(گزشتہ سےپیوستہ)
اس کے ساتھ ہی50 فیصد ٹیرف کااعلان ہواگویاایک تازیانہ جودہلی کی معیشت پربرسایاگیا۔البتہ سوال یہ بھی اٹھتاہے کہ اگرٹرمپ واقعی روسی جارحیت کے خاتمے کے خواہاں تھے توالاسکامیں پیوٹن سے ملاقات کے بعدنرم لہجہ کیوں اختیارنہ کیا؟شایداس لیے کہ اصل تنازعہ تیل نہیں بلکہ کریڈٹ کاہے۔مودی کے لئے یہ ممکن نہ تھاکہ وہ اپنے عوام کویہ باورکرائیں کہ جنگ بندی کا سہرا ٹرمپ کے سربندھتاہے۔یوں معاملہ دونوں رہنماؤں کی اناکے درمیان آکھڑاہوا۔
امریکی وزیرِخزانہ نے بھارت پرانگلی اٹھائی کہ تم روسی تیل کے سوداگرہولیکن وہی مودی جوسینہ پھلاکرٹرمپ کو ’’مائی فرینڈ‘‘کہہ کرمخاطب ہوتے تھے،آج گودی میڈیایہ الزام لگا رہا ہے کہ جب چین کی باری آئی تونرم لہجہ اختیارکیا۔یہی ہے مغرب کی سیاست کا اصل چہرہ جسے چاہاملامت کاہدف بنایا،جسے چاہاچشم پوشی سے نوازا۔یہ محض تیل کاسوال نہیں،یہ انصاف کے پیمانوں کی جانچ ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیاگودی میڈیاماضی کے آئینے میں اپناداغدارچہرہ دیکھے تویہی کام بھارت نے سوویت یونین ٹوٹنے پراپنے پرانے حلیف سے کیاتھاتواب اس پرآنسوبہانابے سودہے۔ بھارت پرتیل کاالزام لگاکوڑے برسائے گئے۔ چین پریہی الزام لگاخاموشی اختیارکی گئی۔بھارت یہ الزام بھی لگارہا ہے کہ یہ انصاف نہیں،یہ طاقت کاکھیل ہے۔یہی ہے مغرب کی سیاست ایک طرف کوڑا، دوسری طرف مکمل دبیزپردہ!
پیٹرناوارونے بھارت پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ امریکی گاہک بھارتی سامان خریدتے ہیں اوربھارت انہی ڈالرزسے روسی تیل خریدکر اسے دنیابھرمیں فروخت کرتاہے۔ گویا بھارت کو روسی جارحیت کابالواسطہ سہولت کارقراردیاگیا۔یہ زبان ظاہرکرتی ہے کہ امریکابھارت کومحض ایک تجارتی حریف نہیں بلکہ ایک اخلاقی طورپردھوکہ دہی اورگناہگار کردار کے طورپرسمجھتاہے۔ پیٹرناوارو نے گویادہلی پرفتوے کی ضرب لگائی ہے کہ بھارت امریکی ڈالرزسے روسی توپوں کوبارود فراہم کررہاہے یہ الزام نہیں،یہ اخلاقی تختہ مشق اورمکافاتِ عمل ہے کہ جس پردہلی کوباندھ کرکوڑے برسائے جارہے ہیں۔ گویا بھارت کومجرم ٹھہراکردنیاکے سامنے ننگا کیاجارہاہے۔
دوسری طرف تھنک ٹینک اننتاسینٹرنے بجا کہا ہے کہ مغرب کے نزدیک بھارت محض ایک’’پنچنگ بیگ‘‘ ہے۔روس اپنی حکمتِ عملی میں بھارتی زخموں کی پروانہیں کرے گا،کیونکہ وہ جانتاہے کہ بھارت اور امریکا کا جھگڑاعارضی ہے،مستقل نہیں چنانچہ ماسکو کے لئے دہلی ایک ایساشراکت دارہے جسے کبھی اپنے مفاد کے لئے تھام لیناہے اورکبھی چھوڑدیناہے جیسابھارت نے اس سے کیاتھا۔
الاسکامیں ٹرمپ اورپیوٹن کی ملاقات کے بعدیہ تاثرابھراتھاکہ شایدبھارت پرسے اضافی ٹیرف ہٹالیاجائے گالیکن ہوااس کے برعکس۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں وعدے اورامیدیں اکثرریت کی دیوارکی طرح گرجاتی ہیں۔بھارت کی امیدیں اگرچہ برحق تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل میں اصل فیصلہ واشنگٹن اورماسکوکے تعلقات پر ہوتا ہے، دہلی محض ایک مہرہ ہے۔
تاہم یہ مکافاتِ عمل ہے،ایک ایساوقت جب بھارت کی مصنوعات امریکی منڈی میں بوجھل ہوجائیں گی،قیمتیں بڑھیں گی،خریدارگھٹیں گے۔یہ50 فیصد ٹیرف محض عددنہیں،یہ دہلی کی معیشت کی کمر پر رکھا ہوا پتھر ہے۔اب دیکھنایہ ہے کہ مودی اس بوجھ کوسہہ لیں گے یا نئی راہیں نکالیں گے۔اس وقت ہندوستان کی تمام اپوزیشن جماعتیں سرجوڑکریہ سوچ رہی ہیں کہ اگرمودی مزیدحکومت میں رہتے ہیں تواگریہ معاشی بوجھ جوکل کلاں سیاسی منافرت میں بدل گیاتویہ بوجھ غلامی کے دروازے تک لے جائے تویہ اس کے لئے تباہی کانشان ہوگا۔
یادکریں وہ لمحہ جب الاسکاکی سردفضائوںمیں ٹرمپ اورپوٹن نے مصافحہ کیاتومودی کے دل میں ایک نئی امیدپھوٹ رہی تھی،کہ شائد نئی امیدکاچراغ روشن ہولیکن امیدکے چراغ بجھ گئے،آس اوربھارتی آرزؤں کادیپ ٹمٹماکرختم ہوگیا۔وعدے ریت کے گھروندے تھے۔ ایک لہرآئی،سب بہالے گئی۔یہ سبق ہے کہ عالمی سیاست کے وعدے ریت کے گھروندے ہیں،ایک لہر آتی ہے اورسب بہالے جاتی ہے۔ یہ سبق ہے کہ قومیں اگردوسروں کے وعدوں پراپنی تقدیرکاانحصارکریں توان کاانجام ہمیشہ مایوسی ہوتاہے۔بقول قرآن : اورجولوگ ظالم ہیں،ان کی طرف مائل نہ ہونا،نہیں توتمہیں(دوزخ کی) آگ آلپٹے گی۔یادرکھو طاقتوروں کے وعدوں پراعتمادکرنااپنے چراغ کو دوسروں کے ہاتھ دیناہے۔
اگربغوردیکھاجائے توامریکاکوروس یاچین سے اتنی رنجش،اتنی چبھن نہیں،جتنی بھارت سے ہے۔ چین سے اتناخوف نہیں،جتنابھارت سے غصہ ہے۔اس کی وجہ کیاہے؟سوال یہ ہے کہ کیوں؟اس کاجواب محض تیل نہیں بلکہ اس اعتمادکاٹوٹناہے جسے واشنگٹن دہلی پر قائم کئے ہوئے تھا۔بھارت ایک ایسااتحادی سمجھا جاتا تھا جو مغرب کے قریب رہے گالیکن روسی تیل کی خریداری نے گویااس رشتے میں دراڑڈال دی ہے۔جب اتحادی بے وفائی کرے توزخم زیادہ گہراہوتاہے۔یہ رنجش ایک ٹوٹے ہوئے اعتمادکاشاخسانہ ہے۔یہ وہی اعتماد کا شیشہ ہے جوٹوٹ گیاہے۔مغرب بھی سمجھتاتھاکہ بھارت ان کااتحادی ہے،مگردہلی نے روسی تیل کی خوشبوسونگھ لی اوربس،یارانہ اب بدگمانی میں بدل گیااوراتحادی کی بے وفائی کا زخم سب سے گہراہوتاہے۔یہ زخم اعتمادکے ٹوٹنے کازخم ہے۔اصل تصادم تیل کا نہیں،اناکاہے۔ٹرمپ چاہتے تھے کہ امن کاسہراان کے سربندھے،مودی نے انکارکیا۔اورجب دوتاجداروں کی عزتِ نفس ٹکراتی ہے تووہ زلزلہ پیداہوتاہے جسے تاریخ برسوں یادرکھتی ہے۔
یہ سوال اب زیادہ اہمیت اختیارکررہاہے کہ کیا ٹرمپ اورمودی کے درمیان جھگڑاصرف تیل کاہے یااناکا؟آئیے،اصل رازکھولیں،یہ جھگڑاتیل کانہیں،یہ تصادم اناؤں کاہے۔ ٹرمپ کویہ گوارانہ تھاکہ مودی نے جنگ بندی کاکریڈٹ انہیں نہیں دیا،ٹرمپ چاہتے تھے کہ جنگ بندی کاسہراان کے سرباندھاجائے کیونکہ مودی اورنیتن یاہوکی پکارپرہی ٹرمپ نے مداخلت کی تھی۔مودی یہ قبول نہیں کر سکتے تھے کیونکہ گودی میڈیانے اس جنگ میں مودی کوساتویں آسمان کی فتح پر بٹھا دیا تھا۔مودی کے لئے اپنے عوام کے سامنے یہ تسلیم کرنا ممکن نہیں تھاکہ امن کا سہراامریکا کوجاتاہے۔یوں معاملہ اناؤں کے تصادم میں بدل گیاہے اوریوں دوتاجداروں کی عزتِ نفس ٹکرا گئی۔اورجب عزتِ نفس ٹکراتی ہے، تب فیصلے توپوں اوربندوقوں سے زیادہ خطرناک ہوجاتے ہیں۔یہی ہے اصل تصادم۔ یہی ہے وہ آگ جس نے سیاست کوسلگادیاہے۔اورمودی کے قدموں کے نیچے سے اب بھارتی اقتدارکی زمین لرزہ براندام ہے۔
تاریخ کہتی ہے کہ قومیں اپنی عزتِ نفس پرقائم رہتی ہیں یاپھربکھرجاتی ہیں۔قوموں کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عزتِ نفس پرلڑی جانے والی جنگیں سب سے شدیدہوتی ہیں۔قوموں کے درمیان بڑے جھگڑے اکثر عزتِ نفس پرہوتے ہیں۔یہاں بھی دونوں رہنمااپنی اپنی سیاسی بقاء کے لئے ایک دوسرے کوجھکانے پرتلے ہیں۔ ٹرمپ کواپنی برتری دکھانی ہے ، ٹرمپ دبیں توامریکا کی برتری کودھچکالگے گا۔ مودی کواپنی چانکیہ سیاست بچانی ہے،مودی جھکیں توعوامی غیرت ٹوٹے۔یہ معرکہ اب محض اعدادوشمارکانہیں رہا۔ یہ دلوں کی ضد اور اناکی کشمکش ہے۔یہ معرکہ کسی تجارتی معاہدے سے زیادہ نفسیاتی اورسیاسی ہے۔یہ وہ کھیل ہے جہاں دونوں کے لئے پسپائی زہرِ قاتل ہے۔دراصل یہ وہ مقام ہے جہاں ’’لاغالب لا اللہ ‘‘کاسبق ہی اصل حل ہے ،طاقتیں ٹوٹتی ہیں،مگرعزت اوروقاراللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔
(جاری ہے)