اے اہلِ وطن!آج ہم اس لمحے کے دہانے پرکھڑے ہیں جوصدیوں کی خاموشی اورآزمائش کے بعدہمارے لیے روشن روشنی لے کر آیاہے۔وہ لمحہ جب امتِ مسلمہ کے لئے ہرزمین کے ذرے میں شعورکی چمک،ہرآسمان میں امیدکانوراور ہردل میں عزم وغیرت کی تپش محسوس ہورہی ہے۔
یاد کرووہ دن جب حضرت محمدﷺکی قیادت میں اہلِ مدینہ نے مہاجروانصار کے ساتھ مل کرایک نیاعہد قائم کیا،یادکروبدرکے وہ دن جب ایمان کی طاقت نے چھوٹی جماعت کوبڑی قوت پرغالب کردیا:کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پراللہ کے حکم سے غالب آگئیں۔ (البقرہ:249 )
آج وہی روح،وہی عزم،وہی یقین ہماری رگوں میں خون بن کردوڑرہاہے۔پاکستان وہ قلعہ ہے جودشمنوں کے لئےرازتھا،اورآج وہ تلوار ہے،وہ چراغ ہے،وہ سورج ہے جس سے مشرق روشن ہورہاہے۔یہ وہ پاکستان ہےجوایمان کی بنیادپرمضبوط،اتحادکی رسی سے بندھا ،اور تاریخ کی نظروں میں ابھرتاہے۔یہ لمحہ ہمیں یاددلاتاہے کہ کوئی قوت مسلم دنیاکوبانٹ نہیں سکتی،کوئی چال امتِ اسلام کی یکجہتی کوکمزورنہیں کرسکتی۔یہ وہ وقت ہے جب پاکستان اورامت کی تقدیرایک نئے عہدکی طرف بڑھ رہی ہے۔
آج کی اس گھڑی میں تاریخ اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمیں آوازدے رہی ہے۔صدیوں کی محکومی کے بعدوہ لمحہ قریب آگیاہےجب امتِ مسلمہ کے قدموں تلےزمین لرزتی ہے اورآسمان اپنی آنکھوں سےایک نیامنظردیکھنےکوبے قرار ہے ۔یادکروبدرکے ریگزارکو، یاد کرو احدکے میدان کو،یادکروصلاح الدین کاوہ لمحہ جب صلیبی قلعے اس کے قدموں تلے کانپ رہے تھے۔ آج وہی روح، وہی ایمان، وہی غیرت،پھرسے ہماری رگوں میں خون بن کردوڑرہی ہے۔پاکستان ہاں، یہ پاکستان جوکبھی دشمنوں کےلئےایک رازتھا،آج ان کے لئے ایک بجلی ہے، ایک تلوارہے،ایک قلعہ ہے۔ اوردنیاکوسن لیناچاہئے کہ یہ سرزمین اب نہ جھکے گی،نہ بکے گی، نہ دبے گی۔یہ وہ پاکستان ہے جوایمان کامحور،اسلام کاقلعہ، اور مشرق کاسورج ہے۔
اہلِ نظر!وقت کی گردشیں ہمارے سامنے ایک نیامنظرنامہ رقم کررہی ہیں۔دنیاکی سیاست کادریائے بلاخیزایک نئے موڑپرآپہنچاہے۔ تاریخ کے افق پروہی منظرابھررہاہے جوکبھی بدروحنین کے میدانوں میں دکھائی دیاتھاجب ایمان کی روشنی نے اندھیروں کو شکست دی اور کمزور سمجھی جانے والی جماعت نے بڑے بڑے جباروں کوسرنگوں کردیا۔
اہلِ وطن،اہلِ ایمان!آج کی یہ نشست محض تجزیہ نہیں،یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ ہماری آنکھوں کے سامنے اپنی نئی تقدیررقم کررہی ہے۔وقت کی عدالت میں ہم سے یہ سوال کیاجا رہاہے،کیاتم زمین میں خلافت کےامین بن کرکھڑے ہویاغلامی کے بوجھ تلے جھکے رہوگے؟ قرآن کہتا ہے:ہم نےزبورمیں لکھ دیاہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ (الانبیاء:105) یہی آیت آج ہمیں یاددلاتی ہے کہ زمین کی وراثت ان کے ہاتھ میں ہے جوایمان وعمل کے چراغ روشن کرتے ہیں۔
یہ ایک تاریخ سازلمحہ تھاجب وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے طیارے کوسعودی فضائوں میں داخل ہوتے ہی شاہی فضائیہ کےجنگی جہازوں نے اپنے حفاظتی حصارمیں لے لیا۔ شاہی جنگی جہازوں نے اس کواپنے آہنی پروں میں یوں لپیٹ لیاجیسے عقاب اپنے بچے کوطوفان سے بچاتا ہے،سعودی شاہی فضائیہ کے طیارے اپنے آہنی بازوپھیلائے،جیسے محافظ فرشتے مہمان کے گردحصار باندھ لیتے ہیں تویہ محض سفارتی پروٹوکول نہ تھا،یہ ایک عہدکی تجدیدتھی۔گویایہ استقبال محض ایک پروٹوکول نہ تھابلکہ ایک پیغام تھا، وفا، اعتماد اور اخوت کا۔یہ محض ایک پروٹوکولری تقریب نہ تھی بلکہ ایک عہدکااعلان تھا۔جب شہبازشریف کاطیارہ سعودی فضائوں میں داخل ہوااورجنگی جہازوں نے اس کوحصارمیں لیاتویوں لگا جیسے قرآن کی یہ آیت عملی صورت اختیارکرگئی ہو:وہی ہے جس نے آپ کی مدداپنی نصرت اورمومنوں کے ذریعے کی۔ (الانفال:62)
کنگ خالدایئرپورٹ پر21توپوں کی گونج اورولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کی پیش قدمی نے اس پیغام کومزیدجلابخشی،تواس منظرنے ایک نئے عہدکی پیش بندی کااعلان کر دیا کہ پاکستان اب دوست نہیں بلکہ اہلِ بیت الامم کی طرح ایک ہی خاندان کارکن ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی خودپیش قدمی نے اس پیغام کوعالمگیرگواہی دی کہ پاکستان اب عرب دلوں کی دھڑکن ہے۔کنگ خالدایئرپورٹ پراکیس توپوں کی گونج گویا ناقوسِ تاریخ تھاجوکہہ رہاتھایہ اتحاد محض وقتی رسم نہیں،یہ مستقبل کامعاہدہ ہے۔
اے اہلِ وطن آج کے دن تاریخ نے ہمیں بتایاکہ پاکستان تنہانہیں۔سعودی عرب کی فضاؤں میں جب ہمارے وزیراعظم کاطیارہ داخل ہوا توشاہی جنگی جہازوں نے اسے اپنے آہنی پروں میں یوں لپیٹ لیاجیسے عقاب اپنے بچے کوطوفان سے بچاتاہے اورجب کنگ خالد ایئرپورٹ پر اکیس توپوں کی سلامی اورولی عہدمحمدبن سلمان نے خودآگے بڑھ کر استقبال کیا،تویہ پیغام تھاکہ پاکستان اورسعودی عرب کے رشتے اب پاکیزہ خون کی سیاہی سے لکھے گئے ہیں۔
پاکستان اورسعودی عرب کے مابین طے پانے والایہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کی نئی بنیادرکھتاہے۔یہ معاہدہ اس حقیقت کا مظہرہے کہ دونوں ممالک محض معاشی شراکت دار نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک دوسرے کے دست وبازوبننے جا رہے ہیں۔یہ معاہدہ کوئی خشک دستاویزنہیں،یہ خونِ صداقت کی تحریرہے۔یہ وہ اعلان ہے کہ اب ایک کادکھ دونوں کادکھ ہے،ایک کی حفاظت دونوں کی حفاظت ہے۔جس طرح مدینہ کے انصارنے مہاجرین کے ساتھ بھائی چارہ باندھاتھا،اسی طرح یہ معاہدہ نئی اسلامی اخوت کی بنیادہے۔
یہ معاہدہ اسی میثاقِ مدینہ کی بازگشت ہے جونبی اکرمﷺنے اہلِ مدینہ کے ساتھ باندھاتھا۔ وہاں بھی دفاع مشترک تھا،یہاں بھی۔وہاں بھی دشمن پرحملہ سب پرحملہ تھا،یہاں بھی یہی اعلان ہے۔یہ معاہدہ صرف ایک کاغذی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک نئی میثاقِ مدینہ ہے۔جس طرح رسول اللہﷺنے مہاجروانصارکو ایک قوم بنایاتھا،اسی طرح یہ معاہدہ پاکستان اورعرب کوایک جان،ایک جسم بنارہاہے۔پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان جو معاہدہ طے پایا،اسے محض کاغذی سطورپرتحریرنہ سمجھاجائے،یہ ایک تاریخ کانیاباب ہے۔یہ عہد ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اخوت کی بنیاداب صرف جذباتی وابستگی نہیں رہے گی بلکہ عملی حکمتِ عملی اوراسٹریٹجک تعاون پر استوارہوگی۔
یادرکھویہ شق بےمثال اورنہایت غیرمعمولی ہے کہ اگرکسی ایک پرجارحیت ہوگی تواسے دونوں پرجارحیت سمجھاجائے گا۔ایک پرحملہ دونوں پرحملہ سمجھاجائے گا۔گویاایک جسم،ایک جان کی مانندیہ تعلق اب دشمن کے وارکے خلاف ڈھال بننے جارہاہے۔یہ الفاظ معمولی نہیں کہ ایک پرحملہ دونوں پرحملہ ہے۔یہ الفاظ گونجتے ہیں تولگتاہے کہ تاریخ کے اوراق پرنئی بیعت لکھی جارہی ہے۔یہ عالم اسلام کی نیٹوہے،مگرایمان اوراخوت کے رشتے سے جڑی ہوئی۔یہ اعلان کہ ایک پرحملہ دونوں پرحملہ ہے۔دراصل قرآنی اصول کی یاددہانی ہے۔یہ شق کہ ایک پرحملہ سب پرحملہ ہےاس آیت کی تفسیرہے: ِمومن توبس بھائی ہیں۔(الحجرات:10)
گویاایک پیکٹ آف فیٹ،ایک مشترکہ تقدیر۔ یہ وہ بات ہے جونیٹوممالک کے معاہدوں میں توملتی ہے،مگرمسلم دنیامیں پہلی بارکسی معاہدے میں اس صراحت کے ساتھ لکھی گئی ہے۔یہ بھائی چارہ اب تحریری معاہدوں سے نکل کرعملی میدان میں داخل ہورہاہے۔یہ وہ بھائی چارہ ہے جواب عملی سیاست میں ڈھل رہاہے۔
(جاری ہے)