Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پی ٹی آئی میں سب کچھ ٹھیک نہیں

پی ٹی آئی میں اب فارورڈ بلاک کی باتیں ہونے لگی ہیں۔جماعت کئی دھڑوں میں تقسیم ہے۔جماعت کےاندرہی نہیں،سرعام بھی ایک دوسرے کےخلاف دشنام طرازی ہورہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان باتوں کا چرچا ہے۔ایک طوفان سا بپا ہے جس سے گھمبیر صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ایک بات تو واضح ہے کہ جماعت میں سب کچھ ٹھیک نہیں،جو کچھ ہو رہا ہے وہ جماعت کی ٹوٹ پھوٹ اور بے چینی کو ظاہر کرتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جس سے جماعت کمزور اور عوام میں بھی جماعت کمزور ہوتی دکھاتی ہے۔جماعت کی مقبولیت اور اہمیت کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔جماعت کے پاس سٹریٹ پاور بھی نہیں رہی کہ جس سے اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کو مذاکرات کے لئے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکے۔ خان صاحب دو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں۔قید تنہائی میں وقت گزارتے ہیں ان کا الزام ہے کہ پنجاب حکومت کی ایما ء پرجیل حکام ان کے بیرک کی بجلی بھی بند کر دیتے ہیں جس سے دن میں بھی رات کا گماں ہوتا ہے شدید حبس اور گرمی خان صاحب کا جو حال کر رہی ہے اسے بیان کرتے ہوئے بہن علیمہ خاں کا کہنا ہے، خاں صاحب کی ذہنی حالت اس ساری صورت حال سے بہت ڈسٹرب اور خراب ہے ان تک فیملی ممبران،وکلا اور پارٹی رہنمائوں کو رسائی حاصل نہیں علیمہ اور دیگر رہنمائوں کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ واضح عدالتی حکم کے باوجود انہیں خاں صاحب سے ملنے نہیں دیا جاتا کچھ لوگ ان کی صحت بارے تبصرہ کرتے ہیں کہ بالکل ٹھیک ہے جبکہ کچھ رہنما اس شک و شبے کا اظہاربھی کر رہے ہیں کہ خاں صاحب کی صحت ٹھیک نہیں،مختلف بیماریوں نے انہیں گھیر رکھا ہے۔جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں خاں صاحب اور ان کی پارٹی کی مشکلات اور مسائل بڑھ رہے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے رویے سے بھی بالکل نہیں لگتا کہ جماعت یا خاں صاحب کی مشکلات میں کوئی کمی آ سکے گی بہت سے دانشور اور تجزیہ کار، جو سیاست اور موجودہ حالات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ آنے والے دن پی ٹی آئی کی سیاست کے لیے انتہائی سخت ہوں گے سیاست میں بھی ہٹ دھرمی کام نہیں آتی۔
بعض امور میں مصلحت سےکام لینا پڑتا ہے لیکن شاید ایسا پی ٹی آئی کا نصیب نہیں۔اس لیے اس کی مشکلات بڑھ رہی ہیں‘مستقبل میں بھی ان مشکلات میں کوئی کمی آتے نہیں دیکھ رہے‘عدالتوں سے رہنمائوں اور نظریاتی ورکرز کا سزا یاب ہونا،نااہل قرار دیا جانااس بات کی خبر دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا پوری طرح دھڑن تختہ ہو گیا ہے تھوڑا بہت کچھ دم خم باقی ہے تو آنے والے وقت میں وہ مزید دم توڑتا دکھائی دے گا پی ٹی آئی میں جو دراڑیں ہیں گزرتے وقت کے ساتھ وہ مزید واضح ہوتی جا رہی ہیں اب نازیبا ویڈیوز اور آڈیوز کا بڑا اسکینڈل بھی سامنے آیا ہے جس کا سوشل میڈیا پر ان دنوں بڑا چرچا ہے حتی کہ پی ٹی آئی کے فیورٹ یوٹیوبر بھی نازیبا ویڈیوز اورآڈیوز کو خوب اچھال رہے ہیں۔اگرچہ ان آڈیوز اور ویڈیوز کی فرانزک ہونا باقی ہے جس کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ یہ درست ہیں یا صنم جاوید اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بدنام کرنے کے لئے یہ جعلی ویڈیوز تیار کی گئی ہیں تاہم ان کے باعث علی امین گنڈا پور اور صنم جاوید کی خوب بدنامی ہو رہی ہے۔آج کل سارے سوشل میڈیا پرانہی ویڈیوز اور آڈیوز کاشور ہے جس نے مقبولیت اور پذیرائی کی تمام حدوں کو پارکر لیا ہے سچ تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حصے میں صرف بدنامی آ رہی ہے۔اس ساری صورتحال نے علی امین گنڈا پور کی وزارت اعلیٰ کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،جو رہنما پہلے سے ہی علی امین کے خلاف ہیں اور ایک مضبوط لابی کے طور پر کام کر رہے ہیں،ان کی کوششیں علی امین گنڈاپور کو ان کے منصب سے ہٹانے کےلیے اور بھی تیز ہو گئی ہیں۔جس کے باعث علی امین کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے اپنی جماعت کے رہنمائوں کے طرز عمل اور اپنے بارے میں گفتگو اور الزامات سے وہ انتہائی پریشان ہیں جب سے یوٹیوبرز نے ان ویڈیوز کو ریلیز کیا ہے،یہ ایشو ٹاپ ٹرینڈ بناہوا ہےپی ٹی آئی کی اپنی حالت بہت دگرگوں ہے،کوئی بھی رہنما اس کے دفاع کے لیے سامنے نہیں آ رہا۔
علی امین گنڈاپور نےبھی ان ویڈیوز کے تناظر میں اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا مسلسل چپ سادھ لی ہے جس سے لگتا ہے دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ بات عام ہو جائے اور میڈیا پر آنے لگے،خاص طور پر سوشل میڈیا کسی ایشو کو ٹاپ ٹرینڈ بنا دے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس نازیبا ویڈیوز اسکینڈل میں ملوث افراد کا کیا حال ہو گاصنم جاوید پی ٹی آئی کی ایک مقبول پرجوش رہنما ہیں اور اپنی بعض مخصوص حرکات کے باعث ہمیشہ سے میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں شہرت وہی اچھی،جو عزت سے حاصل ہو- بدنامی کی شہرت جب کسی کے حصے میں آتی ہے تو کہیں کا نہیں چھوڑتی صنم جاوید نے جو شہرت سمیٹی ہے اس سے ان کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ تمام تر رسوائیاں ان کے حصے میں آئی ہیں۔اب سوال یہ بھی ہو رہا ہےکہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کیا اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مائنس عمران کی باتیں ہونےلگی ہیں- یہ خبریں گزشتہ کئی ہفتوں سے گردش میں ہیں۔قائدین کی ایک دوسرے پر تنقید اور علیمہ خاں کا مائنس عمران کے حوالے سے بیان ایسی خبروں کو تقویت دے رہا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کی بہن علیمہ خاں کا کہنا تھا میرا خیال ہے کہ عمران خاں اب مائنس ہی ہو گئے ہیں۔پی ٹی آئی کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ لڑنے جھگڑنے کے ہی موڈ میں رہتی ہے۔اس کی وجہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی یادوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ جاری کشمکش نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی معاملات ہیں جہاں مستقل بنیادوں پر ایک دوسرے کے ساتھ تو تو میں میں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔کئی بار تو آپس کے لڑائی جھگڑے اور ایک دوسرے پر دشنام طرازی کی باتیں جب بند کمروں سے نکل کر میڈیا پر آئیں تو عوام الناس کو بھی خبر ہو گئی کہ پارٹی کے اندر کیا چل رہا ہے۔ دوسرے درجے کی لیڈرشپ کئی وجوہات کی بنا پر باہم دست و گریبان ہے اور بات گالی گلوچ تک پہنچ چکی لے۔ پی ٹی آئی ایک ایسی پارٹی بن چکی ہے جس میں ہر سطح پر تقسیم نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے اسے بااختیار حلقوں میں ناکامی کا سامنا ہے‘وہ لوگ جنہوں نے پارٹی کے اچھے دن دیکھ رکھے ہیں وہ اس صورت حال سے بہت مضطرب اور پریشان ہیں عمران خاں بھی اڈیالہ میں مقید ہونے کے باعث بہت سے مرکزی رہنمائوں کے ساتھ رابطے میں نہیں۔پارٹی کی اندرونی لڑائیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔ہر کوئی دوسرے کی ٹانگ کھنچنے کے لئے ہمہ وقت تیار نظر آتا ہے۔پارٹی میں جو ہو رہا ہے ، جو پریشانی اور اضطراب ہے وہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ پارٹی کا جو حال ہو چکا ہے یا کر دیا گیا ہے، اگلے الیکشن تک شائد وہ الیکشن لڑنے کے ہی قابل نہ رہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی پی ٹی آئی کو بہت مہنگی پڑی ہے۔ جو اسٹیبشلمنٹ سے لڑتا ہے اسے خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں