Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کا قلعہ

قوموں کی زندگی میں کچھ دن محض تقویمی تاریخ نہیں ہوتے بلکہ ان کے وجودکی اساس اوران کے شعورکی جڑیں بن جاتے ہیں بلکہ قوم کی روح میں ابدی چراغ کی طرح روشن ہو جاتے ہیں۔پاکستان کا قیام 1947ء میں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھابلکہ یہ ایک روحانی اورتہذیبی انقلاب تھا۔ برصغیرکی تقسیم کے نتیجے میں کلمے کی بنیادپرقائم ہونے والی اس معجزاتی ریاست نہ صرف جغرافیے کی لکیروں کوبدلابلکہ دلوں کے دھڑکنے کااندازبھی بدل دیا۔یہ ریاست’’لاالہ الااللہ‘‘کے پرچم تلے وجودمیں آئی اوراسی کلمے نے اس کی بنیادوں کووہ استحکام بخشاجودنیاکی کسی اورتحریک کے نصیب میں نہ آیا۔
’’لاالہ الااللہ‘‘کی بنیادپروجودمیں آنے والی یہ ریاست اس عہدکی علامت تھی کہ مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب،دینی تشخص اور نظریاتی اساس کے بغیردنیامیں زندہ نہیں رہ سکتے۔ پاکستان کاقیام1947ء میں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھابلکہ یہ ایک روحانی اورتہذیبی انقلاب تھا۔یہ ریاست’’لاالہ الااللہ‘‘کے پرچم تلے وجودمیں آئی اوراسی کلمے نے اس کی بنیادوں کووہ استحکام بخشاجودنیا کی کسی اورتحریک کے نصیب میں نہ آیا۔
لیکن جس دن یہ مملکت خدادادمعرض وجود میں آئی،اسی دن سے اس کے دشمنوں نے اس کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کردیے۔ بھارت کے ہندوزعمانے اس حقیقت کوکبھی تسلیم نہ کیا۔ان کے نزدیک تقسیم ہندایک عارضی واقعہ تھااورپاکستان ایک’’حادثہ‘‘جسے جلدیابدیرمٹادینا ہے۔بھارت،جس کے سینے پرپاکستان کاوجود ایک ناسورکی طرح تھا،نے ہرموڑپرپاکستان کو مٹانے کی کوشش کی۔کبھی براہِ راست جنگ کے ذریعے،کبھی پراکسیزاوردہشتگردی کے ذریعے، اورکبھی فطرت کے وسائل کو ہتھیاربناکر۔کانگریس کے بڑے رہنما بارہا کہتے رہے کہ’’پاکستان تاریخ کی ایک غلطی ہے‘‘۔اسی سوچ سے آگے چل کر’’اکھنڈبھارت‘‘کاخواب پروان چڑھا۔اس خواب کی وحشت یہ ہے کہ وہ صرف پاکستان ہی کونہیں بلکہ نیپال،بھوٹان،سری لنکا، بنگلہ دیش اور یہاں تک کہ بحرہندکے پانی سے جڑے ہرملک کو ’’اکھنڈبھارت‘‘کاحصہ قراردیتے ہیں۔گویا خطے کے تمام ممالک کو اپنی توسیع پسندانہ ہوس کی بھینٹ چڑھانے کاارادہ رکھتے ہیں۔
قرآن نے ایسے ہی فتنہ پرورگروہوں کے بارے میں فرمایا:وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے تاکہ اگروہ طاقت پاجائیں توتمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ (البقرہ:217)
پاکستان کے خلاف بھارت کی سازشیں اسی آیت کی عملی تصویرہیں لیکن تاریخ کافیصلہ ہے کہ جب قومیں اپنے ایمان پرقائم رہیں، توکوئی باطل قوت انہیں مغلوب نہیں کرسکتی۔یہ داستان محض جنگوں کی روداد نہیں بلکہ ایمان اورکفر،ظلم اورعدل، طاقت اورعقیدے کی کشمکش کی کہانی ہے۔یہ وہ تاریخ ہے جس میں بدروحنین کی صدائیں سنائی دیتی ہیں،جس میں کربلاکااستقامت بھراسبق جھلکتا ہے،اورجس میں اقبال کی دعااورقائداعظم کا عزم گونجتاہے۔اس رودادمیں پاکستان باربارلہومیں نہایا،لیکن ہربارایک نئے حوصلے کے ساتھ ابھرا۔
6ستمبر1965ء کی رات تاریخ کے اوراق پروہ سیاہ لمحہ ہے جب برصغیرکی سرزمین پرظلم کی سیاہ آندھی نے پاکستان کے ننھے چراغ کوبجھانے کا خواب دیکھا۔ جب بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پربزدلانہ یلغارکی،دراصل کفراور ایمان کاایک اورمعرکہ تھا۔بھارت،جواپنے حجم، وسائل اورعسکری طاقت میں چھ گنابڑاتھا، لاہورکی سرحدوں پرجب دشمن نے اپنی زبردست فوجی طاقت سے قدم بڑھایاتواس کایہ گھمنڈ، تکبراورگمان تھاکہ اگلے چندگھنٹوں میں لاہور جمناپار کے جھنڈوں کے نیچے ہوگا۔لاہورکونشانہ بناتے ہوئے یہ سوچاکہ صبح کاسورج طلوع ہونے سے پہلے وہ اس شہرکوروندڈالے گا۔اس کے خیال میں شایدیہ مٹی کا گھرہے جو ایک آندھی کے جھونکے سے بکھر جائے گالیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ یہ سرزمین بدرواحد کے وارثین کی ہے۔پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کوڈھال بنایا بلکہ پاک فوج کے جوان ٹینکوں کے سامنے اس طرح ڈٹ گئے جیسے حضرت خالدؓ بن ولید یرموک کے معرکے میں روم کی فوجوں کے سامنے ڈٹے تھے۔
لیکن وہ دن کی روشنی تک نہ جان پایاکہ یہ شہرمحض اینٹ اورپتھرکامجموعہ نہیں،یہ عاشقانِ رسولﷺکے قلوب کاحصارہے،یہ مومن کے ایمان کی قلعہ بندی ہے۔جہاں کے کوچہ و بازاراقبال کی صداں اورمجاہدین کے خوابوں سے معمورہیں۔ یہاں کے جوانوں نے ٹینکوں کے سامنے سینے بچھادیے،یہاں کے سپاہیوں نے’’اللہ اکبر‘‘کی صداؤں سے دشمن کے دل دہلادیے۔یہی وہ دن تھاجب اقبال کاخواب اورقائدکاپیغام حقیقت کے لہومیں نہایااورنئی زندگی کااعلان ہوا۔
ہندوبنیایہ بھول گیاکہ لاہورمحض سرسبزباغات کامجموعہ نہیں بلکہ یہ ان مخلص عاشقوں کاشہرہے جووطن پرجان نچھاورکرنا ایک اعزازسمجھتے ہیں۔ پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں کوڈھال بنایابلکہ اس جنگ میں عوام نے بھی حیرت انگیزکرداراداکیا۔اس وقت پاکستان کے گلی کوچے’’اللہ اکبر‘‘کی صداؤں سے گونج اٹھے۔ گھروں کی عورتوں نے اپنے زیوربیچ کرمحاذ کے لئے چندہ دیا،بچے فوجیوں کوپانی اور کھانے پہنچاتے رہے اور پوری قوم’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے میں ایک آوازہوگئی اوراس بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پوری قوم ایک صف میں کھڑی تھی۔مکاربرہمن نہیں جانتاتھاکہ یہ سرزمین ایک نظریے پرقائم ،ایک کلمے کی بنیادپر استوارہے، اوراس کے سپوت وہی ہیں جن کی رگوں میں بدروحنین کے شہسواروں کا خون گردش کرتاہے۔
وہ سترہ دن کی جنگ،جس میں دشمن نے باربار یلغارکی،پاکستان کے جوانوں نے بڑھ چڑھ کر ہروارکوسینے پرروکا۔دشمن کی شکست ایسی تھی کہ آج تک اس کی پیٹھ اورمنہ پرزخم ہرا ہے۔سترہ دن کی جنگ کے بعددنیانیپاکستان کاپرچم پہلے سے زیادہ سر بلند دیکھااوردشمن کے عزائم خاک میں مل گئے۔اس دن بھارت کویہ سمجھ آگئی کہ پاکستان محض جغرافیہ نہیں، یہ ایمان کاقلعہ ہے۔ لیکن زخم خوردہ کمینہ ومکاربرہمن دشمن آج تک اس شکست فاش کوفراموش نہ کرسکااورہرنئے مکروہ حربے کے ساتھ پاکستان کے وجودکومٹانے کے درپے رہا۔
اس شکست نے بھارت کے منہ پرایسی کالک ملی اوردل پرایسازخم لگایا کہ وہ آج تک نہ توچہرے کی سیاہی دورہوئی اورنہ ہی زخم بھرسکالیکن اسی کے ساتھ دشمن کے اندرایک انتقام کی آگ دہکنے لگی،جوآج تک بجھی نہیں۔یہ وہی جذبہ تھاجس کاذکرقرآن نے کیا:اگرتم اللہ کی مددکروگے تواللہ تمہاری مددکرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔(محمد:7)
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں