Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

لا ِلہ ِلا اللہ کا قلعہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
سترہ دن کی اس جنگ کے بعددشمن پسپاہوا۔ اس کے دل پروہ زخم لگاجوآج تک رس رہاہے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ فیصلہ کرلیاکہ براہِ راست جنگ سے ہٹ کرسازشوں کے نئے دروازے کھولے جائیں گے۔
وقت گزرا،لیکن دشمن کی سازشیں نہ رکیں۔ اس نے جان لیاکہ میدانِ جنگ میں پاکستانی شیراس کوروندڈالیں گے،جب براہِ راست میدان میں بھارت کوناکامی ہوئی،تواس نے اندرونی انتشارکو ہتھیار بنایا۔ جب میدانِ جنگ میں اس کی ایک نہ چلی،تو اس نے مکار بزدلوں کی طرح پاکستان کواندرسے توڑنے کی کوشش کی۔لہذااس نے نئے محاذکھولے۔ دہشت گردی کے اندھیروں کو پاکستان پر مسلط کردیا گیا۔بلو چستان، خیبرپختونخواہ اورملک کے دیگرگوشے خون آلودکردئیے گئے۔بلوچستان،خیبرپختونخواہ کوبالخصوص ہدف اورملک کے دیگرحصوں کوبالعموم دہشتگردی کانشانہ بنادیا۔وہاں دہشت گردی کی آگ بھڑکائی گئی۔ مساجد کو نشانہ بنایاگیا، مدارس کے طلبہ کوشہیدکیا گیا،اورمعصوم پاکستانیوں کے خون سے بازاروں کی گلیاں سرخ کردی گئیں۔یہ دہشت گردمحض بندوق بردارنہ تھے،یہ وہ بھارتی پراکسیزتھیں جنہیں پاکستانی قوم آج ’’فتنہ خوارج‘‘اور ’’فتنہ ہند‘‘کے نام سے پہچان چکی ہیں ۔ ان خوارج نے مسلمانوں کے ہی خون کوحلال سمجھا،مسجدوں میں معصوموں کوشہیدکیا،بازاروں میں خون کی ندیاں بہائیں اوردنیا نے دیکھاکہ یہ سب کس کے اشارے پرہورہاتھا ۔دشمن نے سوچاکہ اگربراہِ راست حملہ کامیاب نہیں ہوتا تو اندرونی انتشار پیداکیا جائے لیکن وہ یہ بھول گیاکہ جس قوم نے ہجرت کے بعدبھی بدرجیتی،احدکے زخم سہہ کربھی زندہ رہی،اورکربلاکے امتحان میں بھی صبرکاجھنڈا بلندرکھا،وہ قوم دہشت گردی کی اس آگ میں بھی اپنی شناخت کھونہ سکے گی۔
یہی وہ وقت تھاجب دنیانے دیکھاکہ’’فتنہ خوارج‘‘ایک بارپھرسراٹھارہاہے۔قرآن نے جس گروہ کو’’شرالدواب‘‘کہاتھا،وہی گروہ مسلمانوں کاخون بہانے میں پیش پیش تھا۔یہ دہشت گرداپنے آپ کواسلام کاداعی کہلاتے تھے،لیکن درحقیقت وہ دشمن کے ایجنڈے کے تحت کام کررہے تھے۔ یہ وہی خوارج تھے جن کے بارے میں حضورﷺنے فرمایا:
آخرزمانے میں ایک قوم نکلے گی جوقرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرشکارسے نکل جاتاہے(صحیح بخاری)۔
یہ دہشت گردانہی خوارج کی عملی شکل تھے۔وہ مسلمانوں کے خون کوحلال سمجھتے،اوردشمن کے اشاروں پرپاکستان کے خلاف جنگ چھیڑتے۔ لیکن پاکستان نے صبر،حوصلے اورقربانی کے ساتھ اس فتنے کوبھی ناکام بنایا۔
بھارت کی پراکسیزنےپاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی،لیکن قوم نے ان اندھیروں میں بھی امیدکاچراغ جلائے رکھا۔فوج، عوام اورریاستی ادارے مل کراس فتنے کے مقابلے پرڈٹ گئے اورتاریخ نے پھر ایک بارگواہی دی کہ ایمان کی بنیادپرقائم قوم کو دہشت گردی کی دھول میں چھپایانہیں جاسکتا۔
مئی2025ء ایک اورمعرکہ بھی گواہی دے گااورتاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائے گا۔دشمن نے ایک بارپھرپاکستان کوکمزور کرنے کاخواب دیکھا۔ بھارت نے بڑے زورو شور سے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑکرکے پاکستان کوایک بارپھرکچلنے اورگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکرنے کامکمل منصوبہ بنایا۔اس نے جدیداسلحے اورٹیکنالوجی پربھروسہ کیالیکن یہ بھول گیاکہ اصل طاقت ایمان ہے،نہ کہ توپ اورٹینک لیکن قدرت کوکچھ اورہی منظورتھا اورنتائج اس کے گمان کےبرعکس نکلے۔
اسرائیل کےساتھ مل کراس نےپاکستان پر یلغارکی فاش غلطی توکرلی،اپنےجدیدترین اسلحے اور اسرائیلی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مربیوں کوبھی بڑے تکبرسے اطلاع دی کہ اگلے چندگھنٹوں میں پاکستان گھٹنوں اورمنہ کے بل گرکر معافی کا طلب گار ہو کر غلامی اختیارکرلےگالیکن جب پاک فوج کےجوان’’اللہ اکبر‘‘کے نعروں کے ساتھ میدان میں اترے تودشمن کے ٹینک اور طیارے سب خاک چاٹنے لگے۔اسرائیلی اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی ، اور پروپیگنڈے کے طوفان بھی پاکستانی جوان کے عزم کے آگے ریزہ ریزہ ہو گئے ۔ پاکستانی جوانوں نے اس معرکے میں جس جرات کامظاہرہ کیا،وہ ہمیں یرموک اورقادسیہ کی یاددلاتا ہے۔حضرت سعد ؓبن ابی وقاص کے وہ الفاظ زندہ ہوگئے کہ اللہ کے سپاہی جب اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تودنیاکی کوئی فوج ان کاراستہ نہیں روک سکتی۔تاریخ نے خودگواہی دی کہ جس سرزمین کے پشت پرایمان کی ڈھال ہو،اس پرباطل کاوارکبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
دنیانے حیرت کے ساتھ دیکھاکہ اسرائیلی حمایت کے باوجودبھارت کومنہ کی کھانی پڑی۔ بالآخر اس کی قیادت کوامریکی صدرٹرمپ سے سیزفائرکی بھیک کرنی پڑی۔یہ لمحہ بھارت کی تاریخ کاسب سے بڑاداغ ہے،جب اس کی فوجی طاقت اورعالمی حمایت کے باوجودوہ پاکستان کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔یہ لمحہ بھارت کی تاریخ کاسیاہ ترین لمحہ تھا۔اسرائیلی مددکےباوجودیہ رسوائی اس بات کااعلان تھی کہ پاکستان کے خلاف ہراتحادناکام ہوگا۔تاریخ کےصفحات پریہ لمحہ اس کےلئےقیامت صغری ہے،اورپاکستان کے لئے ایک اورغازیانہ فتح کاعنوان۔
جب دشمن عسکری اوردہشتگردی کے محاذ پر ناکام ہواتواس نے فطرت کے سب سے قیمتی تحفے،یعنی پانی کوہتھیاربنانےکی کوشش کی۔آبی دہشتگردی کاایک نیاباب کھلا۔بھارت نے اپنے ڈیموں کے پانی کارخ موڑکرپاکستان کوسیلابوں میں ڈبونے کی سازش کی۔ ڈیمزکے پانی کوروک کراورپھربارشوں کے موسم میں رخ بدل کرپاکستان کوسیلابوں میں غرق کرنے کی سازش کی گئی۔ گرمیوں میں پانی روک لیاگیاتاکہ پاکستان کے کھیت پیاس سے مر جائیں ،اور بارشوں میں یکدم پانی چھوڑ کربستیاں ڈبودی گئیں۔یہ آبی دہشتگردی محض پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کےخلاف بھی تھی۔دنیاکے مہذب معاشرے پانی کو زندگی کا ذریعہ سمجھتےہیں،لیکن بھارت نے اسے موت کا ہتھیار بنادیا۔لیکن پاکستان کے عوام نے ان آفات کوبھی صبراورحوصلے سے سہہ لیا۔بھارت نے دنیاکے سامنے اسے ’’قدرتی آفت‘‘ کا نام دیا لیکن ہرصاحبِ بصیرت نے جان لیاکہ یہ دراصل دشمن کی نئی سازش ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھاہے کہ قدرتی آفات کابہانہ بناکراپنی سازش چھپالے گا،لیکن حقیقت آخرکار سامنے آہی گئی۔وہ اپنے تئیں مکاری کے اس سراب میں بیٹھا سوچ رہا تھاکہ پانی کے سیلاب سے ایک نظریہ کوبہالے جائے گامگروہ نہیں جانتا کہ کلمہ حق کی بنیادکوکوئی طوفان مٹا نہیں سکتا۔یہ وہی پراناحربہ ہے جوفرعون نے نیل کے پانی پرقبضے کاخواب دیکھاتھالیکن بالآخراسی نیل نے اسےغرق کیا۔بھارت کی آبی دہشتگردی بھی اسی فرعونی روش کی یاددلاتی ہے۔قرآن نے فرعون کے انجام کے بارے میں فرمایا:پھراللہ نے اسے دنیااورآخرت دونوں کے لئے عبرت کانشان بنادیا۔(النازعات:25) یہ آیت اس بات کی ضمانت ہے کہ جوبھی قوم فطرت کے نظام سے کھیلنےکی کوشش کرے گی،وہ خوداس کے عذاب میں گرفتارہوگی۔
مودی نے پاکستان کوکمزورکرنےکی ہرممکن کوشش کی۔مودی نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھاکہ جس امریکاپراس نے تکیہ کیا تھا،وہ اب کھل کراس کی پالیسیوں سے کنارہ کشی کررہا ہے۔مودی،جوکبھی واشنگٹن کےدروازے پرسررکھتاتھا،آج ٹرمپ کی بے رخی دیکھ کر چین اورروس کی طرف دیکھ رہاہے۔امریکی صدرنے نہ صرف اسے دھتکارابلکہ بھارت میں ہونے والی ’’کواڈ‘‘ میٹنگ میں نہ صرف شرکت سے انکارکیابلکہ بھارت کی پالیسیوں پرکھلے لفظوں میں ناپسندیدگی کااظہارکیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب بھارت کے لئے عالمی سیاست کے دروازےبند ہونے لگے۔
مودی کےلئےیہ لمحہ شکست وریخت کاتھا۔ اب وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی عزت کوبچانے کےلئے روس اورچین کے درپرجابیٹھاہے۔ ایسے میں روس اور چین کے سامنے ہاتھ پھیلانااس کی مجبوری بن گیالیکن یہ بھی ایک عارضی سہاراہے،کیونکہ روس اورچین کی اپنی ترجیحات ہیں،اوریہ دونوں ممالک بھارت کومحض ایک مہرہ اورآلہ سمجھتے ہیں،نہ کہ کوئی حلیف یاحقیقی شراکت دار۔بھارت کے لئے یہ تبدیلی ایک ایسی ڈوبتی کشتی ہے جس کاسہارابھی غیریقینی ہے۔
ٹرمپ کےاس رویے کےبعدعوامی نفرت اور دباؤنےمودی کےاوسان خطاکردیئے اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘کا خواب پھرسے اس کے لبوں پرآنے لگا ۔ بھارت کادعویٰ ہےکہ بحرہندکے ساحل سے جڑے تمام ممالک سری لنکا،نیپال،بھوٹان، مالدیپ،حتی کہ پاکستان تک سب ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کاحصہ ہیں۔ یہ سوچ دراصل چانکیہ کے اس فلسفے کاتسلسل ہے جس میں طاقت اوردھوکہ ہی سیاست کے ہتھیار ہیں لیکن تاریخ اس خواب کی بارہانفی کرچکی ہے۔ محمودغزنوی کے حملے ہوں یااحمدشاہ ابدالی کی یلغار، بھارت ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے سامنے کمزورثابت ہوا۔آج بھی اس کا’’اکھنڈبھارت‘‘ کا محض سراب بھارت کے جلدٹوٹنے کاآغازبھی ہے جو مودی کے ہاتھوں انجام تک پہنچے گا۔
ٹرمپ نے بھارت کی پالیسیوں پرکڑی تنقید اورپاکستان پربھارتی آبی جارحیت کوکھلے الفاظ میں مستردکرتے ہوئے کہاکہ امریکا روس اورچین کے اتحادسے خوفزدہ نہیں۔اس بیان کااصل مخاطب بھارت تھا۔گویابھارت کوواضح پیغام دے دیاکہ اس کی جارحانہ روش ناقابلِ قبول ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں