Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

انسداد دہشت گردی: زہریلی سیاست قومی اتفاق رائے میں رکاوٹ

دہشت گردی کا عفریت پاکستان کے وجود پر پوری شدت سے حملہ آور ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کا مرکز افغانستان میں ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد بطور ریاست پاکستان کے وجود کو مٹانا چاہتے ہیں۔ فکری محاذ پر اس سوچ کے حامل گروہوں کا مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ریاست نے اس خطرے کو بروقت بھانپ کر پیغام پاکستان جیسی متفقہ دستاویز مرتب کروائی۔ پاکستان میں مذ ہب کی مسخ شدہ تشریحات کو بنیاد بنا کر ہتھیار اٹھانا جائز نہیں۔دہشت گردی کی نئی لہر کی شدت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کی تازہ فعالیت بیرونی محفوظ پناہ گاہوں اور اندرونی سیاسی تقسیم کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ماضی کی مصالحتی پالیسی نے مسئلہ گھٹانے کے بجائے اسے طول دیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور معنی خیز نرمی کے رویے نے ان گروہوں کو از سرِ نو منظم ہونے کی گنجائش دی حالانکہ ان دہشت گرد گروہوں کا دامن بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے داغدار ہے۔ آج بھی پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت اسی روش کی حامل دکھائی دیتی ہے، جس سے انسداد دہشت گردی کی مہم متاثر ہورہی ہے۔ یہ غیر دانشمندانہ طرز عمل دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ مضبوط کررہا ہے۔سیاسی سطح پر قومی بیانیے کو کمزور کرنے کا رجحان بھی واضح ہے۔ ٹی ٹی پی اور اس کے افغان سرپرستوں بارے پی ٹی آئی کی نرم گفتار ی قومی اتفاقِ رائے کو مجروح کرہی ہے۔ جبکہ پی ٹی ایم نے پی ٹی آئی کے ساتھ تال میل میں ریاستی کارروائیوں کو ڈالر وار قرار دے کر انتہا پسند پروپیگنڈے کو تقویت دی۔ دہشت گردی جیسے حساس معاملے پر تقریق شہدا کے خون کی توہین اور عوامی اعتماد کومتزلزل کرنے کے مترادف ہے۔2021 ء میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سرحد پار سے در اندازی کی نوعیت خطرناک طور پر بدل گئی۔ اندازا 70 تا 80 فیصد در انداز دہشت گرد افغان شہری ہیں۔ جبکہ ٹی ٹی پی رسد اور رہنمائی مہیا کر رہی ہے۔ صرف 2025 ء میں ٹی ٹی پی کے ہمراہ دہشت گردی کرتے ہوئے 126 افغان شہری پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ افغان سرزمین پر 57 سے زائد ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیمپس ٹریننگ اور حملوں کے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔افغان عبوری حکومت کی کارروائیاں کھوکھلی اور نمائشی ہیں۔ کئی مواقع پر یہ سرگرمیاں محض یہ ثابت کرنے کے لئے کی گئیں کہ افغان طالبان بھی دہشت گردوں کے خلاف فعال ہیں۔تاہم نتائج کے اعتبار سے یہ محض دکھاوا ثابت ہوا۔افغان مہاجرین کے نیٹ ورکس اور وسائل کو ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی نے دہشت گردی کے لیے پوری تندہی سے استعمال کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت، افغان غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو کمزور کرتی رہی ہے۔ حالانکہ یہ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا اہم تقاضا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس مسلسل بیان کرتی رہی ہیں کہ افغان سرزمین اور وسائل ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی اور بی ایل اے کی مالی و عملی تقویت کے لیے بروئے کار آ رہے ہیں۔اندرونِ ملک سیاسی نااتفاقی اور بیانیے کی جنگ نے دشمن کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور اے این پی انسداددہشت گردی کی کاوشوں پر ابہام پھیلاتے اور منفی بیانیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں۔یہ طرز عمل سیاسی عدم استحکام اور سماجی ابہام میں اضافہ کررہاہے۔ دہشت گرد افغان کیمپوں اور پاکستان کے اندر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر کے آپریشنز کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔
ایک نام نہاد مفتی نے اپنے علاقے میں نفاز شریعت کا مطالبہ داغ دیا۔ اس فسادی شخص کی زہریلی سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موصوف نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ خارجی دہشت گردوں کو شہید قرار دیا۔ فتنہ خوارج کے وکیل صفائی کے لیے نسل پرست تنظیم پی ٹی ایم کا دوستانہ رویہ اس بات کا غماز ہے کہ دونوں گروہ پاکستان دشمنی کے نفرت انگیز عمل میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔ پشتون نیشنل جرگے میں فسادی مفتی کو سٹیج پر بلا کر خطاب کا موقع کیوں دیا گیا؟ بے گناہ مسلمانوں کے قاتلوں کو شہید کہنا کون سا اسلام ہے؟ پی ٹی ایم اور بی این جے کے نام نہاد قوم پرست آخر پشتونوں کے قاتلوں پر صدقے واری کیوں ہو رہے ہیں؟ نسل پرستوں اور خوارج کا گٹھ جوڑ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ عمر پشتین جیسے عقل سے پیدل حضرات خوارج کے وکیل صفائی نام نہاد مفتی کفایت کے زہریلے خیالات کو پشتون حقوق کا تحفظ کیوں قرار دے رہے ہیں؟ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان حد فاصل نمایاں ہو رہی ہے۔ نسل پرست گروہ دراصل خوارج اور علیحدگی پسند دہشت گردوں کے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈال کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماضی میں بھی پشتون اور بلوچ حقوق کی آڑ لے کر مفادات کا کھیل کھیلنے والے دھوکے باز بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں سے دوستانہ تعلقات قائم کیے ہوئے تھے۔ یہ ایک ناقابل ترید حقیقت ہے کہ خوارج اور نسل پرست فسادی ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔یہ دونوں فسادی گروہ پاکستان کی بربادی کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔
شہدا کے خاندان سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ان کی قربانیوں کا احترام کیا جا رہا ہے ؟دہشت گرد گروہوں سے مصالحتی روش اور متضاد سیاسی بیانیے نے قومی عزم کودھچکا لگا رہے ہیں ۔ گمراہ کن اطلاعات سے جنم لینے والا ابہام طویل المدتی انسداددہشت گردی مہم کے لیے درکار قومی یکجہتی میں دراڑیں ڈال رہا ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مصالحتی رجحان کو خیرباد کہتے ہوئے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، آئی ایس کے پی اور ان کے فکری سہولت کاروں کے خلاف آواز بلند کریں۔ افغانستان کے باب میں جوابدہی کی پالیسی سخت اور کثیر الجہت ہونی چاہیے۔ پاکستان کو دو طرفہ، علاقائی اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر افغان عبوری حکومت پر مسلسل اور بامعنی دبائو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ وہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے، لانچ پیڈز بند کرائے اور دہشت گردوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرنے سے باز رہے۔مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل بتدریج اور غیر مبہم ہو نا چاہیئے ، تاکہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے سہولت کارنیٹ ورکس ٹوٹ جائیں۔ ہر قیمت پر سہولت کاروں، جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور جعلی دستاویزی معیشت کے مراکز پر فوری ہاتھ ڈالا جائے۔ دشمن کے بیانیئے کے خلاف محاذ کو مضبوط بنایا جائے۔ پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور اے این پی کے دوہرے معیار کو دلیل، شواہد اور زمینی حقائق کے ساتھ بے نقاب کیا جانا چاہیئے۔ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا نفاذ شفاف، مسلسل اور خوف و مصلحت سے بالاتر ہو۔ یہ معرکہ صرف عسکری نہیں، سیاسی، نظریاتی اور سماجی بھی ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کی نئی لہر کو اس وقت تک فیصلہ کن شکست نہیں دی جا سکتی جب تک بیرونی سرپرستی ختم نہ کردی جائے۔نسل پرست دہشت گردوں سے ایک قومی جماعت کی ہم آہنگی ریاستی بیانیے کی نفی کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں