Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

جنگ عظیم دوم کے ہنگام برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے لائیڈ جارج کو خط لکھا۔ یہ خط ستمبر 1938 ء میں ہونے والے میونخ معاہدہ سے چند دن قبل کا ہے۔ چرچل نے لکھا کہ ہمیں ’’جنگ‘‘اور ’’شرمندگی‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے، میرا خیال ہے ہم جنگ سے بچنے کے لئے شرمندہ رہنا پسند کریں گے لیکن ایک دن آئے گا جب ہمیں شرمندگی اور جنگ دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج عرب دنیا کا یہی حال ہے۔ نہتے فلسطینیوں کا قتل عام ہوتا رہا یہ جنگ سے بچتے رہے، اسرائیل نے غزہ کو صرف تخت و تاراج نہیں کیا بلکہ ظلم اور بربریت کی ایسی تاریخ رقم کی جسے انسانیت کبھی فراموش نہ کر پائے گی لیکن زبانی جمع خرچ کے علاوہ عرب ممالک کے کریڈٹ پر اور کچھ نہیں ہے۔ اسرائیل نے بے بس فلسطینیوں پر مظالم کے وہ پہاڑ توڑے جو انسانیت کے ضمیر پر ہمیشہ بوجھ بن کر رہیں گے، اسرائیل یہ ظلم کرتا رہا اور ہمارے مسلمان ممالک میں سے کوئی اس کا ہاتھ نہ روک پایا۔ ہر کوئی اس بات سے ڈرتا رہا کہ یہ جنگ اس کے گھر تک نہ پہنچ جائے۔ مسلمان ہونے کے باوجود ہم نے فلسطینیوں کی جنگ کو پرائی جنگ سمجھا اور زبانی کلامی مذمت کرنے کو ہی کافی جانا۔ وما علینا الاالبلاغ۔ عرب ممالک کا فرض اس سے کہیں زیادہ تھا لیکن وہ محتاط رہے۔
آج تمام تر احتیاط کے باوجود یہ جنگ ان کے دامن کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ایک ایک کر کے اسرائیل نے قریب کے تمام ممالک کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اسرائیل کے میزائل لبنان پہنچے تو ہم نے دل کو تسلی دی کہ لبنان میں حزب اللہ ہے اس لئے اسرائیل وہاں بمباری کر رہا ہے، شام میں بمباری کی گئی تو ہم نے یہ سوچ کر صرف نظر کی کہ بشارالاسد کے شام سے پرانا حساب چکانا ہو گا اس لئے آج شام اسرائیل کے نشانے پر ہے، یمن نشانے پر آیا تو سوچا کہ یمن کے حوثی میزائل مارتے ہیں اس لئے اسرائیل یمن پر بمباری کر رہا ہے لیکن اب تو کمال ہو گیا۔ قطر، جی ہاں وہ قطر جہاں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا قائم ہے اور جو امریکہ کے کہنے پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اس امن کے علمبردار قطر پر اسرائیل نے میزائل پھینک دئیے ہیں۔ یہ میزائل حماس کی اس قیادت کو مارنے کے لئے چلائے گئے جو صلح کی شرائط طے کرنے کے لئے قطر میں موجود تھی۔ آج تک دنیا کے متحارب گروہوں کے درمیان کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بات چیت کے لئے آنے والے وفد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہو، قطری وزیر اعظم کے الفاظ مستعار لوں، جو انہوں نے سیکورٹی کونسل سے خطاب میں کہے ہیں، کہ کیا کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ کسی ریاست نے مذاکرات کے لئے آنے والوں پر اس طرح حملہ کیا ہو؟ لیکن یہ حملہ ہوا اور یہ حملہ کرنے والا اسرائیل ہے۔ وہ اسرائیل جس کا پشتیبان امریکہ ہے۔ جس کے بارے میں امریکہ نے اشتہار لگا رکھا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سمجھا جائے کہ وہ سب کچھ اسرائیل کے پاس بھی ہے۔ یعنی صاف اور واضح پیغام ہے کہ اسرائیل سے پنگا لینے والے کو امریکہ کی فوجی طاقت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ شائد عرب و دیگر ممالک کی ہچکچاہٹ کی ایک بڑی وجہ یہ امریکی دھمکی ہو۔ امریکہ نے اسرائیل کو توانا بنانے اور اس کی پشت پناہی کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی ہے۔ ابھی حال ہی میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اسرائیل ایران پر چڑھ دوڑا، جب ایران کی مزاحمت بڑھی تو امریکہ بنفس نفیس خود میدان میں کود پڑا۔ امریکی بی 52 بمبار طیاروں نے فیصلہ کن وار کرتے ہوئے ایران کے جوہری اثاثے پلک جھپکنے میں تباہ کر دیئے۔ امریکہ محض فوجی طاقت ہی نہیں ہے دنیا کی معاشی شہ رگ بھی اس کے ہاتھ میں ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک امریکہ کے مالی ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ جب چاہے کسی ہم جیسے ملک کی معاشی سانسیں بند کر دے۔
ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک موقع پر کہا تھا کہ پاکستان امریکی وینٹی لیٹرز کے سہارے کھڑا ہے اور یہ کہ پاکستان کو جتنے وینٹی لیٹرز لگے ہوئے ہیں وہ امریکہ کے لگائے ہوئے ہیں۔ یہ ہے اس مسلمان ملک کی حالت جس کو اپنی فوجی قوت پر ناز ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں یہ وہ ملک ہے کہ جب مسلمان ملکوں کی کسی غیر کے سامنے پیش نہیں جاتی تو وہ جس ملک کی فوجی قوت کی طرف دیکھتے ہیں وہ پاکستان ہے اور پاکستان کی معاشی لحاظ سے کیا اوقات ہے وہ ہمیں خواجہ آصف نے بتا دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم کریں کیا؟ اس گھمبیر اور مشکل صورتحال سے کیسے باہر نکلا جائے؟ میرے نزدیک اس مشکل صورتحال سے نبرد آزما ہونے کا واحد حل وہ ہے جو سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے سعودی شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے عرب اور مسلمان دنیا کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے بین الاقوامی اتحاد کی بات بھی کی ہے لیکن یہ طے ہے کہ اسرائیل کے چیلنج کا مقابلہ مسلمانوں کو خود سے ہی کرنا ہو گا۔ اسرائیل کے جن کو جب تک بوتل میں بند نہیں کیا جاتا نہ تو عرب خطے میں امن آئے گا اور نہ دنیا سکھ کا سانس لے سکے گی۔
اسرائیل کے عزائم گریٹر اسرائیل سے بڑھ کر ہیں۔ وہ خطے کے تمام ممالک پر اپنی بالا دستی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ایک ایک کر کے تمام عرب ملکوں پر حملے کرکے اس نے ان کی آنکھیں نیچے کی ہیں۔ اگر اس وقت مسلمان ممالک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب نہیں دیتے تو وہ ہمیشہ کے لئے اپنا وقار کھو دینگے۔ اسرائیل کی غنڈہ گردی دن بدن بڑھتی جائے گی اور قرب و جوار کی عرب ریاستیں اس کی باجگزار ریاستیں بن کر رہنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ یہ لمحہ فکریہ اور فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ آج اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے تو اس پر کاری وار کرنے کی ضرورت ہے۔ آج او آئی سی کے پلیٹ فارم کو درست استعمال کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مسلمان ممالک کے سربراہی اجلاس میں بڑے فیصلے ہونے چاہئیں۔ یہ فیصلے اور اقدامات شارٹ اور لانگ ٹرم دونوں طرح کے ہوں گے تو کام چلے گا۔ اسرائیل کا ناطقہ سب سے پہلے بند کیا جائے۔ معاشی، سیاسی اور جنگی تینوں آپشنز کو زیر غور لایا جائے۔ جنگ ہماری چوائس نہیں تھی لیکن اسرائیل نے جنگ کو ہماری مجبوری بنا دیا ہے تو اس سے پہلو تہی کیوں کی جائے۔ مسلمان ممالک کو فلسطین کے بے بس اور نہتے مسلمانوں پر بے تہاشا اسرائیلی مظالم پر پہلے ہی’’بس بہت ہو گیا‘‘ کہہ کر جہاد کا علم بلند کر دینا چاہیے تھا لیکن خدا کرے کہ اب ایسا ہو جائے۔ مسلمان ممالک بہترین حکمت عملی اپنا کر اسرائیل کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ امن اور جنگ کے تمام آپشنز سامنے رکھ کر بات کی جائے گی تو دنیا بات سنے گی اور اسرائیل بات ماننے پر مجبور ہو گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ تمام مسلمان ممالک یک زبان اور یکجان ہوں۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اس ضمن میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مسلمان ممالک کی قیادت کی ہے، کبھی شاہ فیصل اس قافلے کے سالار تھے آج زمام کار سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو سنبھالنی ہو گی۔ انہوں نے سعودی عرب کو جس طرح معاشی و معاشرتی اعتبار سے تبدیل کیا ہے اور تیل پر انحصار کم کر کہ ایک نئی سعودی معیشت کی بنیاد رکھی ہے اسی طرح انہیں عرب ممالک کو درپیش چیلنجز خاص طور پر اسرائیل کے چیلنج کے لئے سب کو تیار کرنا ہو گا۔
زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

یہ بھی پڑھیں