بین الاقوامی سیاست کے افق پربعض اوقات ایسے بادل چھاجاتے ہیں جن سے دھوپ بھی چھن جاتی ہے اوربارش بھی برسنے لگتی ہے۔ایک طرف امریکاہے جوپابندیوں کے کوڑے سے اپنے مخالفین کوراہِ راست پرلانے کاخوگرہے،دوسری طرف بھارت ہے جواپنی معاشی پیاس بجھانے کے لئے روسی چشمہ تیل سے سیراب ہورہاہے،اور تیسری طرف روس ہے جوخاموشی سے اس کھیل کافائدہ اٹھارہا ہے۔سوال یہ ہے کیایہ محض تیل وتجارت کی داستان ہے یااصل میں انا اور اقتدار کامعرکہ ہے؟تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھو، جب کسی قوم پرپابندیوں کے طوق ڈالے گئے تووہ یاتوغلامی کی زنجیروں میں جکڑگئی یاپھرنئی راہوں کے درکھلے۔
بین الاقوامی سیاست میں پابندی محض ایک معاشی ہتھکنڈہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ایساکوڑاہے جس سے طاقتورممالک اپنے مخالفوں کو سیدھی راہ پرچلانے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکا نے بھارت پرپابندیاں لگا کر گویاایک پیغام دیاہے کہ نئی دہلی اپنی تیل کی پالیسی میں آزادنہیں مگرتاریخ شاہدہے کہ جب بھی کسی قوم کودبایاگیاتواس نے کسی دوسرے دروازے پر دستک دی۔آج بھارت کی نگاہیں چین کی طرف ہیں، گویا دشمنِ دیرینہ اب وقتی سہارابننے جارہا ہے۔ یہاں روسی صدرولادیمیر پیوٹن کاکردارسب سے زیادہ معنی خیز ہے۔ کیاوہ مودی کی مشکل گھڑی کواپنے مفادکی سیڑھی بناسکتے ہیں؟سیاسی شطرنج میں اکثرایساہواہے کہ ایک کی کمزوری دوسرے کاموقع بنی ہے۔
تاہم آج سے کچھ ماہ پہلے کسی نے بھی اس منظرنامے کے بارے یہ سوچاتک نہ تھاکہ واشنگٹن کی سیاست نئی دہلی کے کوڑے بردار درپراس حال کوپہنچے گی۔ پابندیوں کی بجلی بھارت کی زمین کوجلانے اس شدت سے پہنچے گی اوربھارت اس کے جواب میں بیجنگ اورماسکوکے گھنے جنگلات کے سایہ کے لئے فریادکناں ہوجائے گا۔آج امریکانے بھارت پرقہر برسایا ہے، لیکن یہ قہرشائدبیجنگ اور ماسکوکے دروازے پرایک نئی دستک بن جائے۔دشمنِ دیرینہ کبھی وقت کے مصلحتوں میں دوست بن جاتاہے اورروس وہ توصدیوں سے اپنی مصلحتوں کامحافظ رہاہے، کیا عجب کہ وہ دہلی کی کمزوری کواپنی قوت کاپل بنالے۔
تاریخ کاپہیہ ایک بارپھروہی منظردکھارہاہے جوعہدقدیم میں سلطنتوں کے زوال کے وقت دکھایا کرتا تھا۔جب ایک طاقت اپنے کوڑوں اورپابندیوں سے دوسروں کوغلام بنانے پرتل جاتی ہے تودوسری طاقتیں ان غلامی کی زنجیروں کوتوڑنے کے لئے دستک دیتی ہیں۔آج امریکانے بھارت پرپابندیوں کاطوق ڈالا ہے، لیکن یہ طوق شایددہلی کوبیجنگ کے آستانے کی طرف دھکیل دے۔ اور پیوٹن وہ مردِآہن خاموشی سے اس موقع کواپنے فائدے کی سیڑھی بنارہاہے۔
یہ تاریخ کاوہی کھیل ہے جہاں دشمن کل کے، آج وقتی سہارابن جاتے ہیں۔اورسوال اب یہ ہے کیاپیوٹن اس فرصت کواپنی شطرنج کی اگلی چال کے لئے استعمال کریں گے؟کیاوہ مودی کی کمزوری کواپنی طاقت کا زینہ نہیں بنالیں گے؟یقینا امریکانے بھارت پرٹیرف میں اضافہ اورتجارتی معاہدوں کومنسوخ کی شکل میں پابندیوں کی بجلی گرائی ہے۔مگربھارت اس بجلی کے جھٹکے سے بچنے کے لئے اپنے مردہ تن میں بیجنگ اورماسکو سے معاشی حیات کاطلب گاربن کراپنی کوششوں میں مصروف ہے اورپیوٹن؟وہ موقع کی تاک میں ہے،وہ دہلی کی کمزوری کواپنی طاقت بناناچاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کیابھارت دوسروں کی بساط کامہرہ بنے گایااپنی تقدیر کا علمبردار؟
ٹرمپ کا50 فیصدٹیرف محض اعدادوشمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک ایساسیاسی ہتھیارہے جوبھارت کی ریڑھ کی ہڈی پررکھاگیاہے۔اس میں روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے اضافی 25فیصدٹیرف بھی شامل ہے۔اس فیصلے کامطلب یہ ہے کہ بھارت کی برآمدی مصنوعات امریکی منڈی میں اپنی کشش کھوبیٹھیں گی۔سوال یہ ہے کہ کیانئی دہلی اس دباؤکے آگے جھک جائے گایااپنی معیشت کے لئے نئے راستے نکالے گا؟ گویا دونوں اطراف مفادات کے اژدھے ایک دوسرے کونگلنے کے لئے تاک میں ہیں۔
ٹرمپ نے جب سے بھارت پرٹیرف کا کوڑا برسایاہے توگویادہلی کے بازاروں میں کہرام مچ گیا ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیاکہ بھارت پر سخت اقتصادی قدغنیں عائدکی جائیں گی۔یہ فیصلہ کسی معمولی اختلاف کاشاخسانہ نہیں بلکہ اس عالمی بساط پرایک نیامہرہ ہے۔ بظاہر یہ ایک سخت ضرب ہے،لیکن تاریخ کی گواہی ہے کہ بعض اوقات زخم بگڑجائے توزندگی بچانے کے لئے جسدسے علیحدگی ضروری ہوجاتی ہے،توکیااس کے لئے مودی کوسیاست کے منظرنامے سے غائب ہونا پڑے گالیکن یہ بات توطے ہے کہ بھارت کے لئے یہ فیصلہ زحمت بن گیاہے کہ اس کی معیشت پرفوری دباؤ بڑھے گا،برآمدات مہنگی ہوجائیں گی،اور درآمدی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کی مسابقت گھٹ جائے گی۔لیکن بھارت اس صورتحال کامقابلہ کرنے کے لئے چین کے ساتھ جاری کشیدگی میں نرمی کاخواستگاردکھائی دے رہاہے اوربھارت کوروس کی طرف زیادہ جھکاؤ کا جواز ملے گااورچین کے ساتھ جاری کشیدگی میں بھی نرمی پیدا ہوگی۔گویاہرضرب ایک نئے اتحادکی راہ ہموارکر رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انڈیا اس کی کیاقیمت اداکرے گا؟
اگربھارت خطے میں سیاست کے اس یوٹرن میں کامیاب ہوجاتاہے اورامریکی گھاکوشفامیں تبدیل کرنے کی کوشش کرلیتاہے توسختی کے کوڑے میں نصرت کی جھلک حاصل کرسکتا ہے۔آج ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف کابوجھ رکھاہے ۔ بظاہریہ دہلی کے لئے زحمت ہے،لیکن اگریہ زحمت اسے اپنی سمتِ نظربدلنے پرمجبور کر دے ،روس کے ساتھ رشتہ گہراکردے اورچین کے ساتھ کشیدگی کم کردے تویہی زحمت رحمت میں بدل سکتی ہے۔
وائٹ ہاس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اعلان کیاکہ بھارت پریہ پابندیاں دراصل روس‘ یوکرین جنگ کے پس منظرمیں لگائی گئی ہیں۔ یوں امریکانے گویاایک تیرسے دوشکار کرنے کی کوشش کی ہے، روس پردبااور بھارت کوسبق۔لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیاواقعی بھارت روسی جارحیت کاخاموش شراکت دارہے یایہ محض مغربی سیاست کی ایک نئی علامت ہے؟
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے الزام لگایاکہ بھارت روسی تیل خریدکرمنافع کمارہاہے۔ دلچسپ امریہ ہے کہ چین کے بارے میں انہوں نے یہی زبان استعمال نہیں کی بلکہ یہ کہا کہ ان کے تیل کے ان پٹس متنوع ہیں۔یہ دوہرامعیار بتاتا ہے کہ اصل ہدف بھارت ہے۔کیا یہ الزام محض معاشی ہے یاسیاسی بھی؟ حقیقت یہ ہے کہ تیل اب صرف توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کی شہ رگ ہے۔جس کے ہاتھ میں تیل کی نلکی ہے وہی طاقت کی کنجی رکھتاہے۔کیاحالیہ بھارت کے خلاف امریکی اقدامات روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں اٹھائے گئے ہیں؟کیایہ صرف جنگ کی تپش ہے یامودی اورٹرمپ کی اناؤں کاتصادم؟
واشنگٹن نے اعلان کیاکہ بھارت کوسزاروس‘ یوکرین جنگ کی وجہ سے ملی۔لیکن کیایہ جنگ صرف یوکرین کے کھیتوں میں لڑی جا رہی ہے؟نہیں یہ جنگ دلوں کی جنگ ہے،عزتِ نفس کی ہے،اناؤں کی جنگ ہے،اورعالمی طاقتوں کے بین السطورفیصلوں کی جنگ ہے۔یہ وہی جنگ ہے جس کی گونج قرآن کے الفاظ میں بیان کی کہ اصل طاقت وہی ہے جو باطل کے سامنے سخت ہواوراپنے اندراتحادقائم کرے۔بھارت کے پاس یہ قوت نہیں،اسی لیے وہ دوسروں کے فیصلوں کااسیرہے۔ روسی تیل کی خریداری اوراس کی دوبارہ فروخت کاالزام امریکی وزیرخزانہ نے بھارتی حکومت پرلگایا،جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ بھارت منڈی کے منافع کی ہوس میں روسی توپوں کوبارودفراہم کررہاہے۔اس کے جواب میں بھارتی سفارتکاری خاموش ہے،لیکن یہ خاموشی کسی رضامندی کی نہیں بلکہ شطرنج کی چال ہے۔
(جاری ہے)