Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عہد نوکاسنگِ میل

تاریخ کے صفحات پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تویہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں نظرآتی ہے کہ امتیں صرف شمشیروسناں سے نہیں بلکہ اتحادویکجہتی،بصیرت وحکمت اورباہمی اعتماد سے زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔ حجازکی سرزمین،جہاں سے کلم اللہ کی صدابلند ہوئی اوربرصغیرکی خاک،جس نے اسلام کے رنگ میں اپنی تہذیب کوسنوارا،آج ایک ایسے سنگِ میل پر کھڑی ہیں جہاں دونوں کاہاتھ ملانا محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ تاریخ کے نئے باب کاآغازہے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض دوملکوں کادفاعی اشتراک نہیں،بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی طاقت کاعکس دیکھ سکتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جس پراہلِ دانش کہتے ہیں کہ زمانہ اپنے نئے موڑپرآن کھڑاہواہے۔ایک طرف ہنودویہودکی نگاہیں اضطراب میں ہیں،دوسری طرف چین اورترکی جیسے رفیق کاراس منظرنامے میں نئی جہتوں کااضافہ کر رہے ہیں۔ گویا مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیامیں طاقت کاتوازن بدل رہاہے اورپرانے سانچے ٹوٹ رہے ہیں۔
یہ مقالہ انہی تغیرات کاتجزیہ ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدے کے محرکات،اس کے خطے پر اثرات، چین وامریکاکی بدلتی پالیسیاں، اورفلسطین وایران کے تناظرمیں اٹھتے سوالات ۔مقصدیہ ہے کہ ہم واقعات کومحض خبریں نہ سمجھیں بلکہ انہیں تاریخ کی اس کڑی کے طورپرپڑھیں جس کاانجام آنے والی نسلوں کے نصیب لکھنے والاہے۔
ہندوستان کی سفارتی لغت میں دھچکاکوئی معمولی لفظ نہیں۔جب سعودی عرب جیسی عظیم قوت، جس کی دولت،سیاست اوردینی حیثیت مسلمہ ہے، پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتی ہے،تواس کا مطلب یہ ہواکہ دہلی کی خواب گاہوں میں اضطراب کی تیزہواچلنے لگتی ہے۔یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے کی طاقتوں کے توازن میں نئی ترتیب پیداہورہی ہے،اور یہودوہنود اپنی تنہائی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ہندوستان کی سیاست کے لئے یہ معاہدہ کسی زلزلے سے کم نہیں۔وہ سرزمین جسے دہلی کی نگاہ میں محض تیل کے ذخائراورسرمایہ کاری کا مرکز سمجھا جاتا تھا،آج اپنی سلامتی کے لئے اسلام آبادکی طرف دیکھ رہی ہے۔یہ دہلی کے لئے ایساہے جیسے صدیوں کے پرانے قلعے کی دیوارمیں اچانک دراڑپڑ جائے۔ پاکستان، جواپنے ایٹمی ہتھیاروں اورتجربہ کارفوج کے سبب پہلے ہی عالمِ اسلام کی ڈھال سمجھاجاتاتھا،اب سعودی عرب کے ساتھ باقاعدہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنی حیثیت کومزیدمضبوط کر رہا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دہلی کے خواب بکھرجاتے ہیں اورنئی حقیقتیں ابھرتی ہیں۔
دہلی کے ایوانِ حکومت میں ہلچل محض سیاسی نہیں بلکہ فکری بھی ہے۔یہ صرف حکومتِ ہندنہیں جوبے چین ہے،بلکہ اس کے دفاعی ماہرین بھی اپنی تحریروں اورتقریروں میں اندیشوں کااظہارکررہے ہیں۔وہاں کے دفاعی ماہرین کے چہروں پرپریشانی کی لکیریں کچھ اورہی کہانی سنارہی ہیں۔ایک طرف یہ اندیشہ کہ پاکستان کی جوہری حیثیت اس معاہدے کو غیر معمولی وزن دے رہی ہے،اوردوسری طرف یہ خوف کہ خطے کے عرب ممالک اب دہلی کی بجائے اسلام آبادکواپنا محافظ سمجھنے لگیں گے۔
ان کے خدشے یہ ہیں کہ پاکستان کی جوہری طاقت اگرعرب دنیاکے ساتھ جڑگئی،توخطے میں طاقت کاتوازن یکسربدل جائیگا۔خلیجی ممالک اب اپنی سلامتی کے لئے دہلی کی بجائے اسلام آبادپرانحصارکریں گے۔ ہندوستان کی سرمایہ کاری اورتعلقات کے باوجودسعودی عرب نے پاکستان کومنتخب کیا،جودہلی کے لئے ایک سیاسی شکست ہے۔یہ سب کچھ دہلی کے لئے اس وجہ سے بھی پریشان کن ہے کہ یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ مستقبل کے لئے ایک نئی سفارتی سمت متعین کررہی ہے۔
یہ معاہدہ قطر پراسرائیلی حملے کے بعدطے پایا۔گویاتاریخ نے ایک نیاباب کھولاہے کہ جب عربوں کی سلامتی پرحملہ ہواتوپاکستان نے اپنے بازو کھول دیے،یہ معاہدہ محض کاغذی کارروائی نہیں،بلکہ ایک جنگی فضاکے سائے میں وجودمیں آیا۔دوحہ پرحملہ نے عالمِ عرب کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ایسے میں پاکستان نے اپنے دفاعی تعاون کی پیشکش کی۔ وزیرِدفاع خواجہ آصف کاکہناکہ اگردیگر عرب ممالک چاہیں تووہ بھی اس میں شریک ہوسکتے ہیں،اس حقیقت کااعلان ہے کہ پاک،سعودی دفاعی معاہدہ محض دوملکوں کانہیں
بلکہ ایک پورے خطے کے لئے سلامتی کی ڈھال بننے پرآمادہ ہے۔دراصل یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نیادروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ یہ وہی جذبہ ہے جوصدیوں پہلے بغدادکے درودیوارپرحملہ ہواتو امت کادردبیدارہوگیاتھا۔
یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ ہربڑامعاہدہ اپنی سرحدوں سے باہراثرڈالتاہے۔ یہ معاہدہ صرف سعودی عرب یاپاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مغربی اورجنوبی ایشیا،دونوں خطوں میں اس کے اثرات نہ صرف دیکھنے کوملیں گے بلکہ اس کی واضح گونگ بھی سنائی دے گی۔ایک طرف اسرائیل کی سیاست لرزاں ہے، دوسری طرف ہندوستان کی حکمتِ عملی میں رخنہ پڑتا ہے۔مغربی ایشیامیں اسرائیل کوایک نئی مزاحمت کاسامناہوگا،اورعرب ممالک اپنی اجتماعی طاقت کو محسوس کرنے لگیں گے۔جنوبی ایشیامیں ہندوستان اپنی تنہائی کومزید گہرامحسوس کرے گا،اورخطے کے ممالک یہ سوچنے پرمجبورہوں گے کہ اصل طاقت کامرکزاب کہاں ہے۔ یوں یہ معاہدہ تاریخ کے دھارے میں جہاں ایک نئے موڑکی حیثیت رکھتا ہے وہاں دوبراعظموں کی سلامتی کاسنگِ میل بن سکتاہے۔
معاہدے کے متن میں صاف کہاگیاہے کہ کسی بھی جارحیت کودونوں ممالک کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔یہ جملہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک عہدہے۔یہ جملہ دراصل عہدِجدید کے میثاقِ مدینہ کی مانندہے جہاں مختلف قبائل نے ایک دوسرے کی سلامتی کواپنی سلامتی قرار دیا تھا۔ یہ اعلان خطے کے ہرجارح کوپیغام دیتاہے کہ اگروہ ریاض پرنظرڈالے گاتو اسلام آبادسامنے آجائے گا،اوراگراسلام آبادکوللکارے گاتوریاض جواب دے گاگویاپاکستان اورسعودی عرب نے اپنی تقدیروں کوایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیاہے۔وزیرِ دفاع نے خاص طورپرواضح کیاکہ اس میں کوئی خفیہ شق نہیں،اورنہ ہی کوئی جارحانہ پہلو۔یہ دفاعی ڈھال ہے،تلوارنہیں۔
سفارتکاروں کے بقول پاکستان اب مغربی ایشیا میں کلیدی حیثیت اختیارکررہاہے،جبکہ ہندوستان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ہندوستانی سفارتکارخود اعتراف کررہے ہیں کہ پاکستان مغربی ایشیا میں زیادہ مؤثر ہو رہا ہے۔خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لئے ترکی،چین اور پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔یہ حقیقت دہلی کے لئے دوہری ضرب ہے۔ایک تویہ کہ وہ خطے کے فیصلوں میں غیرمتعلق ہوتاجارہا ہے۔یہ منظرنامہ ہندوستان کے لئے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں،کیونکہ کل تک جس دہلی کوعربوں کے ساتھ دوستی پرنازتھا،آج وہ اجنبی دکھائی دے رہاہے۔دوسرایہ کہ یہ تینوں ممالک(پاکستان،تر کی، چین)ہندوستان کی سفارتکاری میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ یادرہے کہ کارگل اورآپریشن سندورکے وقت سفارتی طورپربھی یہ ممالک دہلی کے مقابلے پردکھائی دیے تھے۔
یہ حقیقت کہ سعودی عرب جیسے ملک نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیاجوکہ دہلی کاپراناشراکت داربھی رہاہیبے حدمعنی خیز ہے ۔تیل سے لیکرسرمایہ کاری تک،ہندوستان نے اربوں ڈالرکے تعلقات قائم کر رکھے ہیں لیکن اب یہی ملک پاکستان کے ساتھ دفاعی بندھن باندھ رہاہے۔یہ دہلی کے لئے اس سے بڑھ کردھچکااور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کاقریبی دوست اب اس کے حریف کادفاعی ساتھی بن گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کی آرا مختلف ہیں، لیکن یہ طے ہے کہ پاکستان ایک نئی اوربلند پوزیشن پرکھڑا ہو گیا ہے۔ البتہ یہ رائے بھی اپنی جگہ موجودہے کہ یہ معاہدہ ہرجنگ کو روکنے کا ضامن نہیں ہوگامگرسفارتی توازن میں پاکستان کے پلڑے کویقینابھاری کردیاہے اورمئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعدمودی کی یہ شکست فاش ان کے سیاسی کیرئیرکے برے انجام تک پہنچاکر دم لے گی۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں