Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

وہ ساعتِ مقدس جب کائنات جگمگائی

عید میلاد النبی ﷺ کا دن اہل ایمان کے دلوں میں نور کی کرنیں جگانے والا دن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جس نے کائنات کی تقدیر بدل دی۔ جب مکینِ بطحا ﷺ تشریف لائے تو ظلمتیں کافور ہوئیں اور دلوں کو امید کی ایسی بہار نصیب ہوئی جو قیامت تک قائم رہنے والی ہے۔ یہ دن خوشی، مسرت، عقیدت اور شکرگزاری کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں اس ذاتِ اقدس ﷺ کی یاد دلاتا ہے جن کے آنے سے دنیا کو حقیقی سکون نصیب ہوا۔ وہ جو یتیموں کے سہارا، مسکینوں کے غمخوار، غلاموں کے رہائی دہندہ اور عورتوں کے حق دلانے والے تھے۔ وہ جو کائنات کے لئے رحمت بن کر آئے، وہ جن کی زبان سے کبھی جھوٹ نہ نکلا، جن کی نگاہوں سے کبھی دھوکہ نہ چھلا اور جن کے دل سے کبھی نفرت نہ پھوٹی۔یہ دن اہل ایمان کے لئے اس بات کا اعلان ہے کہ ہم اپنی محبتوں کا مرکز و محور رسول اکرم ﷺ کی ذات کو مانتے ہیں۔ جب دنیا بے بسی میں ڈوبی ہوئی تھی، انسان اندھیروں میں بھٹک رہا تھا، تب مکہ کی گھاٹیوں میں وہ چاند طلوع ہوا جس نے ہر ستم کے اندھیروں کو کافور کر دیا۔ اس دن کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کائنات کے ذرے ذرے نے حضور ﷺ کی آمد پر خوشی منائی۔ گویا یہ دن صرف اہل عرب کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے خوشی کا پیغام تھا۔عید میلاد النبی ﷺ کی حقیقت یہی ہے کہ یہ دن عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کا دن ہے۔ مسلمان اپنے گھروں میں چراغاں کرتے ہیں، گلیاں و بازار سجاتے ہیں، مساجد کو سنہری روشنیوں میں نہلاتے ہیں، نعتیہ محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں اور درود و سلام کی صدائیں فضا میں گونجتی ہیں۔ لیکن یہ سب ظاہری خوشی ہے، اصل خوشی یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو بھی حضور ﷺ کی محبت سے منور کریں۔ اگر ہمارے دل حضور ﷺ کے عشق سے خالی ہیں تو چراغاں اور نعت خوانی سب ادھوری ہے۔اس دن کا تقاضا ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی سراپا روشنی ہے۔ آپ ﷺ نے امن قائم کیا، محبت کو عام کیا، بھائی چارے کا درس دیا، انصاف قائم کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو اس کا اصل مقام یاد دلایا۔
قرآن کریم نے فرمایا: ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ” یعنی تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ عید میلاد النبی ﷺ کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم حضور ﷺ کی سنت کو اپنائیں، اپنے کردار کو حضور ﷺ کے اخلاق کی خوشبو سے معطر کریں اور اپنی زبان کو سچائی سے آشنا کریں۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ نبی کریم ﷺ کی آمد صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل نور ہے۔ یہ نور آج بھی زندہ ہے، یہ ہدایت آج بھی زندہ ہے، یہ محبت آج بھی قائم ہے۔ جو بھی اس نور کو اپناتا ہے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید میلاد النبی ﷺ اہل ایمان کے لئے زندگی کی تجدید کا دن ہے۔ اس دن ہم اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایسی ہستی ﷺ عطا کی جو ہمارے لئے دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔عید میلاد النبی ﷺ ہمیں اتحاد کا بھی درس دیتی ہے۔ حضور ﷺ نے عرب کے منتشر قبائل کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ انہوں نے دکھایا کہ دشمنیاں محبت میں کیسے بدلتی ہیں، نفرتیں کیسے ختم ہوتی ہیں اور انسانیت کیسے ایک خاندان میں ڈھلتی ہے۔ آج جب امت انتشار کا شکار ہے، فرقہ واریت کے زہر میں ڈوبی ہوئی ہے اور مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے تو اس دن کی یاد ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم حضور ﷺ کے پیغام کو بھول چکے ہیں۔ اگر ہم عید میلاد النبی ﷺ کی اصل روح کو سمجھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ دن ہمیں محبت، بھائی چارے اور اخوت کی دعوت دیتا ہے۔یہ دن ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو اپنے دل میں بسانے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ محبت وہ قوت ہے جو ایک غلام کو آقا بنا دیتی ہے، جو کمزور کو طاقتور بنا دیتی ہے اور جو امت کو عروج کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے حضور ﷺ کی محبت اور سنت کو اپنایا تو وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئے۔آج دنیا کے ہر گوشے میں مسلمان عید میلاد النبی ﷺ مناتے ہیں۔ کہیں درود و سلام پڑھا جاتا ہے، کہیں نعتیہ مشاعرے سجتے ہیں، کہیں میلاد کی محفلیں ہوتی ہیں اور کہیں قرآن خوانی ہوتی ہے۔ یہ سب ایمان کی علامتیں ہیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ سب سے بڑی محفل وہ ہے جو دل کے اندر برپا ہوتی ہے۔ وہ محفل جہاں دل حضور ﷺ کی یاد میں جھوم اٹھتا ہے، جہاں آنکھیں عشق میں نم ہو جاتی ہیں اور جہاں زبان بے اختیار درودو سلام پڑھنے لگتی ہے۔ یہی حقیقی عید میلاد النبی ﷺ ہے۔یہ دن ہمیں مستقبل کے لئے بھی رہنمائی دیتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو حضور ﷺ کی سیرت سکھانی ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ حضور ﷺ نے کس طرح دشمنوں کو معاف کیا، کس طرح مظلوم کا سہارا بنے اور کس طرح ایک مثالی معاشرہ قائم کیا۔ عید میلاد النبی ﷺ اس بات کا عہد ہے کہ ہم دنیا کے لئے امن اور محبت کے سفیر بنیں گے۔ ہم حضور ﷺ کی تعلیمات کے مطابق عدل قائم کریں گے، مظلوم کا ساتھ دیں گے، ظالم کے خلاف کھڑے ہوں گے اور اپنی زندگی کو سچائی اور دیانتداری کا پیکر بنائیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب کرے گا۔آخر میں یہ دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کرواتا ہے کہ حضور ﷺ ہمارے لئے وہ نعمت ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے۔ ہمیں اپنی زبان، اپنے قلم، اپنے عمل اور اپنے کردار سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم واقعی حضور ﷺ کے غلام ہیں اور جب ہم دل کی گہرائیوں سے حضور ﷺ کی محبت کا اعلان کرتے ہیں تو کائنات کی فضائوں میں یہ صدا گونجتی ہے:
سلام اس پر کہ جس نے بے سہاروں کو سہارا دیا
سلام اس پر کہ جس نے روتی دنیا کو ہنسا دیا
سلام اس پر کہ جس نے اجڑی بستیوں کو آباد کیا
سلام اس پر کہ جس نے انسانیت کو جینے کا سلیقہ دیا

یہ بھی پڑھیں