(گزشتہ سے پیوستہ)
قطرکے وزیراعظم کایہ اعلان محض غصےکا اظہار نہیں بلکہ ایک عالمی اصول کی تصدیق ہے۔تاریخ یاددلاتی ہے کہ جب1990ء میں کویت پرحملہ ہواتھاتودنیانے اسے ریاستی جارحیت کہا۔آج قطر اسی اصول کےتحت اسرائیل کےخلاف کھڑاہے۔ قطرکےامیرنے اسرائیلی اقدام کو مجرمانہ کارروائی اورریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ یہ الفاظ ہمیں یاددلاتے ہیں کہ چھوٹے ملک بھی جب غیرت سے بولتے ہیں توتاریخ میں اپنی جگہ بناتے ہیں،یہ وہی لہجہ ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی نے کہاتھا‘ہم بیت المقدس کوآزادکئے بغیردم نہ لیں گے۔
اسرائیلی حملے کے بعدامیرِقطرنے صدرٹرمپ سے رابطہ کیا۔ٹرمپ نے قطرکے ساتھ یکجہتی اوراس کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان کیاتاہم امیرِقطرنے اسرائیلی حملے کومجرمانہ لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان کا ملک اپنی حفاظت،اپنی سلامتی کے دفاع کے لئے تمام اقدامات کرے گا۔یہ الفاظ ایک چھوٹے مگرغیرت مندملک کی خودداری کاآئینہ اورقومی غیرت کا مظہر ہیں۔یہ وہی لہجہ ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی کے ہونٹوں پرتھا،چھوٹے وسائل مگربڑی غیرت،لیکن تاریخ کاتجربہ یہ بتاتاہے کہ امریکی مذمت اکثر لفظوں کے ہنگامے تک محدودرہتی ہے،ان کے پیچھے عملی اقدام کی کمی ہوتی ہے۔
حماس نے اس حملے کو اپنی قیادت کے خلاف ناکام منصوبہ قراردیا۔چھ جانوں کی قربانی نے اس تنظیم کی جدوجہدکومزیدجوازبخشا۔ حماس نے کہاکہ ان کی قیادت محفوظ رہی،اوریہ اسرائیلی منصوبے کی ناکامی ہے۔تاریخ کے آئینے میں یہ فلسطینی مزاحمت کی نئی زندگی اورفلسطینی مزاحمت کی حیاتِ جاوداں کاپتہ بھی دیتی ہے؛جس طرح احدکے میدان میں زخمی مگرسرخرومسلمان کھڑے رہے، ویسے ہی آج غزہ اوردوحہ کی فضاں میں مزاحمت زندہ ہے۔۔یہ شہداہماری آنکھوں کانورہیں۔ان کے لہوسے امت کی غیرت کوجِلا ملتی ہے۔ یادرکھو!رسول اللہﷺنے فرمایا:مومن،مومن کے لئے ایک عمارت کی طرح ہے،جس کا ہرحصہ دوسرے کوسہارادیتاہے۔ آج سوال یہ ہے کیاہم اپنے شہداکے سہاراہیں یامحض خاموش تماشائی؟
دوسری طرف اردن نے وضاحت دی کہ اسرائیلی طیاروں نے ان کی فضائی حدوداستعمال نہیں کیں۔ہرملک اپنے آپ کواس آگ سے دوررکھنے اورصفائی پیش کرنے کی کوشش کر رہاہے تاکہ اس آگ کی لپیٹ سے بچ سکے جس کی لپٹیں پورے خطے کواپنی گرفت میں لینے کوہے۔یہ مناظرہمیں 1967اور 1990ء کی کی خلیجی جنگ کی یادتازہ کرتی ہیں،جب ہرملک کواپنی سرحدوں کے بارے میں عالمی دبائو کا سامناتھا،جب ہرعرب ریاست اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتی رہی اورنتیجہ بیت المقدس کے کھوجانے کی صورت میں نکلا۔
ڈیموکریٹ سینیٹرکرس کونزکی حیرت معنی خیزہے کہ اسرائیل نے اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکا کو اطلاع دینابھی گوارانہ کیا۔ گویایہ پیغام واشنگٹن کوبھی ہے کہ اب تل ابیب اپنی مرضی کامالک بن چکاہے۔یہ روش اس اتحادمیں دراڑوں کاپتہ دیتی ہے۔یہ بات امریکی اقتدارکی کمزوری اوراسرائیلی خودسری کاجہاں اعلان ہے وہاں یہ صورتحال امریکااور اسرائیل کے تعلقات میں ایک نیارخ ظاہرکرتی ہے۔یہ رویہ اس امرکی علامت ہے کہ اسرائیل اب’’جونیئرپارٹنر‘‘نہیں رہا بلکہ ’’خود سر اور خودمختار‘‘ کھلاڑی کی طرح کھیل رہاہے ۔ گویااب اسرائیل اپنے سب سے بڑے حلیف کوبھی اطلاع دینے کا پابندنہیں سمجھتا۔یہ رویہ اس اتحادمیں خفیہ دراڑوں کاپتہ دیتا ہے۔۔
یہ صورتحال عراق جنگ کے دورسے مختلف ہے جب اسرائیل امریکی حکمتِ عملی کاحصہ تھا۔آج تل ابیب بظاہراپنی راہ پرچل رہا ہے،جوواشنگٹن کے لئے ایک نیاچیلنج ہے۔یہ وہی لمحہ ہے جب طاقتور سامراج کے پاں ڈگمگاتے ہیں۔یہ وہی کیفیت ہے جورومی سلطنت کواپنی آخری سانسوں میں لاحق ہوئی تھی،جب اس کے اتحادی اس کی مرضی کے بغیرفیصلے کرنے لگے تھے اوراس کے اتحادی اس کی پرواہ کرناچھوڑگئے تھے۔یہی وہ لمحات ہیں جوہمیں رومی سلطنت کے زوال میں دکھائی دیاتھا۔
عرب لیگ نے اسرائیلی حملے کوبین الاقوامی امن کے لئے خطرہ قراردیامگرتاریخ کی گواہی اورماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ عرب لیگ کے بیانات اکثر الفاظ کے ہجوم تک محدودرہتے ہیں لیکن اے اہلِ اسلام! کیاہم نہیں جانتے کہ ان کے بیانات اکثرکاغذی ہوتے ہیں؟ عملی قوت کاعکس ان میں کم اورنایاب ہی دکھائی دیتا ہے۔ 1967ء اور1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعدسے آج تک عرب اتحادکی کمزوری کھل کر سامنے آچکی ہے‘ جب ہرعرب ملک نے دوسروں پرذمہ داری ڈالی اور نتیجہ یہ نکلاکہ بیت المقدس ہاتھ سے نکل گیا ۔ یہی کمزوری اسرائیل کومزید جری بناتی ہے تاہم یہ بیانات اورمذمت کم ازکم اس بات کااعلان ہیں کہ اسرائیل کی جارحیت صرف قطریافلسطین کا نہیں بلکہ پورے خطے کامسئلہ اور سلامتی کاہے۔
اس حوالے سے اگرتاریخی تناظر کے تسلسل پر نگاہ دوڑائیں تواس حقیقت سے بھی انکارنہیں کیاجا سکتا کہ1948ء سے اب تک ہرجنگ میں اسرائیل کو امریکی پشت پناہی حاصل رہی۔ 2006ء لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکی انتظامیہ نے کھلے عام اسرائیل کو مزید وقت دینے کامطالبہ کیا تاکہ وہ حزب اللہ کوکمزورکر سکے۔1991عراق و کویت کی جنگ نے ثابت کیا کہ امریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجودمسلم ممالک اپنی خودمختاری کی ضمانت نہیں لے سکتے۔ان حملوں میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کانعرہ استعمال ہوا،مسلم ممالک کی تباہی کا تماشاسب نے دیکھا، مگر حقیقت میں افغانستان عراق پرامریکی حملے مسلم دنیاکے وسائل پر قبضے کی جنگ تھی۔آج قطرپرحملہ انہی تاریخی دھاگوں میں پرویا ہوا ایک نیاموتی اور انہی زنجیروں کا ایک نیاکڑاہے۔
نتیجتاً سوالات کاانبارہمارے سامنے کھڑاہے؟ دوحہ پراسرائیلی حملہ ایک نئے عہدکی نشانی ہے۔ کیا امریکا واقعی بے بس ہے یایہ سب ایک طے شدہ کھیل کاحصہ ہے؟کیاقطراپنی خود مختاری کے دفاع میں کوئی عملی قدم اٹھاسکے گایاالفاظ کی دنیاتک محدود رہے گا؟کیا مسلم دنیاکبھی متحدہوکراسرائیلی جارحیت کاجواب دے سکے گی؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب آنے والے وقت دے گافی الحال حقیقت یہی ہے کہ مشرقِ وسطی کی سرزمین ایک بارپھرتاریخ کے دھواں دھارباب کامرکزبن چکی ہے۔یہ پوراواقعہ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئے باب کی تمہیدہے۔ٹرمپ کی ناراضگی،اسرائیل کی خودسری،قطرکی غیرت اورعرب لیگ کی مذمت سب مل کر اس خطے کی اس کہانی کودہرارہے ہیں جوصدیوں سے خون وآگ کے استعاروں میں لکھی جارہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کیاکہہ رہاہے؛اصل سوال یہ ہے کہ عمل کی دنیامیں کون ساکردارابھرے گا۔تاریخ فیصلہ کرے گی کہ یہ محض الفاظ کاغبار تھایا آنے والے کل کے طوفان کاپیش خیمہ۔
دوحہ پر اسرائیلی حملہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی افق پرایک نیاطوفان ہے۔ٹرمپ کی ناراضگی،اسرائیل کی خودسری، قطرکی غیرت،اورعرب لیگ کی قراردادیں سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خطے میں ایک نیا بحران جنم لے رہاہے۔سوال یہ ہے کہ آیایہ محض الفاظ کاغبارہے یاتاریخ کے اوراق پرایک نیا خونچکاں باب لکھنے کی تمہید۔
اے امتِ مسلمہ!ایمان کی للکاراورتاریخ کی یہ صدا دراصل بیداری کے وقت کامطالبہ لئے ہمیں جھنجھوڑرہی ہے۔دوحہ کے آسمان پر گرنے والے یہ بم صرف قطرکے نہیں، بلکہ پوری امت کے قلب پرگررہے ہیں۔یادرکھو!قرآن ہمیں کہتاہے:اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔آج اگرہم تفرقہ کاشکار رہے،تودوحہ کے بعدمکہ ومدینہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہ حملہ ہمیں پکاررہاہے کہ کیاہم دوبارہ اپنی صفوں کودرست کرسکتے ہیں؟کیاہم اپنے بیت المقدس کوآزاد کرا سکتے ہیں؟کیاہم اپنے شہداکے لہوکاقرض اتار سکتے ہیں؟
اے امتِ محمدﷺیہ وقت غفلت کانہیں، بیداری کاہے۔دوحہ پرحملہ ہمیں یاددلارہاہے کہ ہمارا دشمن ایک ہے اورہماراایمان بھی ایک ہے۔ اگرآج ہم نے غفلت کی توتاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی لیکن اگرہم ایمان کے پرچم تلے جمع ہوگئے،تودنیادیکھے گی کہ وہی امت جو بدروخیبرکے میدانوں میں سرخروہوئی تھی،آج بھی زندہ ہے،جاویداں ہے،اوراللہ کے نام پرقربان ہونے کے لئے تیارہے۔آج تاریخ ایک بار پھرہمیں جھنجھوڑرہی ہے۔اے امتِ مسلمہ!کیاتمہیں اپنے شہداء کالہویادنہیں؟کیاتم نے بدرواحد کی صدائیں فراموش کر دی ہیں؟کیاتمہاری غیرت سوگئی ہے؟یادرکھو! اگرہم نے اپنی صفیں درست نہ کیں،توتاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی لیکن اگرہم نے اپنے ایمان کے پرچم تلے جمع ہوکرآوازبلند کی،تودنیاایک بارپھردیکھے گی کہ بدروخیبرکی امت آج بھی زندہ ہے۔