Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

غیر ملکی کمپنیاں اور پاکستان کی زمینیں

(گزشتہ سے پیوستہ)
سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے خلاف اس کے بعد تحریک چلی اور انہیں خلافت سے معزول کر کے نظربند کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف ترکی میں چلنے والی تحریک اور ان کی معزولی میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انہیں خلافت سے معزولی کا پروانہ پہنچانے والوں میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی شامل تھا۔ ۱۹۲۰ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کےبعد فلسطین اس کی عملداری سے نکلا تو اسے برطانیہ نے اپنےکنٹرول میں لے لیا اور برطانوی گورنر کی زیر نگرانی یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کاسلسلہ شروع ہو گیا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے یہودی آتے اور فلسطین میں زمین خریدکر آبادہوجاتے۔ اس موقع پر سرکردہ علماء کرام نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ فتویٰ دیا کہ چونکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ریاست قائم کرنے کے خواہشمند ہیں اس لیے یہودیوں پر فلسطین کی زمین فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے اور فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اراضی یہودیوں کو فروخت نہ کریں۔
اس فتویٰ کے سلسلہ میں اگر قارئین مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں تو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’بوادر النوادر‘‘ میں اسی موضوع پر خود ان کا تفصیلی فتویٰ موجود ہے اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر علماء کرام کی یہ مہم کارگر نہ ہوئی اورچونکہ یہودی دگنی تگنی قیمتوں پر زمین خرید رہے تھے اس لیے فلسطینیوں نے رقم کی لالچ میں علماء کرام کے فتویٰ کو نظرانداز کر دیا جس کا نتیجہ آج پون صدی کے بعد سب کے سامنے ہےکہ فلسطین کے بیشتر علاقوں پر یہودی قابض ہیں۔ اسرائیلی ریاست نہ صرف قائم ہو چکی ہے بلکہ پوری عرب دنیا کے لیے ناسور کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے، بیت المقدس پر یہودی اقتدار قائم ہو گیا ہے، فلسطینی خود اپنے ملک میں بے وطن تصور کیے جا رہے ہیں جبکہ یہودیوں اور ان کے عالمی استعماری سر پرستوں نے پوری دنیا میں ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
کچھ عرصہ سے بعض رپورٹوں میں پاکستان کے اندر خانیوال سے سیالکوٹ تک ’’مسیحی ریاست ‘‘ کے قیام کے منصوبے کا تذکرہ سامنے آرہا ہے جس کے تحت ۲۰۲۵ء تک اس ریاست کو وجودمیں آنا ہے۔ ابتداء میں ہم اسے دیوانے کا خواب سمجھتے رہے لیکن اس علاقہ میں مختلف مقامات پر بیسوں خالص مسیحی کالونیوں کا قیام عمل میں آچکا ہے جو اسی رفتار میں قائم ہوتی رہیں تو ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اور اب اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں پر مشتمل ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی اراضی لیز پر لینے کی اجازت نے اس منصوبے کے قابل عمل ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنے دیا۔ اگرچہ وفاقی کابینہ کے فیصلے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی اراضی خریدنے کی بجائے لیز پر لینے کی اجازت دی گئی ہے لیکن زمین کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی لیز کی کوئی میعاد فیصلے میں مذکور ہے اس لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زمین فروخت کرنے یا لیز پر دینے سے عملاً کوئی فرق نہیں پڑے گا اور لیز پر دینے سے بھی ان خطرات اور خدشات میں کوئی کمی نہیں ہوتی جن کا ہم نے سطور بالا میں تذکرہ کیا ہے۔
ہمارےپاس اس کی ایک عملی مثال موجود ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے انگریز گورنر سر موڈی نے چنیوٹ کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے پر قادیانیوں کو زمین لیز پر دی تھی جہاں انہوں نے ربوہ کے نام سے شہر آباد کیا اور اب تحریک ختم نبوت کے مسلسل مطالبہ پر اس کا نام تبدیل کر کے ’’چناب نگر‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔ یہ زمین اب بھی سرکاری کاغذات میں ’’صدر انجمن احمدیہ‘‘ کے نام لیز پر ہے لیکن عملاً اس سے کوئی فرق رونما نہیں ہوا وہاں لیز والی زمین پر اب بھی خالصتاً قادیانی کالونی ہے جہاں کسی مسلمان کو رہنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کی حیثیت ریاست در ریاست کی ہے جسے ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کے مطالبہ کو ابھی تک پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے نام پر زرعی اراضی لیز پر دینے کے حکومتی فیصلے پر ہم نے اپنے خدشات اور خطرات وضاحت کے ساتھ پیش کر دیے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ قوم کے ہر طبقہ کے سنجیدہ اور محب وطن عناصر ان خطرات کو سنجیدگی کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے ان کی روک تھام کے لیے اپنے بساط کی حد تک کردار ادا کرنے گریز نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں