Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

25 ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہو جاتا ہے

جس کے باعث زمین زیر آب آجائے اسے سیلاب کہتے ہیں جو اضافی پانی کے بہائو کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔سیلاب سے متعلق یورپی یونین کے تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کسی بھی علاقے میں محدود وقت کے لئے آتا ہے اور اپنے پیچھے بہت ساری تباہی چھوڑ جاتا ہے۔سیلاب پانی کے خشک علاقوں کی طرف بہائو کا نام ہے۔یہ دریا یا جھیل میں موجود پانی کی وجہ سے تب پیش آتا ہے جب اس میں گنجائش سے زیادہ پانی بھر جائے اور اضافی پانی کناروں سے باہر بہہ نکلے۔سیلاب اس وقت اہمیت اختیار کرتا ہے جب یہ زرعی زمینوں،شہری یا دیہی آبادیوں کو نقصان پہنچائے۔ سیلاب عموما دریاوں میں اس وقت برپا ہوتے ہیں جب پانی کا بہائو دریا کی قدرتی گنجائش سے بڑھ جائے۔خاص طور پر دریا کے نشیبی علاقوں سے اس کا پانی کناروں سے بہہ نکلے تو ایسی صورت کو تکنیکی لحاظ سے سیلاب کہتے ہیں۔سیلاب جب آبادیوں، زرعی املاک اور جنگلات کو نقصان پہنچاتا ہے تو بڑی تباہی آتی ہے-محققین کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں میں دریا کنارے دہائیوں سے آباد انسانی آبادیاں سیلابی خطرات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ اس کے باوجود ان آبادیوں اور آباد کاروں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ سیلاب سے ہونے والا مالی نقصان یہاں کے آباد کاروں کو ملنے والے معاشی فوائد سے کہیں کم ہے۔سیلاب کی روک تھام کس طرح ممکن ہے؟ پوری دنیا میں اس پر بات ہو رہی ہے۔پاکستان ہی نہیں،دنیا کے کئی اور ممالک بھی اب اس قدرتی آفت کی لپیٹ میں ہیں۔حد سے زیادہ بارش ہو جائے تب بھی سیلاب کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔جس سے آبادیوں کو تو نقصان پہنچتا ہی ہے۔کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو جاتی ہیں۔جس سے اناج کا بحران آتا ہے اور اجناس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے ملکوں سے اناج امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔یہ بھی امر اس موقع پر جاننا ضروری ہے کہ سیلاب کو تو روکا نہیں جا سکتا تاہم زیادہ نقصان سے بچنے کے لیئے بعض حفاظتی اقدامات ضرور کیئے جا سکتے ہیں۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کو یہ اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ناقص منصوبہ بندی ہو تو نقصان کروڑوں سے اربوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس بار اتنی شدید بارشیں ہوئیں کہ 80 سال کا پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔موسم کے ماہرین کا کہنا ہے زمین پر موجود کر وسطی جو کر اول اور کر دوم کے درمیان واقع ہے اس میں موجود غیر معمولی ہوا کا کم دبا غیر معمولی بارشوں کا سبب بنا محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو سیلاب کی قبل از وقت اطلاع دے سکے۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں سارا سال پانی کی کمی رہتی ہے۔اس صورت حال میں اس بار برسنے والی غیر معمولی بارشیں بارانِ رحمت ثابت ہو سکتی تھیں مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا اور سارے کا سارا پانی نہ صرف ضائع ہوا بلکہ اس پانی نے سینکڑوں افراد کی جانیں لے لیں۔لاکھوں افراد بے گھر اور سیلاب کی تباہ کاری سے متاثر ہوئے۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا جتنا پانی آسمان سے برسا وہ سب کا سب ڈیمز،چھوٹے بڑے بندوں اور تالابوں میں جمع ہو کر اگلے کئی برسوں تک رحمت کا سبب بنتا مگر تلخ ترین حقائق کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔سال بھر پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیئے ہر ملک میں ضرورت کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں قومی یکجہتی کے فقدان، سیاسی نفرتوں اور تعصبات کے باعث ڈیموں کی تعمیر اور منصوبہ سازی ایک طویل عرصے سے سیاسی ایشو بنی ہوئی ہے۔ملک میں صرف منگلا، تربیلا اور وارسک ڈیم ہیں جبکہ کالا باغ،کرم تنگی، بھاشا، منڈا اور اکوڑی ڈیمز کسی نہ کسی وجہ سے کئی عشروں سے متنازع ہیں۔اسی سبب ان کی تعمیر و تکمیل آج تک نہیں ہو سکی۔آج یہ ڈیم ہوتے تو نہ پانی ضائع ہوتا،نہ سیلاب آتا،کیونکہ بھاشا ڈیم میں سات اعشاریہ تین ملین ایکڑ فٹ،کرم تنگی میں صفر اعشاریہ چار ملین ایکڑ فٹ،منڈا ڈیم میں ایک اعشاریہ تین صفر اور اکوڑی میں سات ملین ایکڑ فٹ تک پانی ذخیرہ ہو سکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے یہ تمام ڈیمز کسی نہ کسی تنازعے اور اعتراض کے سبب رکے ہوئے ہیں۔اکوڑی ڈیم پر صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا کو اعتراض ہے،سندھ کا موقف ہے اس کی تعمیر سے سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔بھاشا ڈیم کی مجوزہ جگہ بھارت کے اعتراضات کے باعث متنازع حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر کے لئے دیا جانے والا بیرونی قرضہ روک لیا گیا ہے۔
کرم تنگی ڈیم پر خیبرپختونخوا اور واپڈا کے درمیان ڈیم کی اونچائی کے حوالے سے اختلافات ہیں۔منڈا ڈیم واپڈا اور اس کے کنٹریکٹر کے مابین بعض معاملات کی قانونی پیچیدگی کی وجہ سے ادھورا ہے۔جبکہ ماہرین کا کہنا ہے۔دریائے سوات پر اگر منڈا ڈیم بن جاتا تو نوشہرہ آج زیر آب نہ آتا۔پاکستان میں ڈیم اور آبی ذخیرہ گاہیں نہ ہونے کے باعث کم از کم پچیس ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہو جاتا ہے-جبکہ حالیہ تیز بارشوں اور سیلاب سے ضائع ہونے والے پانی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ موجودہ سیلابی صورت حال کے تناظر میں ضروری ہو گیا ہے کہ صوبے باہمی اختلافات بالائے طاق رکھ کر اس قومی ضرورت کو سمجھیں کہ ملک کے لیے ڈیمز کتنے ضروری ہیں آئندہ برسوں میں یہ نہ بنے تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

یہ بھی پڑھیں