Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

غیر ملکی کمپنیاں اور پاکستان کی زمینیں

پاکستان کی زمینیں غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کرنے یا لیز پر دینے کا مسئلہ اب سے ربع صدی قبل بھی قومی حلقوں میں زیر بحث آیا تھا اس تناظر میں شائع ہونے والا ایک مضمون قارئین کی خدمت میں دوبارہ پیش کیا گیا جا رہا ہے:
گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے ایک فیصلے نے چونکا دیا جس کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے لیے زرعی اراضی لیز پر لینے کی اجازت دے دی گئی ہے اور فارمنگ کے لیے دیگر متعلقہ سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کا مطلب یہ ہے کہ کئی کئی ہزار ایکڑ زمین پر مشتمل بڑے بڑے زرعی فارم بنائے جائیں تاکہ زراعت کے جدید ترین وسائل کا استعمال آسانی کے ساتھ کیا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔ موجودہ صورت حال میں زراعت کے جدید وسائل اور تکنیک کو بروئے کار لانا مشکل ہے، اس لیے کہ چند ایک بڑے زمینداروں کو چھوڑ کر زمین مالکان کےپاس اتنی زمین نہیں ہےکہ وہ بڑے زراعتی فارموں کی طرح جدید تکنیک اور وسائل کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کےحصول میں کامیاب ہو سکیں۔ اس لیے اس کا حل یہ نکالا گیا ہےکہ کئی کئی ایکڑ زمین کے بڑے بڑے زرعی فارم بنائے جائیں اور ملک کی زراعت کو ترقی دی جائے۔
اس مقصد کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں آگے آرہی ہیں اور انہیں موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں اور پاکستان میں بڑے بڑے زراعتی فارم قائم کر کے ملک کی زراعت کو ترقی دینے میں ہاتھ بٹائیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مراد ایسے بین الاقوامی ادارے ہیں جن کے کاروبار ایک سے زیادہ ملکوں میں موجود ہوں، یا وہ جن میں مختلف ممالک کے سرمایہ کار شریک ہوتے ہیں اور وہ ایک اجتماعی نظم کے تحت سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی یہ بات چلی تھی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی اراضی خریدنے کی اجازت دینےکافیصلہ کیاگیاتھامگر ہماری معلومات کے مطابق ریو نیو بورڈ کی طرف سے بعض قانونی رکاوٹوں کا حوالہ دیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہ سلسلہ وقتی طور پر رک گیا تھا۔ مگر گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہمارے خیال میں ریو نیو بورڈ کے قانونی اشکالات کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی اراضی خریدنے کی بجائے لیز پر لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اس پس منظر میں یہ فیصلہ پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے ایک مفید اور ضروری فیصلہ سمجھاجائے گا اوراس سلسلہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور محنت کو پاکستان کے ساتھ خیرخواہی اور پاکستان پر احسان تصور کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا جائے گا لیکن ماضی قریب کے ایک تلخ تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اس فیصلہ کے مضمرات اور نتائج کا جائزہ لیتے ہیں تو ذہن کی اسکرین پر خدشات اور خطرات کے مختلف مناظر کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔
اب سے کوئی ۸۰ برس قبل تک فلسطین خلافت عثمانیہ کی عملداری میں اس کا ایک صوبہ تھا اور پورے فلسطین میں کسی ایک جگہ بھی کوئی یہودی بستی موجود نہیں تھی۔ عثمانی خلفاء نے پابندی لگا رکھی تھی کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہنے والے یہودی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے وزٹ ویزے پر فلسطین آسکتے ہیں اور چند روز قیام کرسکتے ہیں لیکن انہیں فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ عثمانی خلفاء کے علم میں یہ بات تھی کہ یہودی فلسطین میں بتدریج آباد ہونے اور اس پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست قائم کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں عثمانی خلافت کا رویہ بے لچک تھا اور وہ کسی قیمت پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ چنانچہ سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہےکہ یہودی کی عالمی تنظیم کے سربراہ ہر تزل نے متعدد بار ان سے خود ملاقات کر کے خواہش ظاہر کی کہ وہ فلسطین میں زمین خرید کر محدود تعداد میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں مگر سلطان مرحوم نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ ایک بار ہرتزل نے سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے سامنے چیک بک رکھ کر منہ مانگی رقم دینے کی پیشکش کی جس کے جواب میں سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے انتہائی تلخ لہجے میں ہرتزل کو ڈانٹ دیا اور اس سے کہا کہ میری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد وہ ہرتزل سے ملاقات کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں