(گزشتہ سے پیوستہ)
شی جن پنگ نے پوتن کودائیں اورکم جانگ ان کوبائیں بٹھاکردنیاکوایک خاموش پیغام دیا۔یہ محض کرسیوں کی ترتیب اور پروٹوکول کامعاملہ نہ تھابلکہ ایک سیاسی استعارہ تھا،یہ ایک سیاسی مثلث کابھرپوراور زبردست اعلان تھا۔سیاست میں بعض اوقات خاموش علامتیں الفاظ سے زیادہ اثررکھتی ہیں۔دائیں جانب روس کی عسکری طاقت اوربائیں جانب شمالی کوریاکی بے خوفی گویامشرقی اتحاد کے دوبازوشی کے ساتھ کھڑے تھے۔یہ منظرامریکاکیلئے ایک صریح پیغام تھاہم اکیلے نہیں ہیں،ہم ایک اتحادہیں۔سیاست میں یہ علامتیں الفاظ سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔
پوتن دائیں،کم بائیںاوردرمیان میں شی۔ یہ منظرگویاایک مثلثی اتحادکی تمثیل تھا۔ سیاست کی زبان اکثرالفاظ سے زیادہ کرسیوں اور نشستوں سے بولتی ہے۔یہ نشستیں اس اتحادکی مثلث کوظاہرکررہی تھیں جوامریکاکے سامنے ایک دیوارکی طرح کھڑاہونا چاہتی ہے۔سیاست میں اشارے الفاظ سے زیادہ بولتے ہیں،اوریہ نشستوں کااشارہ بہت بلندتھا۔چینی صدر نے جیسے سب کچھ سوچ سمجھ کر ترتیب دیاتھا۔دائیں ہاتھ پرپوتن،بائیں جانب کم جانگ انگویامشرقی اتحاد کی مثلث اپنے توازن میں مکمل دکھائی دیتی تھی۔ یہ محض نشستوں کی تقسیم نہ تھی بلکہ ایک پیغام تھاجوبراہِ راست واشنگٹن کی جانب بھیجاگیا۔
کیا یہ سب محض ایک طبعی انتظام تھا یا ایک سوچا سمجھا منصوبہ؟کیایہ ٹرمپ جیسے مرکزیت پسندرہنماکو غصہ دلانے کی دانستہ تدبیر تھی یاکسی خاص شخصیت کوجلانے کااہتمام؟تاریخ کے پنوں پریہ سوال قائم رہے گامگراتناطے ہے کہ چین نے اپنے حریف کے دل پردستک ضروردی اورچین نے عسکری طاقت کے ساتھ سیاسی ذہانت بھی دکھائی۔یہ بات بھی زیرِغور ہے کہ شی نے یہ سب کسی خاص شخصیت یعنی ٹرمپ کوطیش دلانے کیلئے ترتیب دیاہو۔ٹرمپ کی شخصیت اپنی خودنمائی اورمرکزیت پراصرار رکھتی ہے،اورایسے شخص کیلئے یہ منظرایک کڑوی گولی تھا۔
یہ بھی بعید نہیں کہ شی جن پنگ نے اس نشست کی ترتیب اور پوری تقریب کو خاص طور پر ٹرمپ جیسے مزاج رکھنے والے رہنما کو بھڑکانے کیلئے ڈیزائن کیا ہو۔ ٹرمپ اپنی شخصیت میں مرکزیت پسند ہیں اور دنیا کے اسٹیج پر سب سے آگے رہنا چاہتے ہیں۔ ایسے شخص کیلئے یہ منظر ایک ناقابلِ برداشت تلخی تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چین نے محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی ذہانت کا بھی مظاہرہ کیا۔
یہ سوال باقی ہے کیا یہ محض تدبیرتھی یاکسی خاص شخصیت کوجلانے کااہتمام؟مگرایک بات طے ہے کہ چین نے عسکری طاقت کے ساتھ سیاسی ذہانت بھی دکھائی۔یہ بات بھی زیرِغورہے کہ شی نے یہ سب کسی خاص شخصیت یعنی ٹرمپ کوغصہ دلانے کیلئے ترتیب دیاہو۔ٹرمپ کی شخصیت اپنی خودنمائی اور مرکزیت پراصراررکھتی ہے،اورایسے شخص کیلئے یہ منظر ایک کڑوی گولی تھا۔ٹرمپ اپنی شخصیت میں مرکزیت پسندہیں اور دنیاکے اسٹیج پرسب سے آگے رہناچاہتے ہیں۔ایسے شخص کیلئے یہ منظرایک ناقابلِ برداشت تلخی تھا۔ یوں کہاجاسکتاہے کہ چین نے محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی ذہانت کابھی مظاہرہ کیا۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب تدبیرایک ایسے صدرکے خلاف کی گئی ہوجس کامزاج اشتعال سے بھرا رہتا ہے اورجوخودکودنیاکا مرکزدیکھنے کاخواہاں ہے۔ اس طرح شی نے ایک تیرسے کئی شکارکیے۔
پریڈمیں شی جن پنگ صرف ایک صدر نہیں تھے بلکہ ایک محورتھے ،ایک ایسی شخصیت جس کے گردمشرقی اتحادگھوم رہا تھا۔یہ منظراعلان تھاکہ اب دنیا کی قیادت یکطرفہ نہیں رہے گی۔ ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں نے دنیاکوہلاکررکھ دیا تھا۔شی جن پنگ کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ پوری دنیاکی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جائے اوریہ مقصدوہ بخوبی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ایسے میں شی جن پنگ نے گویایہ پیغام دیاکہ اگرمغرب لرزاں ہے تومشرق مطمئن ہے۔یہ تضاد آج کی عالمی سیاست کااصل خلاصہ ہے۔
شی جن پنگ کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ پوری دنیاکی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جائے۔ اوریہ مقصدوہ بخوبی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔دنیانے دیکھاکہ ایک مشرقی طاقت اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس اندازمیں ابھری ہے جیسے کل کاقائدیہی ہو۔شی جن پنگ نے دنیا کو باور کرایاکہ وہ نہ صرف چین بلکہ پورے مشرقی اتحادکے قائدہیں۔یہ اتحاددراصل ایک ایسی قوت ہے جوامریکی بالادستی کوچیلنج کرنے کاحوصلہ رکھتاہے۔اس موقع پرچین نے واضح کردیاکہ وہ اپنی طاقت کوصرف دفاع کیلئے نہیں بلکہ قیادت کیلئے استعمال کرے گا۔
شی جن پنگ نے خودکوصرف ایک صدر نہیں بلکہ ایک محورکے طورپرپیش کیامشرق کا رہنما،مشرقی اتحاد کا مرکز،اور مغرب کی بالادستی کے خلاف ایک نیا علمبردار۔یہ منظردراصل ایک اعلان تھاکہ اب عالمی سیاست یک قطبی نہیں رہی۔سردجنگ کے بعد امریکانے جو واحد سپرپاور ہونے کازعم پالاتھا،اس کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔
شی جن پنگ نے اپنی شخصیت اوراپنی ریاست کوتقریب کامرکزبنایا۔انہوں نے یہ باور کرایاکہ اب مشرقی قیادت ایک جھنڈے تلے جمع ہے اوران کامقصددنیاسے امریکاکی بالادستی کے طلسم کوتوڑناہے۔یہ ایک ایسے گروہ کااعلان ہے جو اپنی راہوں پرخودقدم رکھناچاہتاہے۔شی جن پنگ کایہ مظاہرہ اس وقت سامنے آیاجب دنیاٹرمپ کی صدارت کے غیرمتوقع فیصلوں سے ہنوزسنبھل نہیں پائی۔ٹرمپ کے غیرمتوقع فیصلوں سے دنیاہل چکی تھی۔ ایسے میں شی نے گویادنیاسے کہامشرق کاراستہ پختہ ہے،اورہم لرزاں نہیں۔ایسے میں چین کایہ مظاہرہ گویادنیاکوایک یقین دہانی تھی کہ اگرمغرب غیرمتوازن ہے تومشرق میں ایک نئی قیادت ہے جواپنے عزم اور تسلسل کے ساتھ دنیاکونئی سمت دے سکتی ہے۔شی کایہ رویہ دراصل اس اضطراب کاجواب ہے جو دنیا کو ٹرمپ کے غیرمتوقع فیصلوں نے دیا۔انہوں نے دنیا کوبتایاکہ اگرمغرب غیریقینی میں ہے تومشرق اپنے عزم میں پختہ ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں سے گھبرائے ہوئے ہیں۔شی کایہ رویہ ان کیلئے ایک طرح کی یقین دہانی تھی کہ اگرمغرب غیرمستحکم ہے تومشرق ایک پختہ لائحہ عمل رکھتاہے۔
بظاہریہ تقریب دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے اسی برس مکمل ہونے کی یاد میں تھی،مگر درحقیقت اس کے پس منظرمیں ایک اورپیغام چھپا تھاکہ یہ چین کی فتح کااعلان تھا۔شکست کے زخم کو قیادت کے تاج میں بدل دیناتاریخ کی بڑی قوموں ہی کاوصف ہے۔چین دنیاکویہ دکھاناچاہتاتھاکہ اب چین محض ماضی کی یادوں میں نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت میں قدم رکھ رہاہے۔ اب چین ماضی کازخم خوردہ ملک نہیں بلکہ مستقبل کارہنماہے۔اب وہ محض ایک شکست خوردہ قوم نہیں بلکہ ایک فاتح طاقت ہے جواپنے ماضی کے زخموں کومرہم لگاکر مستقبل کی قیادت کے منصب پر فائزہورہی ہے۔ یہ منظرتاریخ کاایک استعارہ تھا شکست کی یادکوفتح کے اعلان میں بدل دیناگویاایک شکست کی یادکوفتح کے اعلان میں بدل دیاگیا۔
شی کے عقب میں جوفوج کھڑی تھی،وہ دنیا کیلئے ایک انتباہ تھی۔یہ محض عسکری سازوسامان نہ تھابلکہ ایک نظریہ تھاکہ اب طاقت کاتوازن بدلنے والا ہے۔مغرب نے ہمیشہ اپنی فوجی قوت کے ذریعے دنیاپرتسلط قائم رکھامگرآج چین نے یہ باورکرادیاکہ وہ اب کسی کے تابع نہیں۔شی کے پیچھے کھڑی وہ فوج تھی جسے مغرب کامقابلہ کرنے کیلئے تیارکیاگیا ہے۔یہ صرف عسکری قوت کا اظہار نہ تھابلکہ ایک عزم تھاکہ سمندروں اور فضاؤں میں اب طاقت کاتوازن بدلنے والاہے۔شی کے ساتھ موجودفوجی طاقت اس امرکی شاہدتھی کہ چین نے اپنی عسکری تیاری کومغرب کے برابر بلکہ اس سے آگے بڑھانے کاعزم کرلیاہے۔چینی فوج کاجلوہ محض توپ اوربارودنہ تھابلکہ ایک نظریہ تھاطاقت اب مشرق کے ہاتھ میں ہے۔ ہتھیار صرف لوہے اوربارودکاڈھیرنہیں ہوتے، بلکہ ایک نظریہ اورایک اعتماد بھی ہوتے ہیں۔
تیانمن اسکوائرپرتین رہنماؤں کی موجودگی گویا ایک عہد کی تصویری سندتھی۔ تاریخ نے اس منظرکو اپنے صفحات میں ایک نئے آغازکے طورپرمحفوظ کرلیا۔شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ کھڑاہوناایک نئی تاریخ کی تحریرتھا۔ ( جاری ہے )