(گزشتہ سے پیوستہ)
شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ نظرآنا عالمی سیاست میں ایک نیامنظرتھا۔تیانمن اسکوائرمیں یہ اجتماع دراصل اس بات کااعلان تھا کہ مشرق اب اپنی راہیں خودطے کرے گا۔ یہ پہلی بارتھاکہ شی،پوتن اورکم اکٹھے نظرآئے۔تیانمن اسکوائرپر جسے’’ گیٹ آف ہیونلی پیس‘‘کہاجاتاہے ۔یہ منظرتاریخ کے باب میں ایک نئی سطرلکھ رہاتھا ۔ تیانمن اسکوائرپران کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ مشرقی دنیا ایک جھنڈے تلے جمع ہورہی ہے۔یہ تصویرعالمی سیاست کے مستقبل کاایک آئینہ ہے جس میں طاقت کانیا توازن جھلکتاہے۔یہ تصویرآئندہ نسلوں کیلئے ایک علامت کے طورپرمحفوظ ہوگی۔
یہ وہی مقام تھاجہاں1949ء میں ما ئوزے تنگ نے جمہوریہ چین کااعلان کیاتھا۔یہ جگہ تاریخ کے فیصلوں کی گواہ ہے۔بعد ازاں دس برس بعدیہی مقام سوویت رہنماخروشیف اورکم کے داداکی فوجی پریڈکی میزبانی کاگواہ بنا۔آج شی نے اسی ورثے کونئی معنویت دی۔گویاتاریخ اپنے دائرے کومکمل کرکے ایک نئے سفرپرروانہ ہوئی۔ وہی مقام جہاں ماؤنے جمہوریہ کااعلان کیا تھا، آج شی نے ایک نئی تاریخ کی صدا بلند کی۔ تاریخ اپنے دائرے میں پھرسے لوٹ آئی۔آج اسی مقام پرشی نے ایک نیاباب کھولا۔گویاتاریخ ایک دائرہ ہے جواپنے محورپردوبارہ گھوم آیا۔
یورپی اورامریکی حلقے اس تقریب کودیکھ کر اضطراب میں مبتلاہوگئے ہیں اوران کے دل میں بے چینی نے جنم لے لیاہے۔طاقت کے ترازومیں اب پلڑابدلتا دکھائی دینے لگا۔ یورپ اورامریکامیں پریشانی کی لہریں دوڑتی نظرآئیں۔ کچھ چہروں پر اس طاقت کے مظاہرے نے اثردکھایا اور طاقت کایہ مظاہرہ ان کیلئے ایک چیلنج بھی تھااورایک انتباہ بھی کہ اب عالمی سیاست یک قطبی نہیں رہی۔ دنیا کے توازن میں ایک نیاپلڑا وجود میں آرہاہے اور اب دنیاکی سیاست میں ان کی اجارہ داری کو خطرہ لاحق ہے۔یہ پریشانی محض سیاسی نہ تھی بلکہ تہذیبی بھی۔ مغرب صدیوں سے اپنی برتری کا خوگر رہا ہے، اوراب وہ اس کے زوال کی پہلی آہٹیں سن رہا ہے۔
شی نے اپنے خطاب میں یہ سخت اعلان بھی کیا کہ2035ء تک تائیوان واپس آجائے گا اور دوبارہ چین کاحصہ بنے گا۔یہ بیان محض ایک سیاسی دعوی نہیں بلکہ قومی غیرت اورتہذیبی ورثے کامسئلہ ہے۔یہ بیان تائیوان کیلئے ایک خوف اوردنیاکیلئے ایک اعلان تھا۔چین ہمیشہ تائیوان کواپناصوبہ سمجھتاآیاہے،اوراب اس نے دنیاکے سامنے یہ عزم ظاہرکیاہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اس ادھورے خواب کوحقیقت بنائے گا۔یہ اعلان تائیوان کے عوام کیلئے خوف اورچین کے عوام کیلئے امیدکاپیغام اورخواب کی تعبیر تھا۔
شی نے طاقت کے استعمال کے امکان کو ردنہیں کیا۔جوہتھیاردکھائے گئے،ان میں زیادہ تربحری قوت کی برتری کوظاہرکررہے تھے۔ بحری قوت کی نمائش اس بات کااعلان تھی کہ چین اب تائیوان کے گردسمندری دائرہ مضبوط کررہاہے۔شی نے طاقت کے استعمال کوردنہیں کیا۔جوہتھیاردکھائے گئے،وہ خاص طورپربحری قوت کی برتری ظاہر کر رہے تھے اور یہ اشارہ تھاکہ تائیوان کے گرد سمندروں میں چین کادائرہ تنگ ہوتاجارہا ہے۔یہ سمندری حصار کسی طوفان کاپیش خیمہ ہے۔ یہ دراصل ایک پیغام تھاکہ چین اپنے سمندری دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنارہا ہے۔ تائیوان کے گرد سمندروں پربالادستی کاخواب اب قریب ہے۔شی نے طاقت کے استعمال کے امکان کوردنہیں کیا۔جوہتھیارپیش کیے گئے،ان میں زیادہ تر بحری صلاحیتوں سے متعلق تھے۔یہ تائیوان کے گرد سمندروں میں اپنی بالادستی کااشارہ تھا۔ گویا سمندر اب مشرق کے قدموں کے نیچے آرہے ہیں۔
یوکرین کی جنگ میں الجھامغرب اس تقریب میں غیرحاضرتھا۔چین نے اپنی موجودگی اور مغرب نے اپنی غیرموجودگی کے ذریعے دنیا کو حقیقت بتادی۔چین نے اس موقع پرایک طرف اپنی طاقت دکھائی اوردوسری طرف مغرب کی کمزوری کو عیاں کردیا۔ یہ غیرحاضری اس حقیقت کواجاگر کرتی ہے کہ مغرب اپنی اندرونی مشکلات میں پھنس چکاہے اورمشرق اپنے قدم آگے بڑھارہا ہے۔
چین کے بحری بیڑے،چھٹی نسل کے طیارے اورمسلسل مشقیں اس بات کااعلان ہیں کہ وہ امریکاکی ’’جزائرکی زنجیر‘‘توڑنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکانے بحرالکاہل میں چین کو محدود رکھنے کیلئے جزائرکاایک حصارکھڑاکیاتھامگرچین اب اس حصار کو توڑکر سمندروں میں آزادانہ حرکت کرنے کاعزم رکھتاہے۔چین اب اسے توڑنے کیلئے اپنی مشقیں اوربیڑے تیار کررہاہے۔چین بحری بیڑوں کی حرکت،چھٹی نسل کے طیاروں اورمسلسل مشقوں کے ذریعے یہ ظاہرکررہاہے اورچین کایہ پراسرارعمل اس بات کا اعلان ہیں کہ وہ امریکاکی جزائر کی زنجیرکوتوڑنے پرتلاہواہے جس کے ذریعے وہ چین کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔
سمندروں پرحکمرانی ہمیشہ عالمی طاقت کیلئے شرطِ اول رہی ہے۔برطانیہ نے سمندروں پر حکمرانی کر کے سلطنت قائم کی۔امریکا نے بھی یہی کیااوراپنی بالادستی بحری بیڑوں کے سہارے قائم رکھی۔اب چین بھی اسی خواب کی تعبیر چاہتا ہے۔ اب چین اسی تاج کی طرف بڑھ رہاہے۔یہ محض خواب یامستقبل کی دستک اورمحض عسکری حکمتِ عملی نہیں ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی بیداری کا استعارہ ہے۔دنیاکی سب سے بڑی بحری قوت کا تاج اب زیادہ دور نہیں۔چین سمندروں پر حکمرانی کے خواب کو حقیقت کے قریب لے آیاہے۔چین کے خواب میں سمندروں پرحکمرانی محض ایک عسکری مقصدنہیں بلکہ تہذیبی بیداری کااستعارہ ہے۔ جب کوئی قوم سمندروں پرقابض ہوجاتی ہے تواس کے خواب بھی لامحدودہو جاتے ہیں۔(جاری ہے)