Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

پاک افواج سے عوام کا رومانس

برطانیہ میں رہتے ہوئے تقریبا 35 برس گزر گئے ہیں، لیکن آج بھی ہر صبح میرا پہلا خیال پاکستان ہی ہوتا ہے۔ بیدار ہوتے ہی دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ پاکستان اور اہلِ پاکستان کی خیر کرے۔ اسی ہفتے کی صبح فون دیکھا تو گلگت بلتستان سے صحافی یوسف علی ناگری کے پیغامات موصول ہوئے۔ ان کی آواز میں بے بسی اور کرب تھا ’’ہم لوگ تباہ ہوگئے ہیں۔ ہر طرف بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب ہے، بستیاں اجڑ چکی ہیں، لیکن ہمارا ذکر کہیں نہیں ہو رہا۔‘‘
نیٹ ورک کمزور تھا مگر کچھ دیر بعد رابطہ ہوا۔ یوسف نے بتایا کہ سکردو، استور اور پورا گلگت بلتستان بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں۔ وفاقی حکومت کی امداد کہاں گئی، کسی کو پتہ نہیں۔ مقامی حکومت غائب ہے۔ یوسف کے مطابق صرف پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نظر آئے جنہوں نے لوگوں کی جانیں بچائیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں، گلگت بلتستان اکثر نظرانداز ہو جاتا ہے۔ یوسف کو یقین تھا کہ اگر کوئی ان کی مدد کرے گا تو وہ پاک فوج ہی ہوگی۔
قدرتی آفات انسانی بساط سے باہر ہوتی ہیں۔ زلزلے، سیلاب، برفانی تودے اور طوفان صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہی نہیں کرتے بلکہ معاشرتی اور معاشی زندگی کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔ ایسے نازک لمحات میں جب ہر طرف مایوسی چھا جاتی ہے، پاک افواج عوام کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں فوج کا کردار صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں۔ قدرتی آفات کے دوران متاثرین کی مدد اور جانیں بچانا بھی ان کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ فوجی جوان سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچتے ہیں، ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پھنسے افراد کو نکالتے ہیں، خوراک اور ادویات پہنچاتے ہیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فوج نے ہمیشہ قدرتی آفات میں قربانیاں دیں۔ 2005 ء کے زلزلے میں آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔ فوجی جوان ملبے تلے دبے افراد کو نکالتے رہے، زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچایا اور بے گھر خاندانوں کے لئے پناہ گاہیں قائم کیں۔ 2010 ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران فوج نے خیمے لگائے، خوراک تقسیم کی، طبی سہولتیں فراہم کیں اور لاکھوں متاثرین کو سہارا دیا۔ اگست 2022 ء میں آنے والے سیلاب میں بھی پورا ملک متاثر ہوا، لاکھوں بے گھر ہوئے۔ ایسے وقت میں فوج دن رات متاثرین کی خدمت میں مصروف رہی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت میں بھی ہر اول دستے کا کردار ادا کرتی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ قدرتی آفات کا مقابلہ صرف فوج پر چھوڑ دینا مناسب نہیں۔ جس طرح فوج نے خود کو منظم اور مضبوط ادارہ ثابت کیا ہے، اسی طرح دیگر سول اداروں کو بھی فعال ہونا ہوگا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، پولیس، صحت اور بلدیاتی ادارے اگر فوج کے شانہ بشانہ منظم انداز میں کام کریں تو آفات کے نقصانات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ عوام کو صرف فوج ہی نہیں بلکہ ایک مثر سول نظام پر بھی اعتماد ہونا چاہیے۔
قدرتی آفات کی شدت ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ بارشیں معمول سے زیادہ ہو رہی ہیں، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جنگلات ختم ہو رہے ہیں اور آلودگی زمین کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ پاکستان کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں: نئے ڈیموں کی تعمیر، بڑے پیمانے پر شجرکاری، جنگلات کی بحالی اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو۔ یہ مسئلہ کسی ایک ملک کا نہیں۔ چین، بھارت، پاکستان اور پورے خطے کو مشترکہ بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے۔
قدرتی آفات کے وقت عوام کے لیے سب سے بڑا سہارا پاک افواج ہیں، لیکن مستقل حل کے لیے سول اداروں کی مضبوطی اور ماحولیاتی اقدامات بھی لازمی ہیں۔ اللہ تعالی پاکستان اور اہلِ پاکستان کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں