کتاب کو علم و حکمت کا خزانہ کہا گیا ہے۔اس سے فکر کو جلا ملتی ہے۔کتاب ہی ہے جس سے سوچ کو وسعت ملتی ہے جبکہ اس کے مطالعہ سے انسان کی شخصیت میں نکھار آتا ہے۔جس کے سبب وہ تمام تر فضولیات سے بچ کر زندگی کے اصل مقصد کی طرف مائل ہوتا ہے۔کتاب علم کا وہ اثاثہ ہے جو ہمیشہ ہر ایک کے لیئے امید کا محور بنتا ہے۔
دورِ جدید میں انٹرنیٹ اور موبائل فونز کی وجہ سے نوجوان کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں جبکہ کتابوں سے دوری بعض معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کا باعث بن رہی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو کتب بینی کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔میری زندگی کا حاصل یہی ہے کہ کتابوں سے محبت کسی صورت بھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ کتابیں ہی ہیں جو دماغ کو اچھی سوچ اور تخیل کو پرواز دیتی ہیں۔جدید دور میں ہمارے علم کو تقویت یا وسعت دینے کے بہت سے ذرائع اور وسائل موجود ہیں لیکن یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کتابوں کی لازوال اہمیت اور افادیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔انٹرنیٹ کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک میں کتابیں پڑھنے کا رجحان اب بھی کم نہیں ہوا اکثر گھروں میں مختلف نوعیت کی کتابوں کا بہت سا ذخیرہ ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کتابیں ان کی ضروریاتِ زندگی میں شامل ہیں۔بعض دانشوروں کی جانب سے کتابوں کو عجائبات کی دنیا بھی کہا گیا ہے۔جب ہم اپنی پسند کی کتاب پڑھتے ہیں تو ایک خیالی دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں جبکہ نئی چیزوں کو پڑھنے اور سیکھنے میں بھی مگن ہوتے ہیں۔جن لوگوں میں پڑھنے کی عادت ہے وہ کتابوں میں کافی دلکشی محسوس کرتے ہیں۔ایک اچھا اور باذوق قاری لفظی طور پر دنیا کی کسی بھی چیز پر کتابوں کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ ایسے شخص کے لیئے کتابوں کی قدرو قیمت لوگوں کے خیالات سے اوپر ہوتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کے شوقین جب کتابیں جمع کر رہے ہوتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خوشیاں جمع کر رہے ہیں۔ہر کتاب ایک جادوئی ڈبہ ہے جس کے لمس سے ہم خزانے کھول سکتے ہیں۔کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے شروع ہی سے اپنا تعارف الکتاب کے نام سے کرایا۔قرآن کا پہلا استعارہ اقرا ہے۔دوسری بہت سی حکمتوں کے ساتھ ساتھ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ کتاب سے تعلق پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید کا نام الکتاب رکھا۔جس کا مطلب ہے علم کی طرف بیداری کی علامت-امریکہ کی یونیورسٹی آف میڈیکل سنٹر کی تحقیق کے مطابق جو بالغ افراد تحقیقی یا ذہنی سرگرمیوں میں وقت گزارتی ہیں ان میں مطالعہ نہ کرنے والوں کے مقابلے میں بڑھاپے یا درمیانی عمر میں ذہنی تنزلی کی شرح 32% کم ہوتی ہے۔اسی طرح الزائمر کا مرض ان لوگوں میں ڈھائی گنا کم پایا جاتا ہے جو کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں یا ایسی سرگرمیوں میں خود کو مشغول رکھتیہیں۔ہر روز پڑھیں، وہ کچھ جو کوئی اور نہیں پڑھ رہا ہے۔ سوچیں،ہر روز وہ کچھ جو کوئی نہیں سوچ رہا ہے۔ہر روز ایسا کریں،جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔کتابیں کھلتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں گم ہو گئے ہیں اور ہمیں ایک انجانی سی خوشی مل رہی ہے۔
امریکہ، جاپان، چین، برطانیہ، پیرس، کینیڈا، آسٹریلیا،اٹلی اور فرانس کے علاوہ دنیا میں 28 سے زائد ممالک ایسے ہیں جہاں کتابیں سب سے زیادہ فروخت کی جاتی ہیں‘لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ممالک میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں علم و ادب سے دوری دنیا بھر میں مسلمانوں کو رسوا کر رہی ہے اور وہ بے توقیر ہو رہے ہیں۔پرانے دور کے دانا کہا کرتے تھے کتابوں کے ساتھ رشتہ جڑا رہنے سے دماغ کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔لیکن آج کی نوجوان نسل اس پر عمل نہیں کرتی۔یہ کتابیں ہی ہیں جن کی بدولت نئی نئی ٹیکنالوجی اور ادب کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے جبکہ کتابیں اور زندگی کے تجربات ہر کسی کی زندگی کے لئے بہت فائدہ مند ہیں۔کتابیں ہماری دوست ہی نہیں، ہماری استاد بھی ہیں۔یہ انسانی زندگی کو بدلنے اور اس کی تعمیر و تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی دنیا کی ایک بہت بڑی تعداد کتابوں کے مطالعے کی شوقین ہے۔لوگوں کے اس شوق کو برقرار رکھنے کے لیئے بہت سے ادارے مختلف طرح کی کتابیں شائع کر رہے ہیں۔ان اداروں کا بنیادی مقصد عوامی رہنمائی اور معاشرے کی تشکیل و بقاء کے لئے کام کرنا ہے۔ہمیں ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے جو اس مشکل وقت میں بھی کتابیں چھاپنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ابھی تک کتاب اور کتاب بینی کے حوالے سے کوئی ایسی مہم دیکھنے میں نہیں آ رہی جس سے کتاب کی اہمیت کا احساس ہو۔جب تک ہم اس سمت قدم نہیں بڑھاتے۔یہ توقع عبث ہے کہ ہم مثالی اور باکردار قوم بن سکیں۔دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں،آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کتاب سے محبت کرنی ہو گی۔مطالعے کی عادت ڈالنی ہو گی۔ مطالعے کے بغیر دنیا کی تسخیر کا خواب، خواب ہی رہے گا۔