمبنی ایک ایسی مملکت کاتھاجہاں عدل، مساوات اوربھائی چارہ پروان چڑھے۔جب ظلم وناانصافی کے اندھیروں میں مسلمانوں کی شناخت مٹانے کی کوششیں ہو رہی تھیں،اس وقت نظریہ پاکستان ایک روشن چراغ بن کرابھرا،جس نے غلامی کی زنجیریں توڑکرایک آزادوطن کی منزل دکھائی۔یہ صرف سیاسی مقصدنہ تھابلکہ ایک دینی، تہذیبی اورجذباتی جدوجہدتھی جس نے مسلمانوں کوایک پرچم تلے جمع کردیا۔
نظریہ پاکستان کوئی محض سیاسی مطالبہ نہ تھا، یہ توایک امت کی روح کی پکارتھی،ایک خواب کی تعبیرتھی جودلوں میں ایمان کی لوکی مانند جل رہاتھا۔یہ نظریہ اس وقت پروان چڑھاجب غلامی کی زنجیریں مسلمانوں کی شناخت کوجکڑنے لگیں اوران کے دینی وتہذیبی وجودپراندھیروں کاسایہ منڈلانے لگا۔ایسے میں یہ نظریہ ایک مینارِ نور بن کرابھرا،جس نے کروڑوں دلوں کوایک مرکزپرمجتمع کردیا۔یہی وہ جذبہ تھاجس نے بے سروسامان قافلوں کوحوصلے اورجرات کے زادِراہ سے نوازااورانہیں منزل کی جانب رواں دواں کردیا۔پاکستان کی بنیاد محض خاک وخون پرنہیں بلکہ ایک آفاقی نظریے،ایک ایمانی یقین اورایک ناقابلِ شکست عزم پررکھی گئی۔
آج ہم اس ارضِ مقدس پرکھڑے ہیں جسے اللہ نے لاکھوں شہیدوں کے خون سے سیراب کیا، جس کے ایک ایک ذرے میں قربانی کی خوشبو ہے،جس کی فضاؤں میں شہداکی آہوں اوردعاؤں کی گونج اب بھی سنائی دیتی ہے۔یادکرووہ دن جب لاکھوں مائیں اپنی گودیں خالی کرکے پاکستان کے خواب کی آبیاری کررہی تھیں؛جب بہنوں نے اپنی عصمتیں قربان کرکے ہمیں یہ سبز ہلالی پرچم دیا؛جب نوجوانوں نے ہنستے ہنستے اپنی جانیں نچھاورکرکے ہمیں آزادی کی سانس بخشی۔آج ہم آزادہیںمگریہ آزادی ہمیں کسی خیرات میں نہیں ملی؛یہ آزادی ہمیں اپنے خون سے لکھی ہوئی تاریخ کے ورثے میں ملی ہے۔
آج ہم اس مقدس دن کی یادمنارہے ہیں جس روزبرصغیرکے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں، ان کی دعاؤں اوران کے لہوکی سرخی نے تاریخ کے اوراق پرایک نیاچراغ جلایا۔یہ چراغ پاکستان ہے ، ایمان،قربانی اورعزتِ نفس کاوہ نشان جس نے ہمیں دنیاکی اقوام میں ایک الگ شناخت عطا کی۔ آج اسی میدان میں ہم فخرسے کھڑے ہیں، سرجھکانے کے بجائے سراونچاکرکے،یومِ آزادی کے اس عظیم موقع پرجہاں ہماری آنکھوں میں روشنیاں اوردلوں میں تڑپ موجزن ہے۔آج ہم ان شہداکی یادمیں بھی کھڑے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرکے ہمیں یہ وطن عطا کیا، اور ان عظیم روحوں کی قربانی کوسلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہرظلم وستم کے بیچ پاکستان کواس مقام پرپہنچایاجہاں آج یہ دنیا کے نقشے پر واحد ممتازنشاں ہے۔
سب سے پہلے،اس حالیہ پاک بھارت کشیدگی اورکی فتحِ مبین کاذکرنہ کرناانتہائی ناشکری ہوگی،اورعجزوانکساری کے ساتھ اس احسانِ عظیم کاذکرکرتے ہوئے سجدہ شکربجالاتے ہیں۔ ہاں وہی14اگست2025ء کی شام جب ہمیں نئی قوت،نئے ہمت،اور نئے ولولے کے ساتھ مردِمجاہدین کی وہ مثال ملی جوملک کی حفاظت کیلئے اسلامی شعورکے نگینے کی مانندچمکے۔اس کوآپ معرکہِ الحق کہہ سکتے ہیں۔اس دوران نیاآرمی راکٹ فورس کمانڈقائم کیاگیا،تاکہ دشمن کو منہ توڑجواب دینے کاعہدمزیدمضبوط ہو جائے، پاک فوج نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نیاسنگِ میل عبورکیاہے۔
یہ سال ایک نیاباب رقم کرتاہے۔پاک بھارت حالیہ معرکہ جسے تاریخ فتح مبین کے نام سے یادکرے گی،اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان کادفاع ناقابلِ تسخیرہے۔ہماری افواج نے جس جرأت اورایثارسے وطن کاپرچم سربلندرکھا،وہ آنے والی نسلوں کیلئے مینارِ نورہے۔دشمن کویہ پیغام دیاگیاہے کہ پاکستان محض ایک سرحدنہیں بلکہ ایک نظریہ ہے اورنظریے کوکبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔یہ فقط ایک سیاسی یاعسکری اقدام نہیں تھابلکہ یہ ایک جذبہ تھا،یاددہانی تھی،اس بات کی کہ اگرپاکستان نہ ہوتا،توکشمیرکے شہید، الحاقِ وطن کی تڑپ، مسلمانوں کاحیثیت،سب کچھ خطرے میں ہوتا۔
لیجیے،اب دیکھتے ہیں پاکستان کی معاشی ترقی کے روشن اعدادوشمار،اگلے سالوں میں اس معاشی ترقی کی بنیادجوکہ پچھلے سال کے مقابلے میں بہتری کی علامت ہے۔ہماری بلند پروازمعاشی حکمتِ عملی ہے،جوکیلئے ترتیب دی گئی،اورجس نے افراط زرکو 8۔11سے گھٹاکر 3.5 تک لانے میں کامیابی پائی،ترسیلات زر میں کئی ارب ڈالرکے کرنٹ اکاؤنٹ
سرپلس کااعزازبھی حاصل کیا،یہ سب منصوبوں میں شفافیت اورکارکردگی کی برتری کا ثبوت ہے۔وفاقی بجٹ 2025-26ء نے عوام دوست اصلاحات اورترقیاتی سرمایہ کاری کو ترجیح دی،جبکہ دفاعی تقویت کے ساتھ ساتھ نموکا ہدف 4.2 مقررکیاگیاایک واضح سمتِ نشوونما ہے۔ ساتھ ہی،یہ اطمینان بھی ہے کہ پاکستان صرف دفاعی قوت میں ہی نہیں بلکہ معاشی میدان میں بھی مستحکم قدم بڑھارہاہے۔حالیہ مالی سال میں معیشت کی شرح نمو 2.7 رہی،مہنگائی کوقابومیں لایا گیا، ترسیلات زرمیں نمایاں اضافہ ہوا،اورترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔اڑان پاکستان جیسے اقدامات اس امرکاثبوت ہیں کہ ہم استحکام کی دہلیزسے ترقی کی شاہراہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ اعدادوشمارثابت کرتے ہیں کہ ہماری قربانیاں،ہماری صبرآزماجدوجہدکبھی رائیگاں نہ گئی بلکہ وہ آج ہمیں استحکام،ترقی اور عالمی مقبولیت کامرتبہ دینے کابیڑااٹھائے ہوئے ہیں۔
چودہ اگست ہمیں صرف جشن منانے کا دن نہیں دیتابلکہ ہمیں یہ یاددلاتاہے کہ اگر پاکستان نہ ہوتاتوآج برصغیرکے کروڑوں مسلمان کس حال میں ہوتے؟ بھائیوغورکریں کہ اگر پاکستان نہ ہوتا،توبرصغیر میں مسلمانوں کا معاشرتی، سیاسی،اورذہنی مقام کیاہوتا؟نہ دینی آزادی میسر آتی، نہ عزتِ نفس،اورنہ وہ سیاسی وقارجو آج ہمیں ایک آزادریاست میں حاصل ہے۔اگرپاکستان نہ بنتا توعالمِ اسلام مزید غلامی کی زنجیروں میں جکڑا رہتا۔وہ سرزمین جہاں آج کے علمی وفوجی،تکنیکی واقتصادی کامیاب نوجوان بستے ہیں،وہاں آج مسلم ہمدردی اوراسلام کی عزت کی جولوجل رہی ہے، وہ شایدبجھادی جاتی۔آج دنیاکے میدانوں میں آواز بنانے والے،آج کے قومی و عالمی فورمزپرعلم اڑانے والے ہم میں سے ہی توہیں۔غیورقوم نے آج تک ہرآزمائش کامقابلہ ایمان اورپختہ ارادوں کے دم سے کیا ہے۔
ؕ(جاری ہے)