Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عہد نوکاسنگِ میل

(گزشتہ سے پیوستہ)
وزارتِ خارجہ نے ایک محتاط بیان دیاہے کہ وہ اس معاہدے کے مضمرات کامطالعہ کرے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بیان میں طاقت نہیں بلکہ اندرسے خوف واضطراب اورکمزوری جھلکتی ہے۔یہ اس عاجزانسان کی مانندہے جوطوفان کودیکھ کرمحض اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ یہ اعلان گویاایک مدافعانہ اورمنافقانہ رویہ ہے،جواپنی کمزوری کو چھپانے کی کوشش کر رہاہے۔
کنول سبل،انڈین سابق سیکرٹری خارجہ نے صاف کہاکہ اب ہندوستانی اس معاہدے کومحض کاغذی نہیں سمجھتے۔سعودی فنڈزاب پاکستانی فوج کومزیدمضبوط کریں گے۔یہ بات دہلی کے لئے سب سے بڑااندیشہ ہے،کیونکہ پاکستان کی فوج پہلے ہی دنیاکی ایک منظم اور تجربہ کارفوج ہے۔اگر سعودی سرمایہ کاری اوروسائل اس کے ساتھ مل جائیں توخطے میں طاقت کانقشہ ہی بدل سکتاہے۔ دراصل دہلی کے اس اندیشے کااعلان ہے کہ پاکستان خطے میں ایک عملی طاقت کے طورپرابھر رہاہے اوراسرائیل کے خلاف عربوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کاامکان ہندوستان کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔
یہ معاہدہ محض موجودہ لمحے کانہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کاآئینہ دارہے۔یہ معاہدہ محض ایک آغاز ہے،انجام نہیں۔اس کے ممکنہ اثرات یہ ہوسکتے ہیں کہ پاکستان،ترکی اورچین کی مثلث مزیدمضبوط ہوگی۔ اگرپاکستان،ترکی اورچین جیسے ممالک خلیجی دنیاکے ساتھ کندھے سے کندھاملاکر کھڑے ہو گئے توہندوستان کے لئے اپنی حیثیت برقراررکھنامشکل ہو جائے گا۔عرب دنیاپاکستان کواپنامحافظ سمجھے گی،اوردہلی کے لئے ان کے دروازے بندہونے لگیں گے۔مزیدیہ کہ سعودی عرب کی قربت پاکستان کونہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی محاذ پر بھی مستحکم کرے گی۔یہی وہ بات ہے جوہندوستان کے لئے سب سے بڑی پریشانی کاسبب بنے گی۔اگرخلیجی ممالک ایک اجتماعی دفاعی ڈھانچہ قائم کرلیتے ہیں توہندوستان کی خطے میں موجودگی محض تماشائی کی حیثیت اختیارکرجائے گی۔
چین نے مغربی ایشیاء میں محض تجارت نہیں، بلکہ ایک ایسے ڈھانچے کی تعمیرکابیج بویاہے جو سفارت، تجارت اورڈِپلومیسی میں تیز رفتاری سے پھل پھول رہا ہے۔ چینی سیاست کا مرکزی فلسفہ ہمیشہ پرامن ترقی رہا ہے۔ بیجنگ نے اپنی عسکری طاقت کی بجائے معاشی قوت کوبطورہتھیاراستعمال کیا،اوریہی اس کی اصل قوت بھی ہے۔بیجنگ نے سعودی-ایران مفاہمت میں ثالثی کرکے اپنے آپ کو وسطِ میدان پرکھڑاکیاایک ایسا کردار جواضطراب کوکم کرکے اس خطے کوچین کے عالمی اقتصادی دھاگے سے باندھتاہے۔یہ عمل محض صلح صفائی نہیں بلکہ اثرورسوخ کانرم مگرمستقل اضافہ ہے۔چین اب خطے میں امن کامترجم بھی نظرآتا ہے اورسرمایہ کاری کاسب سے بڑاواسطہ بھی۔
چین نے اپنے تجارتی انفراسٹرکچروژن کے ذریعے خودکوایک لازم وملزوم قوت کے طورپرمنوایا ہے جوکسی تنازعہ میں بروقت مفاہمت کروابھی سکتاہے اوربحران میں اپنی معیشتی چھتری بھی فراہم کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبلِ مغربی ایشیاء میں چین کا کردار غیرمتکلم طاقت نہیں بلکہ فعال ، باضابطہ اورمستقل اتحادی کے طورپرابھرتا دکھائی دیتاہے۔چین نے حالیہ برسوں میں نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کومضبوط کیاہے بلکہ ایران کے ساتھ صلح کرانے میں بھی فیصلہ کن کرداراداکیا۔یہ قدم صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوشش نہ تھابلکہ دنیاکویہ پیغام دیناتھاکہ اب امن کی ثالثی واشنگٹن کے ہاتھ سے نکل کربیجنگ کے حصے میں آ رہی ہے۔ ستقبل قریب میں چین مغربی ایشیاء میں دورخوں سے طاقتورہوگا۔
سرمایہ کاری اورتکنیکی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے،اور سفارتی ثالثی کے کردارکے ذریعے۔
اس کاسب سے بڑااثریہ ہوگاکہ خلیجی ممالک کی سلامتی کیلئے صرف امریکاپرانحصارکم ہوگااوروہ چین کو بھی اپنے سرپرست کے طور پر دیکھنے لگیں گے۔چین اورایران کے درمیان25 سالہ اسٹریٹجک تجارتی معاہدہ ہوچکاہے، جس کی مالیت اربوں ڈالرہے۔اس معاہدے نے ایران کے ساتھ ہندوستان کی سرمایہ کاری اورتجارتی اثرکو کمزور کردیا،کیونکہ دہلی امریکی دبائو کے باعث اپنی منصوبہ بندی آگے نہ بڑھاسکا۔
چین اورسعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری اورتکنیکی شراکتیں محض افسانوی دعوے نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہیں۔سعودی عرب میں بھی چین تیزی سے جگہ بنارہاہے۔نیوم سٹی، توانائی ،تیل کی پروسیسنگ ، اورخاص طورپرریلوے اورجدید انفراسٹرکچر میں چین کی فنی مہارت سعودی حکومت کی اولین ترجیح بنتی جا رہی ہے۔ ولی عہدمحمد بن سلمان کے سعودی ویژن 2030ء کا ایک بڑاحصہ چینی سرمایہ اور مہارت پراستوارہے اور2025-2024ء کے دوران چینی اداروں کوسعودی انفراسٹرکچرکے اہم معاہدے ملے ہیںجس نے ریاض کوچینی فنی مہارت اورسرمایہ کیلئے کھول دیا۔اس پس منظر میں سعودی سرکار کا چین کے ساتھ ریلوے اورقومی انفراسٹرکچر کی بات چیت کرنا، محض لفظی گزرگاہ نہیں بلکہ تکمیل کے لئے عملی سطرنقشہ ہے۔ یوں سعودی عرب کی داخلی ترقی اور بیرونی سلامتی دونوں میں چین ایک لازم وملزوم کردار بن چکاہے۔ہندوستان کیلئے یہ ایک بڑی سفارتی ناکامی ہے کیونکہ جس مقام پروہ اپنے لیے اقتصادی مواقع دیکھ رہاتھا، وہاں چین نے سبقت لے لی ہے۔
یہ بھی لازم ہے کہ چین کاسرمایہ محض مواصلاتی تعمیرات اورراستوں تک محدود نہیںوہ ڈیجیٹل، توانائی اورلاجسٹکس میں بھی داخل ہورہاہے،جس کا اثریہ ہوگا کہ سعودی معیشت کی تہہ میں چین کانقش گہراہوتا جائے گااورجب فوجی یاسکیورٹی معاہدے بھی سامنے آئیں، تویہ اقتصادی وابستگی سیاسی وسکیورٹی فیصلوں میں وزن ڈال سکتی ہے۔
چابہاربندرگاہ ہندوستان کیلئے ایک اسٹریٹجک گوہرکی حیثیت رکھتی تھی،کیونکہ یہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک دہلی کی براہِ راست رسائی کا ذریعہ تھی۔حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ انڈیاکوایران کے چابہاربندرگاہ کے سلسلے میں جو سابقہ استثنادیتی رہی تھی،اسے واپس لینے کااعلان کیا ہے ۔یہ فیصلہ29ستمبر(نوٹس کے مطابق) سے مؤثرہوگا لیکن اب اس استثناکے واپس لینے سے پہلا تجارتی رسداورلاجسٹک نقصان یہ ہوگاکہ ہندوستان اب اس بندرگاہ کے ذریعے افغانستان تک رسائی برقرار نہیں رکھ پائے گااوراسے ورچوئل متبادل راستے جولمبے اور مہنگے تلاش کرنے ہوں گے جوبھارتی تجارت کی کمرتوڑکررکھ سکتے ہیں۔
چابہارمنصوبہ دہلی کے اس خیال کاجزتھاکہ ایران کے ساتھ بندرگاہی تعاون کے ذریعے افغانستان تک تجارتی اورسماجی اثرکو مضبوط کیاجائے ؛ استثناختم ہونے سے دہلی کی اس علاقائی رسائی اوراثررسوخ کمزور پڑ سکتا ہے۔امریکاکی یہ پالیسی تبدیلی دہلی کے لئے دور اندیشی کاسبب ہے جویہ ظاہرکرتی ہے کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے مطابق استثناواپس لے سکتاہے اور لہٰذانئی سفارتی حکمتِ عملی یامتبادل اتحادی تلاش کرنا بھارتی خارجہ پالیسی کے سامنے ضروری بن جائے گا جس کے لئے مودی نے چین یاتراسے حاصل کرنے کی ممکنہ کوشش توکی لیکن وکٹری پریڈ سے دوررکھ کرمودی کے دورے کی ناکامی سامنے آگئی ہے۔
سیاسی نقصان یہ ہے کہ یہ فیصلہ ظاہرکرتاہے کہ واشنگٹن دہلی کے ساتھ تعلقات کوہمیشہ اپنی شرائط پررکھتاہے۔اس سے ہندوستانی سفارتکاری کودھچکا لگا ہے اوردہلی کوسٹریٹجک نقصان یہ ہوگاکہ جو حکمتِ عملی وسطی ایشیامیں اثرورسوخ بڑھانے کی تھی،وہ اب کمزور پڑ گئی ہے،جبکہ ایران مزیدچین اورروس کی طرف جھک گیاہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں