Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مغرب کا غروب، مشرق کا ظہور

اے اہلِ دنیا!کیا تم نے تاریخ کے دھارے کوبدلتے نہیں دیکھا؟کیاتم نے وقت کی موجوں کومغرب سے مشرق کی طرف پلٹتے محسوس نہیں کیا؟ صدیوں تک طاقت کاسورج روما کے ایوانوں،لندن کے محلات اورواشنگٹن کے قلعوں سے طلوع ہوتارہا،مگرآج اس کی کرنیں بدل چکی ہیں۔وہ کرنیں جوکبھی بحرِاوقیانوس کوجگمگاتی تھیں، اب بحرِجنوبی چین کے پانیوں میں رقص کررہی ہیں۔پوچھواپنے دل سے کیایہ محض توپوں کی گھن گرج ہے؟یایہ تاریخ کااعلان ہے کہ مغرب کے ہاتھوں سے قیادت کی لگام چھوٹ رہی ہے؟کیایہ صرف ایک پریڈہے یایہ زمانے کی سمت کاتعین ہے؟شی جن پنگ نے دنیاکوبتایاہے کہ اب مرکزِجہاں بدل چکاہے۔ کل کامحکوم آج کا قائد ہے، کل کازخمی آج کافاتح ہے۔یہ لمحہ،یہ منظر، یہ صدا دنیاکوجھنجھوڑکرکہہ رہی ہے کہ طاقت کارخ مشرق کی طرف مڑگیاہے۔
تاریخ کادھاراہمیشہ ایک ہی سمت نہیں بہتا۔وقت کادریااپنی موجوں کوکبھی مغرب کی طرف دھکیلتاہے اورکبھی مشرق کی آغوش میں ڈال دیتاہے۔صدیوں تک دنیاکی باگ ڈورکبھی رومیوں کے ہاتھ میں رہی،کبھی ترکوں کے۔ پھریورپ نے اپنی مہمات اور استعمارکے ذریعے قیادت سنبھالی اوربالآخردوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا دنیاکامطلق العنان رہنمابن کرابھرامگراب تاریخ کی کروٹ ایک نیاباب لکھنے کو ہے۔ واشنگٹن کے ایوانوں سے قیادت کی لگام چھوٹتی دکھائی دے رہی ہے اوربیجنگ کی فضاں میں ایک نئے سورج کی کرنیں جھلملانے لگی ہیں۔
یہ محض عسکری طاقت کامظاہرہ نہیں،بلکہ تہذیبوں کی کشمکش ہے۔یہ محض توپوں اورطیاروں کی گونج نہیں بلکہ عالمی سیاست کااعلان ہے۔شی جن پنگ کی پریڈنے یہ واضح کردیاہے کہ صدیوں سے جس مشرق کوکمزوراورمحکوم سمجھاجاتارہا،وہ اب اپنے قدموں پرکھڑاہے اوردنیا کی قیادت کی کمان سنبھالنے کیلئے تیارہے۔امریکاجوکل تک دنیاکے فیصلے کرتاتھا،آج دیکھ رہاہے کہ تاریخ کے ترازومیں اس کاپلڑاہلکاپڑرہاہے اورایک نیاتوازن وجودمیں آرہاہے۔
تاریخ کے سفرمیں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب محض واقعات نہیں بلکہ عہدکی سمت متعین ہوتی ہے۔یہ لمحات محض دن اور رات کی گردش نہیں بلکہ قوموں کے مقدرکافیصلہ کرتے ہیں ۔ بیجنگ کی ایک صبح بھی ایساہی لمحہ تھی جب شی جن پنگ نے اپنی فوجی پریڈکے ذریعے دنیاکویہ بتایاکہ اب طاقت کامرکزبدل رہاہے۔یہ منظرمحض توپوں کی گرج اورطیاروں کی پرواز نہ تھابلکہ تہذیبوں کی ٹکرائو اور سیاست کے نئے موڑکی علامت تھا۔بیجنگ کی صبح،توپوں کی گھن گرج اور طیاروں کی پروازیہ سب محض منظرنہیں بلکہ ایک عہد کااعلان تھا۔طاقت نے اپنا چہرہ دکھایا اور دنیانے محسوس کیاکہ تاریخ نے کروٹ لی ہے۔
چین صدیوں تک مغربی سامراج کی یلغارکاشکاررہا۔افیون کی جنگوں سے لے کرجاپانی جارحیت تک،اسے بارہاشکست اورذلت کا سامنا کرنا پڑامگرآج کاچین ماضی کی شکست کا اسیر نہیں، بلکہ مستقبل کی قیادت کا امیدوار ہے۔یہی اس پریڈکاسب سے بڑاپیغام تھا۔ بدھ کی صبح بیجنگ کے افق پرجومنظرکھلا،وہ محض ایک فوجی پریڈنہ تھا بلکہ ایک تاریخ کااعلان اورمستقبل کی تمہید تھا۔ شی جن پنگ کی تقریراورچین کی فوجی پریڈنے یہ واضح کردیاکہ یہ صرف عسکری قوت کامظاہرہ نہیں بلکہ عالمی قیادت کے ایک صدیوں پرانے خواب کی تعبیر ہے جس سے مشرقی قیادت کاچراغ جل اٹھاہے۔شی جن پنگ کی تقریراورچین کی عسکری قوت کا مظاہرہ اس بات کاغمازتھاکہ مشرقی قیادت اب عالمی قیادت کے منصب پراپنی دعوے داری پیش کررہی ہے۔اس موقع پرجوجاہ و جلال دکھایاگیا،وہ طاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی پیغام کی رمزیت بھی اپنے اندررکھتاتھا۔
چین کی پریڈمحض ایک فوجی مظاہرہ نہیں تھا، بلکہ عالمی سیاست کے منبرپرایک نئے عہدکے آغازکااعلان تھا۔طاقت ہمیشہ اپنے ساتھ ایک خاموش پیغام بھی رکھتی ہے،اوراس دن شی جن پنگ نے یہ پیغام دیاکہ اب فیصلہ کرنے والے صرف مغرب کے ایوان نہیں ہوں گے۔مشرق کی بیداری،جس کی جھلک صدیوں سے خوابوں اورآرزوں میں محفوظ تھی،اب عسکری قوت کے مظاہرے کے ساتھ دنیاکے سامنے ظاہر ہوئی۔ طاقت کااستعمال ہمیشہ دوپہلورکھتاہے۔ایک ظاہری یعنی اسلحے اورفوج کی تعداد،اوردوسراباطنی یعنی پیغام اورتاثر۔ اس دن بیجنگ نے دنیاکودونوں پیغام دیے۔ایک طرف ہتھیاروں کی جھلک تھی اوردوسری طرف قیادت کے ارادے کااعلان۔
پریڈکے آغازکے ساتھ ہی بحرِاوقیانوس کے پارسے ایک آتش مزاج صدرڈونلڈٹرمپ نے اپنے مخصوص آندھی وطوفان خیز انداز میں سوشل میڈیاپرایک صدابلندہوئی۔ ڈونلڈٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پراعلان کیاکہ یہ تینوں رہنماشی،پوتن اورکمامریکاکے خلاف سازش کررہے ہیں۔یہ صدا دراصل ایک زخمی غرور کی چیخ تھی۔وہ چیخ جواس وقت بلند ہوتی ہے جب طاقت ہاتھ سے پھسل رہی ہو۔ یہ شعلہ بیانی دراصل اس غصے کی آئینہ دارتھی جوانہیں مرکزِنگاہ نہ رہنے پرلاحق ہوئی۔
ٹرمپ کے ردعمل میں وہی پرانی نفسیات جھلکتی ہے جس میں امریکااپنے سواکسی اورقیادت کوبرداشت نہیں کرسکتا۔ٹرمپ کی برہمی اس وقت کی جھلک تھی جب طاقت کے زوال کی پہلی آہٹ کانوں تک پہنچتی ہے۔سوشل میڈیاپران کاالزام دراصل ایک سیاسی چیخ تھی کہ ’’میں اب مرکزنہیں رہا‘‘۔گویاوہ اپنے زوال کی ابتدائی آہٹوں کومحسوس کررہے تھے۔ان کاپیغام گویا ایک اعلان اوردھمکی بھی تھاکہ عالمی طاقت کا اعزازہم آسانی سے جانے نہیں دیں گے اورواحد عالمی سپرطاقت کے تاجداری کی حفاظت کے ہم اب بھی پوری طرح اہل ہیںمگر دنیا اب بدل رہی تھی۔یہ ردعمل دراصل اس بات کی علامت تھاکہ امریکاکے طاقتورحلقے اس اجتماع کوکس نظر سے دیکھ رہے تھے۔ٹرمپ کی شخصیت ایک ایسی آئینہ دارہے جس میں امریکا کی خودپسندی،مرکزیت اور بالادستی کی نفسیات جھلکتی ہے۔ان کاغصہ اورالزام تراشی اس بات کاثبوت ہے کہ انہیں محسوس ہورہاہے کہ عالمی قیادت کی کمان اب ان کے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے۔
شی جن پنگ کی تقریراوربیجنگ کی فوجی پریڈنے یہ حقیقت آشکارکردی کہ یہ محض عسکری قوت کامظاہرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان ہے۔توپیں صرف گولی نہیں چلاتیں،وہ پیغام بھی دیتی ہیں۔ٹینک صرف لوہے کے پہیے نہیں گھماتے، وہ تاریخ کے دھارے کوبھی موڑدیتے ہیں۔چین نے اپنی صدیوں کی شکست وریخت کوفتح کے تاج میں بدلنے کاعزم ظاہرکیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں