Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

جہاں قربانیاں بولتی ہیں وہی پاکستان ہے

(گزشتہ سےپیوستہ)
قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے فرمایا تھا: پاکستان اسی لیے بنایاگیاتھاکہ ہم اپنی قسمت کے خود مالک ہوں،آزادفضاؤں میں سانس لیں اور اسلام کے اصولوں کواپنی زندگی کامنشور بنائیں ۔ حالیہ دنوں میں پاک بھارت معرکے میں جس فتحِ مبین کودنیانے اپنی آنکھوں سے دیکھا،وہ اس قوم کے ایمان کی طاقت تھی۔ہماری افواجِ پاکستان نے ثابت کیاکہ ہم نہ صرف اپنی سرزمین کے محافظ ہیں بلکہ اپنے نظریے کے بھی پاسبان ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھاجب دشمن کویقین ہوگیاکہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔
مگریادرکھیں یہ صرف عسکری میدان ہی نہیں جس میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ہماری معیشت بھی اب ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ افراطِ زرکم ہوا،ترسیلات زربڑھی، اور اڑان پاکستان جیسے منصوبے ہماری منزلِ ترقی کی نوید بن رہے ہیں۔ یہ اعداد وشمارہمیں بتاتے ہیں کہ پاکستان صرف ایک خواب نہیں رہایہ حقیقت ہے،اوریہ حقیقت روزبروز مضبوط ہورہی ہے۔
اگرپاکستان نہ بنتا،توآج مسلمانوں کاحال غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی قوم کاہوتا۔نہ عزت ہوتی،نہ خودداری۔عالمِ اسلام مزید ذلت کے اندھیروں میں بھٹک رہاہوتا۔ اگر پاکستان وجود میں نہ آتاتوبرصغیرکے مسلمان آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوتے۔ہندواکثریت کے غلبے میں نہ ان کی مذہبی آزادی باقی رہتی اورنہ ہی سیاسی خودمختاری۔ مسلمانوں کے رسم ورواج، ثقافت اور زبان دباؤکا شکارہوتے،اوررفتہ رفتہ ان کی شناخت مٹ جاتی۔یہی وجہ ہے کہ تحریکِ پاکستان محض سیاسی جدوجہدنہیں تھی،بلکہ مسلمانوں کی بقااوران کے مستقبل کاسوال تھی۔
پاکستان نے ہمیں وہ آزادی دی جس کے بغیرانسان کی عزت اوروقارقائم نہیں رہتا۔آج ہم آزادفضامیں اپنے دین پرعمل کرسکتے ہیں،اپنی اقدارکے مطابق زندگی گزارسکتے ہیں اوراپنی قومی شناخت کودنیامیں اجاگرکرسکتے ہیں۔اگریہ ملک نہ بنتاتوہم بھی دوسری اقوام کے پیچھے چلنے والی ایک محکوم قوم ہوتے،جن کے پاس نہ عزت باقی رہتی اورنہ ہی خودداری ۔عالمِ اسلام کیلئے بھی پاکستان ایک امیدہے۔ایٹمی قوت ہونے کے ناطے پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتاہے بلکہ امتِ مسلمہ کے وقارکی علامت ہے۔یہ وہ ملک ہے جس نے دنیاکودکھایاکہ مسلمان اگر متحد ہوجائیں تواپنے دشمنوں کومنہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔پاکستان کے وجودنے دنیابھرکے مسلمانوں کے دلوں کوایک نیاحوصلہ دیااور انہیں یہ یقین دلایاکہ اسلام آج بھی ایک زندہ اورمکمل ضابطہ حیات ہے۔
لہٰذاہمیں یہ سمجھناچاہیے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔اس کی حفاظت، ترقی اوراستحکام ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اگرہم نے اس ملک کی قدرکی اوراپنی آنے والی نسلوں کوبھی اس کی اہمیت سے آگاہ کیاتوپاکستان ہمیشہ سربلنداورکامیاب رہے گا۔یہ صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ہماری عزت،ہماری پہچان اور ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔یہ پاکستان ہے جس نے ہمیں وقاردیا،یہ پاکستان ہے جس نے ہمیں عزت دی،اوریہ پاکستان ہی ہے جوہماری آنے والی نسلوں کی امیدہے۔یادرکھواقبال کاوہ پیغام:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
یادرکھیے کہ یہ سب قربانیوں کی بدولت ہے۔لاکھوں شہداکے خون اوربے شمارماں،بہنوں کی عصمت وآنسوکے طفیل ہے۔ان کی داستانوں کے بغیرپاکستان کی تاریخ ادھوری ہے۔ آج میں پوری قوم کودعوت دیتاہوں کہ اس یومِ آزادی پرہم سب مل کرعہدکریں کہ:
ہم اپنی ان قربانیوں کوکبھی فراموش نہیں کریں گے۔ہم پاکستان کی حفاظت،ترقی اور استحکام کیلئے ایک جسم اورایک جان بن کر کھڑے ہوں گے۔ہم اسلام کے اصولوں، قائداعظم کے فرمان اورعلامہ اقبال کے خواب کواپنی عملی زندگی کامحوربنائیں گے۔
قرآن مجیدکا فرمان ہے: اگرتم اللہ کی مدد کرو گے تواللہ تمہاری مددکرے گااورتمہارے قدم جمادے گا)محمد:7)
اورسنوحفیظ جالندھری کاوہ ترانہ جوآج بھی ہمارے لہو میں بجلیاں دوڑا دیتا ہے۔
پاک سرزمین شادباد ۔۔۔۔۔۔۔کشورِحسین شادباد
آج جب ہم اپنے گرد و پیش نگاہ دوڑاتے ہیں تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی اصل قوت اس کانظریہ ہے۔ اگرہم اس چراغ کوبجھنے نہ دیں،توہماری منزلیں اوربھی تابناک ہوجائیں گی۔یہ سرزمین ان قربانیوں کاثمرہے جن کے لہونے اس کے ذروں کومقدس بنا دیا۔ پاکستان ایک امانت ہے،ایک وعدہ ہے، ایک پیغام ہے ایمان، اتحاد اورقربانی کاپیغام۔آئیے ہم یہ بھی عہد کریں کہ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کاپاس رکھتے ہوئے اس وطن کونہ صرف سنواریں گے بلکہ دنیامیں اس کے پرچم کوبلندتر کرتے رہیں گے ۔ یہی نظریہ پاکستان کی حقیقی روح ہے اوریہی ہمارے مستقبل کی ضمانت۔
پاکستان محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ایمان،ایک یقین اورایک وعدہ ہے ،وہ وعدہ جوہم نے اللہ اوراپنے بزرگوں سے کیاتھا کہ اس سرزمین کواسلام کاقلعہ بنائیں گے۔ہم اس نظریے کواپنی رگوں میں خون کی طرح زندہ رکھیں گے اورپاکستان کوہمیشہ سر بلندرکھیں گے۔آج وقت ہم سے سوال کرتاہے: کیا ہم نے اس نظریے کو زندہ رکھا ہے؟ کیا ہم نے ان شہیدوں کے لہو کا حق ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے خواب کو حقیقت بنایا؟ یاد رکھیے!پاکستان محض جغرافیہ نہیں، یہ ایک وعدہ ہے اللہ سے کیا ہوا وعدہ، اپنے اسلاف سے کیا ہوا عہد۔ اگر ہم اس نظریے کو اپنی زندگیوں کا نصب العین بنا لیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی۔
آئیے،آج ہم سب مل کراس عزم کودہرائیں کہ ہم اپنے وطن کونہ صرف سنبھالیں گے بلکہ اسے ترقی،خوشحالی اورعظمت کی نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ یہی نظریہ پاکستان کی اصل روح ہے اوریہی ہماری آنے والی نسلوں کیلئے سب سے قیمتی ورثہ ہے۔یادرکھیں کہ پاکستان ہماری پہچان،ہماری غیرت،ہمارا ایمان ہے اورہم اس کے وقار کواپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز رکھیں گے۔آج کے دن میں ہرشہید کی ماں کے آنسوؤں کویادکرتا ہوں، ہریتیم کے سہمے ہوئے خوابوں کویادکرتاہوں، اورہربہن کے قربان کیے گئے ہنستے بھائی کویاد کرتاہوں۔ان سب کی قربانیوں کاتقاضاہے کہ ہم پاکستان کی حفاظت صرف الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے عمل سے کریں۔
پاکستان صرف ایک زمین نہیں‘یہ ایمان کا پرچم ہے،قربانیوں کی داستان ہے، اور ہر مسلمان کی دعاؤں کامرکزہے۔آج جب آپ اپنے ہاتھ سینے پررکھتے ہیں،تو دل سے مان لیجئے کہ یہ تیراپاکستان،اوریہ تیرافرض ہے کہ اس کی قدر،اس کی خدمت کرو،اوراسے لہواورآنسوسے سچی وفااورعشق کے دیپوں سے روشن رکھو۔

یہ بھی پڑھیں