(گزشتہ سے پیوستہ)
مومنو!ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔پاکستان کی سرزمین پرہم نے اللہ کی مددسے اپنی تقدیرخودلکھی۔ یہاں اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرہ قائم کرناہے،اورہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ہمیں اپنے اعمال اورقربانیوں میں اللہ کی رضاکومقدم رکھناہے۔یہ نعمت ہمیں یاددلاتی ہے کہ وطن کی حفاظت اورترقی ہرمسلمان کی مقدس ذمہ داری ہے۔آج،اس یومِ آزادی پر،ہمیں اقبال کے اس شعر کو صرف یادنہیں کرنابلکہ عملی زندگی میں اسے نافذ کرنا ہو گا ، ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے!
قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جووقت کی گردمیں چھپ نہیں سکتے،جوصدیوں کے اندھیروں میں چراغِ راہ بن کر جگمگاتے رہتے ہیں۔ جب تاریخ کے اوراق پرنگاہ دوڑائی جاتی ہے توکچھ دن محض دن نہیں رہتے،وہ ایک عہدکی پہچان،ایک خواب کی تعبیراورایک قوم کی روحانی بیداری بن جاتے ہیں۔ پاکستان کایومِ آزادی بھی ایساہی دن ہے یہ دن محض جغرافیائی آزادی کانہیں،بلکہ ایمان، قربانی اوروحدت کی صداکادن ہے۔یہ محض ایک تقویمی تاریخ نہیں بلکہ ایک فکری بیداری،ایک روحانی انقلاب اور ایک سیاسی معجزہ ہے۔
یہ دن ہمیں یاددلاتاہے کہ اللہ کی مشیت جب کسی قوم کے ساتھ ہوتوغلامی کی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں،اورایک ایسی مٹی جنم لیتی ہے جومعجزے کی مانند تاریخ کے سینے میں ہمیشہ روشن رہتی ہے۔یہ وہ دن ہے جب غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں،جب ایک خواب حقیقت میں ڈھلا،اورجب دنیانے دیکھاکہ ایمان اورقربانی سے مسلح قومیں کس طرح تاریخ کادھارا موڑ دیتی ہیں۔پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے۔
آج کا دن ہمیں صرف جشن منانے کے لئے نہیں،بلکہ خوداحتسابی اورعہدِنو کے لئے پکاررہا ہے۔ دشمن آج بھی بدلتے ہتھیاروں کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔کبھی وہ توپ وتفنگ سے حملہ آورہوتاہے اورکبھی سوشل میڈیاکے پردے میں ہمارے نوجوانوں کے اذہان کو مسموم کرنے نکل کھڑاہوتاہے۔دشمن کی یہ سازشیں ہمیں یاددلاتی ہیں کہ آزادی کی حفاظت صرف بندوق کے دہانے سے نہیں ہوتی بلکہ قلم،علم،کرداراوراتحاد سے بھی کی جاتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں سوچناہوگاکہ کیاہم اپنی فکری واخلاقی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں؟ کیاہم اپنی زبان،ادب اورتہذیب کے چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں؟کیاہم اقبالؒ کے اس پیغام کوزندہ رکھے ہوئے ہیں کہ مسلمان کی سب سے بڑی طاقت اس کااتحاد اوراس کاشعورہے؟یہ دن ہمیں جھنجھوڑتاہے کہ ہم صرف ماضی کی قربانیوں پرفخرنہ کریں، بلکہ اپنے حال کواس قربانی کے شایانِ شان بنائیں۔
یہ دن ہمیں بتاتاہے کہ پاکستان کسی حادثے کانام نہیں،بلکہ لاکھوں شہیدوں کی اذانوں، لاکھوں ماں کی دعائوں اورلاکھوں نوجوانوں کی قربانیوں کاوہ مقدس حاصل ہے،جوقرآن وسنت کے نورسے روشن ہوا۔آج کادن ہمیں جھنجھوڑتاہے کہ ہم محض ایک قوم نہیں، بلکہ ایک امانت کے وارث ہیںوہ امانت جس کامحافظ ہرفرد، ہرقلم، ہر تلوار اورہردعا ہے۔
اے وطن تیری مٹی پربہایاگیاہرقطرہ خون ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ قومیں محض سرحدوں سے نہیں بلکہ ایمان،علم اورقربانی سے زندہ رہتی ہیں۔آج کادن ہمیں اس عہدکی تجدید پرمجبور کرتاہے کہ ہم اقبال کے خواب اورقائداعظمؒ کی قیادت کواپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیںاوردشمن کی سازشوں کے مقابل صرف ہتھیارسے نہیں،بلکہ علم،کرداراوراتحادکے چراغ سے بھی جواب دیں۔
اے پاکستان توایک معجزہ ہے،وہ معجزہ جسے اللہ نے ایمان اورقربانی کی بدولت ہمیں عطاکیا۔تیری سرزمین پربہایاگیا خون ہمیں ہر لمحہ یاددلاتاہے کہ آزادی کی حفاظت صرف فوجی مورچوں میں نہیں بلکہ ہر گھر، ہر قلم، ہردل اورہرزبان پرفرض ہے۔
اے پاکستان تومحض ایک خطہ زمین نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیوہ نظریہ جوقرآن وسنت کی روشنی میں پروان چڑھا،وہ خواب جس نے اقبالؒ کی فکرسے جنم لیااوروہ حقیقت جوقائداعظمؒ کی قیادت اورلاکھوں شہداکی قربانیوں سے وجودمیں آئی۔تیری سرزمین پر بہایا گیا خون ہمیں بتاتاہے کہ آزادی کی حفاظت کسی ایک ادارے یا فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کافرض ہے۔
آج کے دورمیں دشمن نے جنگ کاطریقہ بدل دیاہے۔آج دشمن نے اپنی چالیں بدل لی ہیں۔اب وہ توپ و تفنگ سے زیادہ فتنہ اور جھوٹ کے ساتھ حملہ آورہے،پروپیگنڈے کے تیرچلاتاہے۔سوشل میڈیاپر وہ نوجوانوں کے ذہنوں کومسموم کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ ہماری نئی نسل کوشکوک وشبہات کے دلدل میں دھکیلنا چاہتاہے،تاکہ وہ اپنی فوج،اپنی تاریخ اوراپنے دین پر اعتمادکھو بیٹھے ۔ہماری فوج پرسوالیہ نشان لگانے کی تدبیریں کرتاہے،اورہماری ثقافت وزبان پرحملے کرتا ہے۔ مگریاد رکھو اگرہم نے شعور،اتحاد اورایمان کو اپنا ہتھیار بنایاتویہ سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔جس قوم کے نوجوان شعورکے ہتھیارسے لیس ہوں،وہ کبھی شکست نہیں کھاسکتے۔یہی وقت ہے کہ ہم اپنی تعلیمی اداروں کوعلم وتحقیق کے گڑھ بنائیں،میڈیاکی فضاکوصداقت کامیدان بنائیں، اوراپنے گھروں کواخلاق اورتہذیب کی پناہ گاہ بنائیں۔پاکستان کی بقاصرف زمین پرنہیں،بلکہ ہمارے کردارمیں ہے۔ہماری فوج کے شجاع جوان مورچوں پرقربانیاں دیتے ہیں توہمیں بھی اپنے قلم،اپنی سوچ اور اپنے کردارکومورچہ بناناہوگا۔یہ وطن ہمارے ایمان، ہماری ثقافت اورہمارے اتحادکانام ہے۔اگرہم نے قرآن وسنت کواپنی اصل قوت ،اقبال کے فلسفے کوعملی جامہ پہنایا، دشمن کے پروپیگنڈے کواپنے اتحاداور بصیرت سے توڑا،توکوئی طاقت ہمیں زیرنہیں کرسکتی۔ یہی وہ وقت ہے کہ ہم محض نعروں پرنہ رکیں،بلکہ آج ہی 5عملی اقدامات کریں۔
(جاری ہے)